عوامی نمائندگان کی بے حسی اور مسائل ہی مسائل تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی 

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

 

  مرزا غالب کا یہ شعر یوں تو انسانی جبلت کی عکاسی کرتا ہے کہ بہت کچھ ہے مگر پھر بھی کم ہے یعنی حوص ہے کہ 

جانے کا نام نہیں لیتی مگر آج میں اس شعر کو گھما کے تونسہ کی جانب لے ہی آیا ہوں  کیونکہ تونسہ میرا پہلا رومانس ہے۔

 

 
 
یہاں کی پسماندگی اور محرومی مجھے کسی پل چین نہیں لینے دیتی۔ یہاں کے لوگ جس کرب اور دکھ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ایسا پاکستان کے کسی کونے میں رہائش پزیر شہریوں کو سامنا نہیں ہے۔  ہر طرف بھوک و افلاس کا راج ہے اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔ 

 

رودکوہی سیلاب کی تباہ کاریوں سے سنبھلنے نہیں پائے کہ چشمہ کینال میں پانی کی عدم دستیابی نے ایک اور امتحان میں ڈال دیا ہے۔ رودکوہی سیلاب نے جہاں انسانی بستیاں تباہ و ویران کی وہیں اس نے معاشی شہہ رگ یعنی چشمہ نہر پر بھی حملہ کیا۔ جگہ جگہ ٹوٹنے سے چشمہ رائٹ بنک کینال ویران ہو گئی ہے۔ اگر یہ نہر اس ماہ اکتوبر کے آخر تک بحال نہ ہوئی تو تحصیل تونسہ کے مکینوں پر ایک قیامت ڈھا دے گی۔ لوگوں کی معیشت کا بڑا دارومدار چونکہ زراعت پر ہے اس لئے اگر زراعت ختم ہوئی تو تحصیل تونسہ بھی ویرانی کی جیتی جاگتی تصویر ہی نظر آئے گی۔

 

ایک بار غم روزگار بہاولنگر سے آگے منچن آباد کی طرف کھینچ کے لے گیا وہاں منچن آباد سے پہلے روڈ سے تھوڑا ہٹ کر ایک آبادی تھی اس میں صرف چند گھرانے ہی آباد تھے باقی تمام بستی ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ وہاں کی زمینیں بنجر ہو چکی تھیں اور مکینوں کے چہروں پر بھی ویرانی اور محرومی کی لکیریں واضح دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک بوڑھی اماں جی سے اس ویرانی کا سبب معلوم کیا تو اماں جی نے جس درد کے ساتھ کہا " پتر دیالہ کدی دیالہ ہندا سی ہنڑ تے اے برباد ہو گیا اے" (اس موضع کا نام دیال سنگھ تھا)پھر انہوں نے تھوڑی سی وجوہات بتائیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔ ابھی سوچتا ہوں تو وہاں کے حالات اور تونسہ کے حالات میں بہت ہی مماثلت محسوس کرتا ہوں۔ وہاں کے کرتا دھرتا، اہل ثروت اور عوامی نمائندگان کی بے حسی چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ زمینیں یونہی بے سبب ویران نہیں ہوا جرتیں، لوگ محض شوق کی خاطر اپنا دیس اپنا گھر چھوڑ کر نہیں بھاگتے، کچھ تو ایسا ہوتا ہے جس کی وجہ سے زمین کی کوکھ بھی انسان کو رزق دینے سے انکاری ہو جاتی ہے۔

 

 یہ بھی پڑھیں: تونسہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں؟۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

چشمہ کینال کی مرمت پر جس طرح حکومتی اداروں اور عوامی نمائندوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہایت ہی باعث افسوس ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا اور پرنٹ میڈیا ان مطالبات سے بھرا ہوا ہے جس میں چشمہ رائٹ بنک کینال کی جلد از جلد مرمت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ اہل ارباب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ 

 

" تیڈا پئے مرے نہ مرے میڈے پنج روپے کھرے" کی طرح عوام جیسے چاہے مریں یا جیئں ان کو ووٹ اور سرکاری افسران کو عوامی خزانے سے تنخواہ مل ہی جاتے ہیں۔

  

اب آخر میں آتے ہیں کہ آخر اس رویے کی وجوہات کیا ہیں۔ یہاں نہ سرکاری افسران کسی کی سنتے ہیں اور نہ عوامی نمائندگان؟

 

میں نے ایک وی لاگ کیا تھا جو میرے یوٹیوب چینل پر موجود ہو گا میں نے کہا تھا کہ سرائیکی کا دشمن نہ تخت لاہور ہے اور نہ تخت پشور، سرائیکی اپنے دشمن خود ہیں۔ سرائیکی وسیب کے واسی پاکستان کے کونے کونے میں اعلیٰ عہدوں پر موجود ہیں مگر کبھی ایسا نہیں سنا کہ انہوں نے اپنے محکموں میں سرائیکی لوگوں کو ملازمت دی ہو۔ ورنہ اگر کوئی دوسری قوموں کے دوست جہاں بھی تعینات ہوتے ہیں وہ اپنے لوگوں کی فوج ظفر موج اپنے محکمے میں بھرتی کر لیتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ڈی جی خان سے ایک خبر پڑھی تھی کہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے فیصل آبادی سربراہ نے تمام ملازمتیں فیصل آباد کے لوگوں میں بانٹ دی تھیں۔ 

 

یہ بھی پڑھیں:لیہ تونسہ پل، تاخیر کا ذمہ دار کون؟ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

اسی طرح اگر عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو واضح دکھائی دے گا کہ یہ بھی دوسرے وسیب واسیوں کی طرح اپنے علاقے اور لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ 

 

ہمارے وسیب کے سیاستدان بہت سے اعلیٰ عہدوں پر براجمان رہے۔ مگر اپنے وسیب کیلئے کچھ نہیں کیا۔ 

 

ایک سابق اعلیٰ عہدیدار جو کہ ہمارے ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدیدار بھی رہے ان کے بارے میں محکمہ ہوابازی کے سابق اعلیٰ عہدیدار نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ان صاحب سے جب ہمارے محکمے کے عہدیداروں نے ان کے علاقے میں ہوائی اڈا بنانے کے بارے میں بات کی تو ابتدائی طور پر انہوں نے انکار کر دیا حالانکہ محکمے کے ذمہ داروں نے انہیں بتایا کہ فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں آپ صرف تجویز پر دستخط کر دیں فنڈز کا بندو بست وہ خود کر لیں گے۔ لیکن پھر بھی وہ اعلیٰ حکومتی عہدیدار صرف دستخط کرنے سے انکاری رہے کہ یہاں ہوائی اڈا نہیں بننا چاہیے۔ محکمہ ہوابازی کے افسران کو انہیں باقاعدہ قائل کرنے کیلئے لابنگ کرنا پڑی تب وہ رضامند ہوئے اور ان کے علاقے میں ایئرپورٹ بنا۔ 

 

اب یہ دیکھ لیں کہ کچھ عرصہ قبل ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے والے سردار عثمان خان بزدار بھی وسیب کے واسی ہیں اور بہت ہی پسماندہ علاقے تونسہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے اور تونسہ کو لاہور بنانے کی بجائے صرف لولی پاپ بانٹتے رہے۔ کوئی بھی ٹھوس کام کر کے نہیں گئے۔ اب یہ بھائی بھی اگلے الیکشن میں عوام کو بے وقوف بنانے کی خاطر تخت لاہور کا نعرہ لگائیں گے اور قسمت کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ عوام ان کے نعرے پر یقین کریں گے بلکہ انہیں ووٹ دے کر پھر اسمبلی میں پہنچا دیں گے کہ ہمارا استحصال جی بھر کے کرو کہ ہماری رگوں میں لہو ابھی باقی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں: عوام یونہی سسکتی رہے گی!!! تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

 

 
 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے