تحریر: عاشق حسین قیصرانی
ہر سیاست دان کی پہلی اور آخری خواہش یہی ہوتی ہے کہ میں پاور میں رہوں اور ہر وقت اسے دھڑکا لگا رہتا ہے کہ یہ پاور کہیں مجھ سے چھن نہ جائے اس کے لئے وہ ہر وقت ذہن میں منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے. مردم شماری کے بعد وہ چاہتا ہے کہ حلقہ بندی میرا حلقہ میری مرضی کا ہو اور وہ اس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے اسی طرح اگر کوئی نیا ضلع بن رہا ہو تو اس کے لئے بھی ہر سیاستدان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ حد بندی میری مرضی کے مطابق ہو۔ ہواﺅں کا رخ اور اسٹیبلشمنٹ کا مزاج دیکھ کر وہ ہر وقت پارٹی بدلنے کو تیار رہتا ہے۔ پاور کے حصول کے لئے رشتہ ، تعلق، ذات ، برادری قاعدے قانون ضابطے کسی چیز کا خیال نہیں رکھتا اور سب کو پھلانگ کر اوپر جانا چاہتاہے اور سلطان گولڈن کی طرح بڑے بڑے جمپ لگاتا ہے۔
اب آتے ہیں ہم اصل موضوع ضلع تونسہ کی جانب 2013کے الیکشن میں بزدار سردار اور خواجہ شیراز محمود دونوں الیکشن ہار گئے تھے۔ اور انہوں نے ہار کا مزہ چکھ لیا تھا 2018کے الیکشن میں جیت کے لئے دونوں بے قرار تھے دونوں نے مل کر الیکشن مہم چلائی اور عوام سے کئی دلفریب وعدے کئے جن میں سب سے مقبول نعرہ ضلع تونسہ کا تھا۔ کامیاب ہونے کے بعد جب سردار عثمان بزدار سی ایم پنجاب بن گئے تو لوگوں نے ان سے بڑی امیدیں وابستہ کر لیں اور لوگوں کا خیال تھا کہ پیر اور سردار دونوں آسمان سے تارے توڑ کر لائیں گے مگر سادہ لوح عوام کو کیا خبر کہ پیر اور سرداردونوں انا کی جنگ میں الجھ کر رہ جائیں گے اور عوام منہ تکتے رہ جائیں گے۔ حلقہ کی عوام نے اس پورے اقتدار کے دوران ان دونوں کی لڑائی کو برداشت کیا اب جب ضلع تونسہ کا قیام کا وقت آیا تو پھر دونوں کے مفادات آڑے آگئے اور دونوں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہیں حد بندی کا مسئلہ ہے تو کہیں وہوا تحصیل آڑے آرہی ہے لیکن عوام تاریخ پر تاریخ سنے کو تیار نہیں اور انھیں صرف ضلع تونسہ کا نوٹیفیکشن چاھیے۔۔ دونوں کے تیز مخبر فیس بک پر بیٹھے ترجمان یا دانش ور وضاحتیں دے رہے ہیں۔ مگر کوئی انہیں سننے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ دونوں اپنے اپنے مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ضلع تونسہ میں تاخیر کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید ری ایکشن آرہا ہے۔ شاید پیر اور سردار کو سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ نہیں یہی سوشل میڈیا ہی تھا کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں کئی حکومتوں کے تختے الٹ دیئے اس طرح سوشل میڈیا کلمہ چوک پر احتجاج کررہا ہے دوسری طرف سول سوسائٹی بھی پیش پیش ہے۔ جماعت اسلامی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کلمہ چوک پر احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے۔ اور تونسہ کی صحافی برادری بھی ضلع تونسہ کے حوالے سے پیش پیش ہے۔اگر تونسہ ضلع نہ بنا تو الیکشن میں نمائندوں کو شدید ریکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ریتڑہ مسائل ہی مسائل۔۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
ضلع تونسہ کے سیاسی اثرات
- اگر ضلع تونسہ بن گیا تو اس کا ہیڈ کوارٹر تونسہ ہو گا اور اس میں بیوروکریسی پر خواجگان کا زیادہ اثر ہوگا
- بلدیاتی سیاست میں ضلع تونسہ کا میئر کوئی نہ کوئی خواجہ ہوگا۔ جب کہ ضلع ناظم کی سیٹ کے لئے خواجگان ،بزدار، قیصرانی اور ملغانی امیدوار ہوسکتے ہیں اسی طرح تحصیل کونسل تونسہ کی سیٹ کے لئے بھی خواجگان تونسہ قیصرانی، ملغانی اور بزدار ایک دوسرے کے مد مقابل ہونگے۔
- تحصیل کوہ سلیمان کے خدو خال ابھی تک واضح نہیں نوٹیفیکیشن کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اس کی حد بندی کہاں تک ہے اور وہاں پر عثمان بزدار جیسی مضبوط شخصیت ہی تحصیل نظامت کے لئے کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
تحصیل وہوا:
اگر ضلع تونسہ کے ساتھ نوٹیفیکیشن میں اس کا ذکر نہ ہوا تو خواجہ شیرازکو کئی سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ اور ذہنی طور پر لوگ سوال کرنےکے لئے تیار ہوچکے ہیں مٹھائیاں بھی تقسیم ہوگئی ہیں لوگ کہتے ہیں کہ خواجہ شیراز نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہوا تحصیل کا نوٹیفیکیشن میں ضرور ذکر ہو گا۔ اگر اس کا ذکر نہ ہوا تو لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے خواجہ صاحب اس وقت پی ٹی آئی میں کس مقام پر ہیں۔ اور انکے ساتھ کس کے ساتھ تحصیل وہوا کا وعدہ کیا۔ جو وفا نہیں ہوا۔ بظاہر نظر یہی آرہا ہے۔ ضلع تونسہ کے قیام سے سردار عثمان بزدار خسارے میں رہیں گے لیکن وہ اس قیام سے پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر ضلع اس وقت نہ بنا تو پھر قیامت تک نہیں بنے گا اور سارا الزام مجھ پر آئے گا۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت میں پی ٹی آئی میں جس مقام پر ہوں کوئی ایم پی اے ایم این اے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ہمارے ذرائع کے مطابق منگل تک ضلع تونسہ کا نوٹفیکیشن ہو جائے گا۔ اور ہم 22والی پل سے ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں سردار عثمان خان کو تونسہ لائیں گے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا ضلع تونسہ کے آنے والے ڈی سی او کا نام بھی اسد چانڈیہ ہوگا۔ایک اور ذرائع کے مطابق نوٹیفیکشن تو کروا لیں گے لیکن جلوس کے ساتھ تونسہ شہر آنا ان کے مزاج کے خلاف ہوگا اس ذرائع کی خبر کے باوجود مجھے یقین نہیں آرہا کہ پی ٹی آئی خواجہ شیراز کو کس طرح بند گلی میں دھکیل دے گی۔جب کہ خواجہ شیراز کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا تھا کہ ضلع تونسہ حد بندی کی وجہ سے رکا ہوا تھا ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اگر سیمنٹ فیکٹریاں ضلع تونسہ کی حدود میں آجائیں تو ہمیں خوشی ہو گی اور پرویز الٰہی نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ اگلے ہفتے ضلع تونسہ کا نوٹیفیکیشن جاری ہوجائے گا۔ جس میں تحصیل وہوا بھی شامل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: تونسہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں؟۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
ضلع ڈیرہ کی سیاست پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے؟
لغاری اور کھوسہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ الگ ضلع تونسہ بن جائے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اس کے قیام کی مخالفت کی ہے اس سے ان کی سلطنت چھوٹی اور کمزور ہوجائے گی قیام پاکستان سے لے کر اب تک ضلع ناظم یا چیئرمین کوئی لغاری یا کھوسہ ہی رہا ہے تونسہ والوں کے مقدر میں ہمیشہ نائب نظامت ہی آتی رہی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان امجد خان کھوسہ کا ہوگا تحصیل تونسہ کی سیٹوں کی وجہ سے ہی ڈیرہ غازیخان کی نظامت تک پہنچ پاتے تھے۔ ضلع تونسہ کی صورت میں لغاری ضلع کونسل چیئرمین شپ آپ گرفت رکھیں گے کیونکہ کوئی کھوسہ انکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ضلع ڈیرہ غازیخان میں رہائش پذیر تونسہ شریف کے شہریوں کی رائے ہے کہ وقتی طور پر تونسہ کے باسیوں کو ملازمتوں کے لئے بہت سے مواقع میسر آئیں گے جو کہ بعد میں ختم ہوجائیں گے کیونکہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں سیٹیں زیادہ ہوتی تھیں اور ان کا زیادہ تر حصہ تونسہ والے لے جاتے تھے۔ بعد ضلع تونسہ میں ملازمت کے مواقع کم ہو جائیں گے۔
ضلع تونسہ کے قیام سے عوام کو کیا فائدہ ملے گا؟
۱۔ پی ایف سی کے ڈائریکٹ فنڈ ملیں گے اس سے پہلے ہم ڈی جی خان کے مرہون منت تھے۔ تمام محکموں کے دفتر یہاں قائم ہونگے لوگوں کا پیسہ اور وقت بچے گا۔
۲۔ ڈی پی او اور ڈی سی اوکے دفاتر یہاں قائم ہونگے لوگ حصول انصاف کے لئے آسانی سے رابطہ کرسکیں گے۔
۳۔ اکاﺅنٹ آفس یہاں پر ہوگا، تنخواہ اور پنشن جی پی فنڈ کے مسائل یہاں پر حل ہونگے۔
۴۔ عدلیہ سمیت تمام محکموں کے ای ڈی اوز بھی تونسہ میں ہونگے۔
۵۔ روز گار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے
۶۔ تونسہ کے ڈومیسائل کی اہمیت بڑھ جائے گی بلکہ اس کا درجہ بلوچستان کے ڈومیسائل کے برابر ہوگا۔
۷۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلع ناظم کا تعلق تحصیل تونسہ سے ہوگا۔
آخر میں خدا کرے ضلع تونسہ بن جائے اگر ایک ہفتہ تاخیر ہوئی تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا کیونکہ عمران خان نے احتجاج کی کال دی ہوئی ہے پتہ نہیں پنجاب اسمبلی اور کے پی کے کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔ بہر حال جس طرح اکھاڑے میں کشتی کے بعد ہارنے اور جیتنے والے دونوں پہلوانوں کو اپنا حمایتی کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اسی طرح ضلع تونسہ کے نوٹیفیکیشن کے بعد سردار عثمان کے حمایتی ان کو کندھے پر اٹھائیں گے جب کہ خواجہ شیراز کے حمایتی ان کو کندھے پر اٹھائیں گے اگر ضلع تونسہ نہ بنا باقی نئے قائم ہونے والے چار اضلاع کی عوام یہی کہے گی کہ بد بخت لوگ ہیں ان کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترمن چیک پوسٹ۔۔۔ تحریر: عاشق حسین قیصرانی


0 تبصرے