گزشتہ دنوں سب سے پہلے سوشل میڈیا اور اس کے بعد مین سٹریم میڈیا پر جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے ٹیچنگ ہسپتال اور میڈیکل یونیورسٹی نشتر ہسپتال ملتان کے حوالے سے ایک خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ نشتر ہسپتال ملتان کی چھت پر انسانوں کی گلی سڑی لاشیں موجود ہیں ۔
ان لاشوں کو سرد خانے میں رکھنے کی بجائے انہیں گلنے سڑنے اور چیل کوؤں کی خوراک بننے کیلئے چھت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ ایک ویڈیو اور تصاویر بھی تھیں جس میں یہ انسانیت سوز مناظر دیکھنے کو بھی ملے۔
یہ لاشیں کہاں سے آئیں اور انہیں یوں ہسپتال کی چھت پر گلنے سڑنے کیلئے کیوں چھوڑ دیا گیا اور یہ انسانیت سوز کام کب سے جاری تھا؟ اس سب عمل کا ذمہ دار کون ہے اور کیا وہ اپنے اس مکروہ عمل کی سزا بھی بھگتے گایا یوں ہی دندناتا پھرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: 12 اکتوبر 1999 ء کو کیا ہوا؟ آنکھوں دیکھا احوال
یہ ہیں وہ چند سوالات جو ہر انسان کے ذہن میں کلبلا رہے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات نہ جانے کب ملیں مگر ایک پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی شعبہ اٹانومی کی انچارج ڈاکٹر پروفیسر مریم اشرف کے ذریعے ان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں؟


0 تبصرے