جام پور (نامہ نگار ) پاکستان پیپلز پارٹی ضلع راجن پور کے صدر سردار وقاص نوید گورچانی نے کہا ہے کہ پندرہ سے زائد بار حکم امتناعی اور جتنی مرضی ضمانتیں لے لیں فارن فنڈنگ سے ملکی سلامتی اور اداروں کے خلاف سازشیں کرنے والے بچ نہیں سکیں گے۔
چند آڈیوز کی وجہ سے عمران خان کے بیانیہ سے ھوا نکل گئی ھے۔ اور وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں این اے 157 کے عوام 16 اکتوبر کو ووٹ کی پرچی کے ذریعے عمران خان پر عدم اعتماد کا کھل کر اظہار کریں گے ان خیالات کا اظہار انہون صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ روٹین کے سائفر کو مرضی کے منٹس میں تبدیل کرکے امریکی سازش کا بیانیہ بنانا سفارتی سطح پر پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ وقت نے ثابت کردیا کہ ھم نے ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست کو پس پشت ڈالا گھناؤنی سازشوں،سیاسی ومعاشی عدم استحکام،اداروں اور عوام میں دوریاں پیدا کرنے کے لئے ھی عمران خان کو پاکستان دشمن عناصر نے بھی فنڈنگ کی جس کی تمام معلومات عوام تک پہنچ چکی ھیں۔
ملکی سلامتی،جمہوریت اور بنیادی عوامی حقوق کے لئے ھم نے جیلیں کاٹیں،جھوٹے مقدمات اور غیر موزوں عدالتی سزاؤں کا سامنا بھی کیا لیکن کبھی بد اخلاقی کی نہ اپنے کارکنان کو اس کی ترغیب دی۔ کیونکہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں نے بطور وزیر اعظم ملتان سمیت اس خطے کو اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس دئیے اور علی موسیٰ گیلانی اس تسلسل کو برقرار رکھیں گے۔ ضمنی انتخاب میں عوام پیپلز پارٹی کو اس لئے کامیاب کرانا چاہتے ہیں کہ امپورٹڈ پارٹی نے امپورٹڈ امیدوار کو میدان میں اتار کر یہ تاثر دیا ھے کہ وہ قومی اسمبلی میں جانا ھی نہیں چاھتے۔ ھر روز موسیٰ گیلانی کے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ھوتا چلا جارہا ہے۔تیر کا نشان عوام کی امنگوں کا ترجمان بن چکا ھے۔
یہ بھی پڑھیں: خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا کریڈٹ بلاول بھٹو کو جاتا ہے۔ خواجہ کلیم الدین کوریجہ
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ پاکستان کو سیاسی ومعاشی عدم استحکام پہنچانے کی گھناؤنی سازش ثابت ھوئی ھے۔ آڈیوز میں ثابت ھوا کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور اعظم خان نے ایک روٹین کے سائفر سے مرضی کے منٹس بنائے اور پھر اسے خط بناکر پوری منصوبہ بندی سے جلسوں میں لہرایا گیا۔ امریکی سازش کا بیانیہ تیار کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے اداروں کے خلاف بھی زھریلے ٹرینڈز چلوائے گئے لیکن اداروں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ تحریک انصاف والوں کو اچھی طرح ذھن نشین کر لینا چاہیے کہ عوام پاکستان،جمہوریت اور اداروں سے عشق کرتے ہیں۔ سیلاب ھوں یا زلزلے یا کوئی بھی قدرتی آفت آجاؤھم نے اداروں کے ساتھ ملکر ھمیشہ عوام کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔
فارن فنڈنگ سے شروع ہونے والی پاکستان کے خلاف سازش کا انجام مراسلہ کے ذریعے جاری ھے۔ جس تیزی سے تحریک انصاف کی مصنوعی مقبولیت بنائی گئی اسی تیزی سے یہ پارٹی غیر مقبول ھو رھی ھے۔ بیانیہ کی سازش دم توڑ چکی ھے اور عمران خان فیس سیونگ مانگ رھے ھیں۔ بیساکھیاں ھٹنے سے صوبائی حکومتیں ھونے کے باوجود پارٹی کا شیرازہ بکھر رھا ھے۔ تحریک انصاف میں کئی دھڑے بن چکے ھیں جو افراتفری کی سیاست نہیں چاھتے یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو ایک ایک شہر میں جاکر کارکنان سے حلف لینا پڑ رھے ھیں۔ جو اپنے کارکنوں اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد ہے صوبائی وزیر استعفے دے رھے ھیں۔پنجاب میں بھی کسی وقت بڑی تبدیلی آسکتی ہے کیونکہ پنجاب حکومت لااینڈ آرڈر اور ضلعی سطح پر آٹا،سبزیاں،فروٹ ودیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ثابت ھوئی ھے۔ مشکل فیصلوں کے بعد پی ڈی ایم حکومت ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ آنے والے دنوں میں عوام کو مزید خوشخبریاں ملیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ”سرسید ؔ اور ثقافتی تکثیریت“....تحریر: تبسم آراء


0 تبصرے