لیہ
تونسہ پل، تاخیر کا ذمہ دار کون؟
تحریر:
فاروق شہزاد ملکانی
لیہ
تونسہ پل کا سنگ بنیاد 2017 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے
جلسہ لیہ کے موقع پر رکھا تھا اور عوام کو تین سال میں تکمیل کے خواب بھی دکھا
دیئے تھے۔ پل پر تیزی سے کام شروع ہوا تو لگتا تھا کہ جس پنجاب سپیڈ کا چرچا پوری
دنیا میں سنائی دیتا ہے وہ یہاں بھی دکھائی جا رہی ہے اور عوام قبل از وقت تکمیل
کی آس لگا بیٹھی۔ لیکن پھر کیا ہوا کہ عوام کی امیدیں بکھرنے لگیں۔ پہلے تو پاناما
لیکس کا طوفان کھڑا کر کے اقامے پر سزا سنا دی گئی اور میاں نواز شریف کو
مسنداقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا۔ پھر 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر جمہوریت اور
جمہور کے ساتھ ساتھ ارض پاکستان کا بھی بھٹا بٹھا دیا گیا۔ جو کام 100 کی رفتار سے
تکمیل کی جانب گامزن تھے ان میں سے اکثر کی رفتار 10 تک لے آئی گئی۔ بہت سے کاموں
پر کام بند بھی کر دیا گیا۔
لیہ
تونسہ پل پر بھی کام کی رفتار کو دھیما کر دیا گیا۔ پل کی تعمیر کا کام 2019 میں
مکمل ہونا تھا وہ 2020 میں مکمل ہوا۔ اس دوران سپربندوں اور دونوں اطراف سڑک کی
تعمیر کی منصوبہ بندی کی بجائے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ تازہ ترین صورتحال تو
یہ ہے کہ پل تو جوں توں کر کے دو سال قبل مکمل ہو گئی مگر دو سال گزرنے کے باوجود
سپر بندوں اور سڑک کی تعمیر ابھی تک شروع نہ ہو سکی۔
لیہ
تونسہ پل کی تعمیر کے حوالے سے دونوں اطراف کے عوام نے جو ڈھیر سارے سہانے خواب
دیکھ رکھے تھے وہ اب ڈراؤنے خواب کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ عوام جنہوں نے
آسانیوں اور خوشحالی کی نئی منزلیں من ہی من میں تراش رکھی تھیں اب بکھرتی جا رہی
ہیں۔ عوام میں مایوسی اور احساس محرومی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ عوام کی زبان پر ایک
ہی سوال ہے کہ ان کا قصور بتایا جائے کہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا جاتا
ہے۔ عوامی فلاح کے منصوبوں کو طویل تاخیر کا شکار کیوں کیا جاتا ہے؟
عوام
یہ بھی پوچھتی نظر آتی ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا سبب کیا ہے؟ کون ہے
جو اس منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ موجودہ حکومت جو اپنی تمام تر نااہلی
کی ذمہ داری سابقہ حکومت ڈالتی آئی ہے کیا اس منصوبے میں تاخیر کو بھی سابقہ حکومت
کا کارنامہ قرار دے گی یا اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت اپنے سر لینا چاہے گی۔
سردار
عثمان احمد خان بزدار کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے بعد عوام نے خوشیوں کے
شادیانے بجائے تھے۔ تحصیل تونسہ کے عوام نے ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کر ڈالا تھا۔
عوام نے عثمان خان بزدار سے بہت سی امیدیں وابستہ کر دی تھیں جو اب ٹوٹنا اور
بکھرنا شروع ہو گئی ہیں۔ وہ تحصیل تونسہ کیلئے اب تک کوئی بھی میگا پروجیکٹ لانے
میں ناکام رہے ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں۔ نیتوں کے حالات اللہ تعالیٰ
جانتا ہے مگر تحصیل تونسہ کے عوام ان سے مایوس ہو چکے ہیں۔
عوام
اب ڈھکے چھپے انداز میں اپنی پسماندگی اور لیہ تونسہ پل سمیت دیگر منصوبوں کی
تکمیل میں تاخیر کا ذمہ دار بھی عثمان خان بزدار کو ٹھہرا رہے ہیں۔
اب
تک یہ باتیں صرف نجی محفلوں میں کی جا رہی ہیں مگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ
باتیں ہر کوئی سرعام کرے گا اور پھر ایسا طوفان اٹھے گا کہ اللہ امان
وزیراعلیٰ
پنجاب سرادر عثمان بزدار اگر واقعی اپنے علاقے کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو لیہ
تونسہ پل منصوبے کی فوری تکمیل کیلئے اقدامات اٹھائیں اور عوام کو جلد از جلد اس
منصوبے سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے آنے والے وقتوں
میں تاریخ کا سنہری باب بننے کا موقع فراہم کیا ہے اب یہ ان پر ہے کہ وہ اپنا نام
تاریخ کے صفحوں پر سنہری حروف سے لکھوانا چاہتے ہیں یا بدنما داغ کے طور پر بکھرنا
چاہتے ہیں۔
برائے رابطہ اردو ورلڈ
اپنی خبروں ، مراسلات، مضامین اور اشتہارات کی اشاعت کیلئے
923337399988+ پر وٹس ایپ کریں یا
پر ای میل کریں۔

0 تبصرے