افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کا مقدر کا ستارا
یوں تو افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم وتربیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ چونکہ افراد کی ساری زندگی کی عمارت اس بنیاد پر قائم ہوتی ہے اور اقوام تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین، مقاصد حیات، تہذیب وتمدن، اور اخلاق کا اظہار کرتی ہیں۔
ہندوستان کی تاریخ میں خصوصاً مسلمانوں کی نشأۃ ثانیہ کا باب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک، ماہر تعلیم، مدبر، روشن خیال، بے خوف صحافی،موثر وفکر انگیز تحریر کے مالک، انشاء پرداز، بے لوث مجاہد ”سر سید احمد خان “کے اصلاحات کا خندہ پیشانی سے اعتراف نہ کرلیا جائے۔
سر سید ؔ اور ثقافتی تکثیریت:
ثقافت عربی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد کسی قوم یا طبقے کی تہذیب ہے۔ لغت کے مطابق ”ثقافت اکتسابی ارادی با شعور طرز عمل کا نام ہے۔اکتسابی طرز عمل میں ہماری وہ عادات، افعال، خیالات اور رسوم واقدار شامل ہیں جن کو ہم منظم معاشرے یاخاندان کے رکن کی حیثیت سے عزیز رکھتے یا عمل کرتے ہے۔
تکثیریت:
تکثیریت، کثرت سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی زیادتی، بہتات، فراوانی کے ہوتے ہیں اور جدید اصطلاحی معنوں میں مختلف تقاضوں، تہذیبوں، عادات واطوار، رویوں کا ایک وحدت میں ضم ہونے کو تکثیریت کہا جاتا ہے۔
گویا تکثیریت ایک ایسا نظریہ اور ذہنی رویہ ہے جو حقیقت میں ایک سے زیادہ تشریحات پر زور دیتا ہے۔ یہ بذات خود ایک بہت وسیع اصطلاح ہے۔
سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817 ء دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباء واجداد شاہجہاں کے عہد میں ”ہرات“ سے ہندوستان آئے۔ دستور زمانے کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل کی۔اس کے علاوہ یہ حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل کی۔ سر سید کے ہمہ جہتی اصطلاحات آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہیں۔ ان کی سوچ وفکر‘ فلسفہ تعلیم آج بھی ہماری رہنمائی کررہی ہے۔ ان کی علمی، ادبی، قومی، تعلیمی، ثقافتی خدمات کا اعتراف مختلف انداز میں مختلف ادیبوں نے ہر عہد میں کیا ہے۔مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندوستان کی حالت نہ ؤصرف سیاسی اعتبار سے خراب تھیں بلکہ ان کی تہذیب وتمدن (کلچر)طرز معاشرت کے لحاظ سے یہ ملک نہایت پستی کی حالت میں تھا۔ جب ہندوستان پر مسلمانوں کی آمد ہوئی تو اس ملک کو بھی اپنی اعلی ترین اصلاحات کی بدولت باعظمت اور با وقار بنادیا۔ انہوں نے یہاں سات سو برس تک حکومت کی۔ مسلمان فرمانروا اور ان کے امراء کے تمدنی کارنامے اس قدر عظیم ہے کہ ان کی بدولت ہندوستان اس زمانے کے مہذب ترین ممالک میں شمار ہونے لگا تھا۔ مسلمان ہندوستان میں نہ صرف سیاسی، معاشی اعتبار سے بلکہ اعلی تہذیب وتمدن اور مجاہدانہ خصوصیات کے اعتبار سے بھی سب قوموں سے زیادہ مہذب وممتاز قوم تھی۔ جب تک مسلمان حکمران حکمرانی کرتے رہے۔ قوم ترقی پذیر رہی اور ان کی یہ برتری ہندوستان میں صدیوں تک قائم رہیں۔
لیکن حکومت سے محرومی اور انگریزوں کی محکومی سے طرح طرح کی خامیاں ہونے لگیں۔اور یہاں تک کہ مسلمانوں کی زندگی میں بھی ثقافتی نقائص پیدا ہونے لگے۔جو ان کے زوال کا سبب بننے لگے اور ان میں سب سے زیادہ معاشی خرابیاں ہوئیں یہ سب خرابیاں سیاسی زوال سے ہی پیدا ہونے لگیں۔
مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کے بعد مسلمانوں کو انگریز حکمرانوں کے شدید مظالم، سیاسی غلامی، معاشی تباہی نے بے شمار مصائب ومشکلات میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ مصائب اتنی عام ہوگئی کہ معاشرہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ گنگا جمنی تہذیب میں ہندوؤں کے معاشرتی اثرات ان کے عقائد ورسوم ورواج توہمات طرز معاشرت نے مسلمانوں پر آہستہ آہستہ اتنا اثر ڈالا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا معاشرہ اسلامی خصوصیات کھو رہا تھا۔ بالآخر ہندوستان کا ثقافتی کلچر مجموعی اعتبار سے نیم وحشی ہوچکا تھا جس میں ذات پات، چھوت چھات، ستی کا رسم، لڑکیوں کا زندہ دفن کرنا (دختر کشی) جیسے غیر مہذب رواج نہ صرف رائج تھے بلکہ اسے عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مسلمان اپنے دور حکمرانی میں بھی ان فرسودہ رسومات کو پوری طرح ختم نہیں کرسکے تھے کیوں کہ انہیں مذہبی تا ئید حاصل تھی۔
چنانچہ ہندوستانی مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کے لئے پورے معاشرے کی اصلاح کرنا لازمی تھا۔ جس میں غیر اسلامی اثرات، رسوم ورواج نے معاشرہ کو بگاڑ دیا تھا۔ ذات پات کی تفریق، تعصب، عورتوں کی غلامی اور حق تلفی وغیرہ تھیں۔ اور اس زمانے میں مسلمانوں کو جن نظریات سے خطرہ تھا، وہ تھا انگریزوں کی سیاسی پالیسی۔
یہ سیاسی پالیسی مسلمانوں کے حق میں تباہ کن تھی۔ کیوں کہ انگریزمسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے اور ان کو یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی سلطنت کو حاصل کرنے کے لئے یہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اس لئے ٹیپو سلطان، حیدر علی، میر قاسم، سراج الدولہ جیسے بہادروں سے وہ خائف تھے اور انہیں اپنا دشمن سمجھتے تھے۔
غرض مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے انہوں نے ہندوؤں کی سرپرستی کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ منصوبہ مسلمانوں کے لئے نقصان دہ تھا۔ اس لئے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ اور انگریز یہ جانتے تھے کہ مغربی جمہوریت اور وطنی قومیت کے تصورات پر مبنی اکثریت کی حکومت کے نظریہ کو ہندوستان میں بھی بتدریج عمل میں لایا جائے گا۔
انگریزوں کے اس منصوبے نے اس کی بنیاد ی حقیقت کو نظر انداز کردیا تھاکہ ہندوستان میں ایک قوؤم نہیں بلکہ کئی قومیں آباد تھیں۔ اور ہندو‘ مسلمان اکثریت، اقلیت نہیں بلکہ ایک ہی قوم ہیں۔ انگریزاس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوؤں کی اکثریت مذہب پر مبنی ہے۔ اس لئے یہ دائمی اکثریت ہے۔ اور اگر اس مذہبی اکثریت کو سیاسی اکثریت قرار دے کر حکومت اس کے حوالے کردی گئی تو یہ عمل جمہوریت اور اس کے اصول ومقاصد کے خلاف ہے۔ اور یہ دائمی اکثریت کی یہ حکومت جمہوریت کے بجائے استعاری ہوگی اور ہندو اپنے مفاد کی خاطر انگریزوں کی اس سیاسی (چال) پالیسی کو غیر جمہوری طرزکو جمہوری قرار دیتے رہیں اس پالیسی کو روبہ عمل لانے کے لئے انگریزوں نے انڈین نیشنل (Indian National Congress)ادارہ قائم کیا۔ جس کی سرگرمیوں میں ہندو بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔
اس زمانے کے مسلمان جنہوں نے اس ملک پر سینکڑوں سال تک حکومت کی تھی۔ اس کے باوجود ان میں سیاسی شعور تھا نہ معاشی شعور تھا کہ وہ انگریزوں کی پالیسی اور اکثریت کی منصوبوں کو سمجھ سکے۔وہ مغربی نظام حکومت سے بھی نا واقف تھے۔ تاہم اس قوم میں کچھ ایسے لوگ جو غور وفکر کی صلاحیت رکھتے تھے وہ انگریزوں اور ہندوؤں کے منصوبے کو سمجھ کر جومسلمانوں کیلئے نقصان دہ تھا انہوں نے ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ سید امیر علی نے اپنی رائے دی کہ مسلمانوں کے لئے الگ سے ادارہ قائم کیا جائے۔انہوں نے اس ادارہ کا نام Mohammedan National Association محمڈن نیشنل اسوسی ایشن رکھا جس کا مقصد مرکزی کانفرنس منعقد کرکے مسلمانوں کی علیحدہ قوم ہونے کا اعلان اور سیاسی ومعاشی اعتبار سے حقوق الگ سے دینے کا مطالبہ کریں۔
سر سید بھی اپنی قوم کی بد حالی سے متاثر ہوئے تھے لیکن ان نا مساعی حالات میں وہ صبر واستقلال سے رہے۔ اور مایوسی پچھتاواکئے بغیر اپنی قوم کے زوال کے اسباب کا جائز ہ لیا۔اور ان کے مسائل کے حل کے اصلاح کرنے کا عزم اٹھایا اور میدان عمل کے لئے تیار ہوگئے۔ سر سید اپنی قوم کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والے محب وطن بالکل نہ تھے بلکہ وہ اپنی قوم کے ایسے ہمدرد وخیر خواہ تھے کہ وہ اپنی قوم کی بہ لوث اصلاحات کرنا زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ قوم کی یہ حالت دیکھ کر انہیں انتباہ دیا۔ اقتباس پیش ہے:
”افسو س!ہندوستان کے مسلمانوں ڈوبے جاتے ہیں اور کوئی ان کو نکالنے والا نہیں ہے۔ ہائے افسوس! وہ امرت تھوکتے ہیں اور زہر نگلتے ہیں۔ ہائی افسوس! وہ ہاتھ پکڑنے والے کا ہاتھ جھٹک دیتے ہیں اور اگر اس کے منہ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ اے بھائی فکر کرو اور جان لو کہ مسلمان کے ہونٹوں تک پانی آگیا ہے اور اب ڈوبنے میں بہت کم فاصلہ ہے“۔
(صفحہ نمبر 451۔452، تہذیب الاخلاق، سر سید کے مضامین، ملک فضل الدین)
سر سید انگریزوں سے تعاون اور ہندومسلم اتحاد کے حامی تھے۔انہوں نے انگریزوں سے تعاون مصلحت کے تحت کیا تھا لیکن مخالفین نے انہیں ”انگریز دوست“ کا الزام عائد کیا۔ سر سید کی مصلحت یہ تھی کہ 1857 ء پہلی جنگ عظیم اور مغلیہ سلطنت کے نتائج سے مسلمانوں کی طاقت کمزور پڑ گئی تھی۔ اور اب مسلمان انگریزوؤں جیسا ترقی یافتہ قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور اگر وہ ان کے خلاف ورزی کرنے سے آپس میں تصادم بڑھ جائے گا اور ان کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ لہذا بہتری اسی میں ہے کہ مسلمان انگریزوں سے خوشگوار تعلقات قائم کرکے ترقی کی راہیں ہموار کی جائے چونکہ موجودہ حالات میں قوم کا اہم مسئلہ یہی ہے۔گویا سر سید دور اندیش اور حقیقت پسند تھے۔چنانچہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ انگریزوں کے عہد حکومت میں مسلمانوں کو نہ صرف سیاسی ومعاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ ان کی ذہنی اور معاشرتی حالات اس قدر بگڑ رہی ہے کہ اگر حالات پر جلد قابو میں نہ کیا جائے تو اس ملک کے مسلمانوں اور اسلام دونوں خطرے میں پڑ جائیں گے۔ بالآخر سر سید نے ہمہ گیر اور وسیع اصلاح، سیاسی، معاشی، تحفظ دین، اخلاق، تعلیم، ثقافت غر ض یہ کہ زندگی کے تمام اہم شعبوں کوترقی دینا اپنا نصب العین بنالیا۔
قومی زوال کے اس نازک دور میں ہندوستانیوں کی خوش قسمتی سے سر سید جیسا عظیم مفکر، رہنما مل گیا۔ جس نے انہیں تباہی سے بچالیا اور ان کی اصلاحی سرگرمیوں نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کرلی۔اس طرح اس قدر ناموافق حالات میں بھی سر سید نے اپنے مقصد کو حل کرنے کے لئے اور معاشرے کی ہمہ جہتی اصلاح وترقی کے لئے ثابت قدمی سے کوشش کرتے رہے۔
کافی غو روفکرکرنے کے بعد سر سید نے یہ فیصلہ کیا کہ قوم میں انقلاب اس وقت پیدا ہوگا جب تک نئی نسل کو جدید تعلیم نہ دی جائے۔ اور کہا کہ ”سب کی جڑ یہی ہے کہ سب سے پہلے علم کے خزانوں کو اپنے قابو میں کیا جائے۔“اس وقت ہندوستان میں قدیم اور جدید دونوں قسم کی تعلیم رائج تھی۔ قدیم طرز تعلیم ناقص تھی اور جدید تعلیم کا نقصان یہ تھا کہ انگریز ی حکومت (سامراجی حکومت) کو تقویت پہنچانا تھا۔چنانچہ لا دینی تعلیم سے مسلمانوں کو یہ خطرہ تھا کہ اسلام کی بنیادی مقاصد اور اس کے اصول ونظریات سے دور ہوجائیں گے اوریہ لاعلمی مذہب کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ تصور کرنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی یا کینیڈا کی شہریت؟ کونسی زیادہ بہتر ہے؟
مسلمانوں کے برعکس ہندوؤں کو جدید تعلیم حاصل کرنا آسان اور مفید تھا۔ اور وہ اس سے مستفید بھی ہو رہے تھے چونکہ ہندو مذہب تو ہمات وبے جا رسومات کا پیکر تھا۔ زندگی کے مسائل، تہذیب، وتمدن سے انہیں کوئی سرورکار نہ تھا۔ لہذا ہندوؤں نے جدید تعلیم کو بہ آسانی سے قبول کرلیا تھا۔ سر سید قدیم اور جدید تعلیم کے تمام نقائص سے بخوبی واقف تھے اور اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ اگر مسلمان نئے علوم وفنون (جدید تعلیم) سے غافل رہے تو ذہنی، علمی، معاشی ترقی سے محروم ہوجائیں گے۔ اور تعلیم میں بھی ہندوؤں سے پیچھے رہ جائیں گے۔ ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ان تمام حالات کے پیش نظر سر سید نے کافی غور وخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو تمام جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام کی صحیح تعلیم اور زندگی کے اعلی اصول ومقاصد سے واقف کرایا جائے اور ملک کے سیاسی حالات سے بھی واقف کراجائے اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سرسید نے مسلمانوں کی تعلیم پر بھر پور توجہ دی۔ اور اپنے مقصد ونظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے علی گڑھ کالج قائم کیا جو ان کی اصلاحی تحریک کا مرکز بن گیا تھا۔
یوں تو ہندوستان کی تمام قوموں کو معاشرتی اصلاح کی ضرورت تھی۔ لیکن مسلمانوں کے معاشرے میں سب سے زیادہ خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ اور ان ہی کی اصلاح کرنا سر سید کا اولین مقصد تھا۔ قوم کی ثقافتی ترقی اور اس کی معاشرتی اور اقتصادی اصلاح کے لئے ایک خاکہ ترتیب دیا جس کے درجہ ذیل نکات ہیں اور مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی۔ جملہ 29 نکات ہیں:
(۱) آزادی رائے (۲) درسی عقائد ومذہب (۳) خیالات وافعال مذہبی (۴) تدقیق مسائل مذہبی (۵) تصحیح مسائل مذہبی (۶) تعلیم اطفال (۷) سامان تعلیم (۸) عورتوں کی تعلیم (۹) ہنر وفن وحرفہ (۰۱) خود غرضی (۱۱) عزت وغیرت(۲۱) ضبط اوقات (۳۱) اخلاق (۴۱) صدق مقال (۵۱) دوستوں سے رسم وراہ (۶۱) کلام (۷۱) لہجہ (۸۱) طریقہ زندگی (۹۱) صفائی (۰۲) طرز لباس (۱۲) طریقہ اکل وشرب (۲۲) تدبیر منزل (۳۲) رفاہ عورتوں کی حالت (۴۲) کثر ت ازدواج (۵۲) غلامی (۶۲) رسومات شادی (۷۲) رسومات غمی (۸۲) ترقی زراعت (۹۲) تجارت۔
سرسید کے اصلاحی پروگرام میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل تھی کیوں کہ وہ جانتے ہے کہ بیشتر خرابیاں جہالت اور غلط تعلیم کی پیدا کردہ ہیں۔ تعلیم کی نوعیت کو بدلنا اور اس کو ترقی دینا، دینی عقائد کو درست کرنا، اخلاق وعادات کو سنوارنا، تہذیب وتمدن وطرز معاشرت کی خرابیاں دور کرنا، فرسودہ رسوماتؤ کو مٹانا، عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا، اور ملی اخوت قومی اتحاد اور مذہبی رواداری کا احساس پیدا کرکے معاشرے میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنا،سر سید کی اصلاحی تحریک کے خاص مقاصد تھے اور اس کے حصول کے لئے انہوں نے بہت منظم جدوجہد کی۔
تہذیب الاخلاق:
سر سید نے مسلمانوں کی ترقی معاشرتی اصلاح کا جو منصوبہ بنایا اس کو عملی شکل دینے کے لئے تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کی اشاعت اور تمام اصلاحی مضامین مسائل کے متعلق شائع کرکے معاشرے کی اصلاح وترقی کی اہمیت سے لوگوں کا شعور اجاگر کرنے کے لئے ایک رسالہ جاری کیا۔ جس کو تہذیب الاخلاق کے نام جانا جاتا ہے جس کا مقصد سر سید اور ان کے ثقافتی تحریک کو پورا کرسکے۔
انگلستان میں قیام کے دوران ہی انہیں احساس ہوا تھا کہ رسائل وجرائد (Magzine) ترقی واصلاح کے کس قدر مفید ہے۔
”چنانچہ انہوں نے اس بارے میں محسن الملک کو لکھا تھا کہ ہندوستان پہنچ کر ایک اخبار خاص مسلمانوں کے فائدے کے لئے جاری کرنا میں نے تجویز کرلیا ہے۔ اور ”تہذیب الاخلاق“ اس کا نام فارسی میں ہے اور انگریزی میں ”محمڈن سوشیل ریفارمر“ (Mohammadun Social Reformor) رکھ لیا ہے۔ اس کا سر نام بہت خوبصورت ہے یہاں کھدوالیا ہے کاغذ بھی ایک برس کے لائق یہاں خرید لیا ہے اور یہ سب چیزیں یہاں سے بذریعہ جہاز بادبانی روانہ کردیں تاکہ میرے وہاں پہنچنے تک وہ پہنچ جائے۔اس اخبار میں بجز اس کے کہ خاص مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی بھلائی کے آرٹیکل ہوں گے اور کچھ نہیں ہوگا“۔
(صفحہ نمبر 73 سید راس مسعود خطوط سر سید)
اس طرح مسلمانوں کی تعلیمی حقوق کا تحفظ اور اسلامی افکار کی تشکل جدید تعلیم اور ثقافتی تکثیریت سر سید کے اصلاحی تحریکات کے بنیادی مقصد بن چکا تھا اس کے علاوہ معاشرہ کی خامیاں دور کرنے کے لئے انہوں نے رسوم ورواج طرز معاشرت میں اصلاح وترمیم، عورتوں کے حقوق کی حفاظت کو بڑی اہمیت دیئے تھے۔ اور مختلف فرقوں میں اتحاد کو لازمی سمجھا۔ جس سے ترقی پذیر معاشرہ کی تعمیر کیا جاسکے اور اردو زبان کو بھی سر سید مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کی اساس اور قومی اتحاد کی ضمانت تصور کرتے تھے۔ اس لئے اردو کی ترقی وترویج کو بھی انہوں نے اپنی تحریک میں شامل کرلیا ہے۔
سر سیدکا مقصد ہمہ گیر معاشرے کی اصلاح کا منصوبہ تھا جس کو عملی شکل دینے کے لئے انہوں نے منظم تحریک چلائی اور اس تحریک کو مستحکم بنانے کے لئے بدلتے حالات کے مطابق نئی نسل کو عمدہ تعلیم وتربیت دینے کے لئے ہی انہوں نے علی گڑھ کالج قائم کیا تھا۔وہی جدو جہد کا مرکز آگے چل کر Aligadh Muslim University علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کرلیا جو آج بھی کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔
سیاسی اعتبار سے سر سید کی تحریک کے نتائج نہایت اہم اور دو رس ثابت ہوئے اس کی بدولت مسلمانوں میں سماجی، سیاسی شعور بیدار ہوگیا اور یہ اپنے مستقبل کی تعمیر اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے سیاسی فیصلہ لینے کے قابل وخود مختار ہوگئے۔ انگریزوں کی غلامی کے بجائے مکمل آزادی کو ہندوستان کا نصب العین قرار دیا۔ اور یہ کامیاب تحریک ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گئی یہاں تک کہ انڈین نیشنل کانگریس اور ہندو رہنما بھی اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے۔اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا نظریہ پیش کرکے پورے ہندوستان پر ہندو اکثریت کی دائمی حکومت کا منصوبہ ناکام بنادیا۔
یہ بھی پڑھیں: خود کو بہتر بنانےکے5اہم اصول جوآپ کی زندگی بدل دیں گے۔
اس تحریک کو پھیلانے اور کامیاب بنانے کے لئے سر سید اور ان کے رفقاء نے بہت جدوجہد کی۔ ان میں سید مہدی علی‘ محسن الملک‘ مشتاق حسین‘ وقار الملک‘ خواجہ الطاف حسین حالی‘ نذیر احمد‘ چراغ علی‘ سید حسین بلگرامی‘ نواب محمد الحاق‘ برکت علی‘ خواجہ سلیم اللہ‘ سید محمد شبلی نعمانی‘عزیر مرزا وغیرہ نے نمایاں خدمات انجام دیں جن کے عزم وعمل نے تحریک کی جڑوں کو مضبوط کیا اور سر سید کی کوشش کامیاب ہوگئیں۔
جس نے برا انجام بچا کر پھر سے حسین آغاز دیا
پستی سے اک قوم نکالی اور ذوق پرواز دیا
علم کی راہ دکھائی سب کو، عظمت کا یہ راز دیا
اور زبان وادب کو ایک نیا انداز دیا
بلاشبہ سر سید احمد خان نے قوم کی تعمیر وترقی اور اصلاح کے لئے بہت محنت کیں۔ مختلف مراحل کا سامنا کیا جس میں کئی مشکلیں اور پریشانیاں بھی آئیں اور مخالفتیں بھی ہوئیں لیکن سر سید نے اپنے مقصد کو پورا کرنے میں استقامت کا ثبوت دیا۔
بہر حال سر سید اپنے آپ میں بے شمار خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ ان کی شخصیت میں کئی جہتیں اور صلاحتیں جمع تھیں یہ ان ہی کا کمال تھا کہ انہوں نے اپنی مختلف النوع صلاحیتوں سے اپنے عہد کے لوگوں کو فیضیاب کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایسے نقوش چھوڑے تھے کہ جن پر چل کر وہ تادیر کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر رواں دواں رہے۔
اے سر سید تیری عظمت کو سلام!
حالی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
تیرے احسان رہ رہ کے سدا آئیں گے ان کو
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہراہیں گے
تبسم آراء(لکھاری و
مضمون نگار " عثمانیہ یونیورسٹی حیدر
آباد (انڈیا) میں ریسرچ سکالر ہیں۔)


0 تبصرے