جماعت اسلامی کی خواتین ونگ کی جانب سے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان اور نقدی تقسیم

جام پور  (نمائندہ اردو ورلڈ )  جماعت اسلامی پاکستان کی خواتین ونگ نائب صدر ڈاکٹر حمیدہ طارق  اور ان کی ٹیم نے ضلع راجن پور میں 2 کروڑ 8 لاکھ روپے اور پندرہ ٹرک امدادی سامان اور چیک تقسیم کیے اور حکومت کی ناقص کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔  


 

 

ٹرانس جینڈر ایکٹ کو غیر شرعی اور معاشرے میں بگاڑ کا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا جو کسی صورت قبول نہیں تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان ونگ کی نائب صدر حمید طارق اور صوبائی قیادت خواتین نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا حکومت ابھی تک نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہے اور اعلانات تک محدود جبکہ ضلع راجن پور  میں 7000 گھرانے 500 سے زائد دیہات 80 فیصد فصلات 108 اموات اور لاتعداد مکانات گر کر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور کہیں بھی حکومتی امداد کا نشان تک نہیں جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن اور مقامی این جی اوز  مخیر حضرات نے بے تحاشہ لوگوں کی مدد کی جن میں پکا پکایا کھانا خشک راشن خیمے مچھردانی اور ادویات اور ریسکیو صاف پانی موبائل یونٹس سینکڑوں افراد کو پانی فراہم کر رہے ہیں۔

 

 یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازیخان ڈویثرن کےسیلاب زدگان کی بحالی و تعمیر نو کیلئے عالمی اداروں سے کوارڈینیشن مکمل

  

حکومت کو باہرسے ملنے والی 12 ارب ڈالر کہیں پر نظر نہیں آرہی جو قوم کے ساتھ ظلم ہے ان کا مزید کہنا تھا اگر امداد رقم اور سامان پندرہ دن تک نہ متاثرین تک نہ پہنچی توہم متاثرین کے ساتھ مل کر ملک گیر  احتجاج کریں گی حکومت  ٹرانسجینڈر جیسے بے ہودہ ایکٹ کے ذریعے ہمیں ملنے والی بیرونی امداد سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے حق دار کو حق دلاکر ہی رہیں گے اس موقع پر صدر پنجاب تسنیم سرور نائب صدر جنوبی پنجاب شہنازمجید ضلعی صدر حمیرارحمانی خواتین بھی موجود تھی۔

 

 یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان اور راجنپور اضلاع میں سیلاب زدگان کےلئے بستیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے