قدیم قصبہ ریتڑہ! اور گردونواح کی آبادی پچاس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ قصبہ ریتڑہ تحصیل تونسہ میں ایک منفرد سیاسی ،سماجی ، معاشی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔ ضلعی و ڈویژنل ہیڈکوارٹر ڈیرہ غازیخان اور شمال میں کے پی کے پہلے اہم شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے مساوی فاصلے پر واقع ہے۔ اسی طرح تحصیل ہیڈکوارٹر تونسہ شریف اور سب تحصیل وہوا سے بھی مساوی فاصلے پر واقع ہے۔
اسی طرح آبادی کے لحاظ سے بھی سب تحصیل وہوا کے بعد دوسرا بڑا قصبہ ہے۔ زندہ دلوں کا یہ قصبہ بہت قدیم ہے۔ جتنا یہ قصبہ پرانا ہے ۔اسی طرح یہاں کے مسائل بھی بہت پرانے ہیں۔ یہاں کے مکین بھی دیگر علاقوں کے شہریوں کی طرح سہانے خواب دیکھنے کے عادی ہیں۔اس لئے یہ صرف خواب دیکھتے ہیں اور صبح ہوتے ہی انہیں بھول جاتے ہیں۔ کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔مگر نامساعد حالات کے باعثان کے خواب شرمندہء تعبیر ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ریتڑہ کے شہریوں کو درپیش مسائل پر اتنا لکھا اور بولا جا چکا ہے کہ اب انہیں دہرانے کا یارا بھی نہیں رہا۔ راقم الحروف سمیت ریتڑہ کے سینئر صحافی حضرات محمد اسماعیل قیصرانی (92 نیوز) ، نعمت اللہ ملکانی ( نامہ نگارروزنامہ خبریں) ، عبدالشکور لاشاری (نمائندہ خبریں) محمد سبطین عبداللہ (روزنامہ اسلام) ، کشمیر علی لاشاری (نمائندہ نوائے وقت) ، محمد صدام ملکانی ( روزنامہ بدلتا زمانہ) اور دیگر دوست اپنے تئیں ریتڑہ کے مسائل اجاگر کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
میں ایک بار پھر ان مسائل اور فریادوں کو دہرانے کی جسارت کر رہا ہوں صرف اس امید پر
"شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات"
تعلیم انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور لازوال دولت ہے جسے حاصل کرنے کیلئے رنگ ونسل اور جنس کی کوئی قید نہیں۔ یہاں بچیوں کی تعلیم کیلئے صرف ایک ہائی سکول ہے۔میٹرک کے بعد اکثر والدین اپنی بچیوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں۔ اسی طرح لڑکوں کی تعلیم کیلئے بھی صرف ہائی اسکول ہے۔ کالج اور اعلیٰ تعلیم کیلئے چند بچے ہی دیگر شہروں میں جا پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریتڑہ میں گرلز اور بوائز دونوں کیلئے ڈگری کالجز کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں شعوروادراک کی سنہری منزلیں طے کر سکیں۔ کچھ عرصہ قبل ریتڑہ و ٹبی قیصرانی میں بالترتیب بوائز اور گرلز ڈگری کالجز کے قیام کا بہت شور سنا مگر وہ بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی صرف ایک سیاسی نعرہ تھا۔ جس کا کریڈٹ لینے کیلئے ایم این اے اور ایم پی اے کے سپورٹر سرگرداں رہے مگر میری ان سے گزارش ہے کہ کریڈٹ لینے کیلئے منصوبے کا وجود ہونا ضروری ہے۔ یہ طوفان چائے کی پیالی کی طرح صرف سوشل میڈیا پر برپا ہوا اور دم توڑ گیا مگر اہل علاقہ کی قسمت نہ سنور سکی۔ ہمارے بچے یونہی تعلیم کے زیور سے محروم تھے اور ہیں ۔ایسا کب تک رہے گا نہ شاید آپ کو معلوم ہو نہ مجھے۔
یہ بھی پڑھیں: تونسہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں؟۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
مزید براں یہاں پر صحت کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انگریز کے دور سے قائم دیہی ڈسپنسری کو گذشتہ دور میں بنیادی مرکز صحت کا درجہ دیا گیا مگر یہ مرکز آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت پوری نہیں کر پا رہا۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بہت نقصان اور زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔ ٹریفک مسائل کے باعث مریضوں کو تونسہ یا دیگر شہروں میں لے جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ متعدد مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔یہاں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال یا کم از کم دیہی مرکز صحت کا قیام از حد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ریسکیو1122 اور ٹراما سنٹر کا قیام بھی بہت ضروری ہے۔ ریسکیو1122 کا قریب ترین مرکز تیس کلومیٹر دور تونسہ میں واقع ہے۔ انڈس ہائی وے پر واقع ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا بہت زیادہ رش رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں پر حادثات کی شرح بھی کافی زیادہ ہے۔جب تک ایمبولینس یہاں تک پہنچتی ہے مریض داعی اجل کو لبیک کہہ دیتے ہیں۔ ریسکیو1122 اور ٹراما سنٹر کے قیام سے بہت سے مریضوں کی جانیں بچانا ممکن ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: درد لکھوں کہ دوا لکھوں۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
پچاس ہزار نفوس پر مشتمل یہ آبادی ابھی تک نادرا سنٹر سے بھی محروم ہے۔ شہریوں کو اپنے شناختی کارڈ، ب فارم یا دیگر مسائل کے حل کیلئے تیس کلومیٹر دور تونسہ یا وہوا جانا پڑتا ہے۔ جس سے پیسے کے ساتھ ساتھ وقت کے ضیاع سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ محترم ایم این اے خواجہ شیراز محمود نے کچھ عرصہ قبل یہاں نادرا سنٹر کے قیام کیلئے کوششیں کیں ۔نادرا کی ٹیم بھی یہاں آئی اور سروے کر گئی مگر ابھی تک خاموشی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایم این اے صاحب کو یہ یاد ہو گا کہ نادرا سنٹر کے قیام کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ صفائی، نکاسیء آب اور گلیوں کی پختگی کا ہے۔ سیوریج کا موئثر نظام نہ ہونے کے باعث گلیاں اور بازار جوہڑوں کا منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ زندگی اذیت سے دوچار ہو چکی ہے۔آمدورفت میں دقت کے ساتھ ساتھ یہ جوہڑ مکھیوں اور مچھروں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ جس سے موذی امراض پھیل جاتی ہیں۔ سیوریج کے نظام کی تعمیر اور گلیوں کو ٹف ٹائل لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ ریتڑہ تحصیل تونسہ کے درمیان واقع ہونے کے باعث تحصیل تونسہ کا دل کہلانے کا مستحق ہے۔ اس کی ترقی صحیح معنوں میں تحصیل تونسہ کی ترقی شمار ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: لیہ تونسہ پل، تاخیر کا ذمہ دار کون؟ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی


0 تبصرے