حکومت پنجاب نے آفت زدہ قرار تو دے دیا مگر سیلاب متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں

ڈی جی اور داجل کینال میں 300 شگاف ابھی تک پر نہ ہو سکے، تمام ادارے سیلاب زدگان کیلئے حب الوطنی سے کام کریں۔سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے عالمی اداروں سے کوآرڈی نیشن مکمل

پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا ہے۔ محسن لغاری

تباہ کن سیلاب موسم کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ جعفر لغاری



حکومت پنجاب نے  آفت زدہ قرار تو دے دیا مگر سیلاب متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں

 

جام پور (نمائندہ اردو ورلڈ) پنجاب حکومت نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے ضلع راجن پور کو آفت زدہ قرار تو دے دیا۔

لیکن ایک ماہ گزرنے کو ھے ۔متاثرین کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ تفصیل کے مطابق جام پور تحصیل کے سینکڑوں مواضعات و قصبات کے ھزاروں متاثرین کے منہدم مکانات اور ھزاروں ایکڑ ملیا میٹ فصلات کا تخمینہ نا لگایا جا سکا۔

زرعی بینک نے  متاثرہ کسانوں سے ریکوری  کے نوٹس جاری کر دئیے۔ٹیوب ویل کنزیومر پہ ایف پی اے  لگا کر لاکھوں کے بل بھجوا دئے گئے۔ سیلابوں متاثرہ علاقوں کے نا راستے بحال،نا کینالز کے شگاف پر ھوسکے۔ھر طرف بدحالی اور زراعت کی تباہ حالی سے کسان ذہنی مریض بن گئے۔کسانوں  اسحاق باجوہ۔مہار اسماعیل۔  ابراھیم جان۔سیف اللہ ۔صابر حسین نے کہا کہ وفاقی و پنجاب حکومت نے کسانوں کی  مالی معاونت نا کی۔تو آئیندہ گندم کی فصل کی کاشت ناممکن ھے۔ابادکاورں۔ کسانوں نے  کسان خوشحال ملک خوشحال پروگرام کے تحت وزیراعظم پاکستان و وزیر اعلیٰ پنجاب سےھنگامی بنیادوں پہ سروے ۔بحالی اور مالی معاونت کا مطالبہ کیا ھے۔

 

ڈی جی اور داجل کینال میں 300 شگاف ابھی تک پر نہ ہو سکے


ڈی جی  اور داجل کینال میں 300 شگاف ہیں۔حالیہ سیلاب سے ڈی جی اور داجل کینال کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ کر کے رکھ دیا ھے ۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور  اور کپاس کی فصل کو بچانا انتہائی ضروری ھے۔شگاف پر ھونے پہ فی الفور پانی فراہم۔کر دیا جائے گا وزیر خزانہ سردار محسن خان لغاری ۔تفصیل کے مطابق سردار محسن خان لغاری وزیر خزانہ پنجاب نے گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ڈی جی اور داجل کینال میں300 شگاف ھوئی۔ سیفن نور پور مکمل طور  منہ زور سیلابی ریلے کی نظر ھو گیا۔چیف انہار ڈیرہ نے  اپنے انجینیئرز کے ساتھ تمام متاثرہ مقامات کا وزٹ مکمل کرلیا ھے۔ رائے منظور سیکریٹری ایریگیشن پنجاب نے نقصانات کا تخمینہ  چیف انہار ڈیرہ غازی سے رپورٹ طلب کر لی۔آج سیلاب ریلیف میٹنگ میں  پیش کی جائے گی۔


محسن۔لغاری نے کہا کہ سینکڑوں مواضعات کا واحد ذریعہ آب پاشی و اب نوشی ڈی جی و داجل۔کینال ھے  انھوں نے کہا۔ ہنگامی بنیادوں پہ  بھاری مشینری لگا کر دن رات کام کر کے تباہ حال  انفرااسٹرکچر کو  بحال کرکے فورا پانی فراہم۔ہر دیا جائے گا۔۔ندائے اقبال کو بتلایا کہ مجھے زراعت سے وابسطہ زمینداروں و کاشتکاروں کے مسائل کا پورا ادراک ھے اور پنجاب حکومت اس بارے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ھے۔اور آج سیلاب ریلیف اجلاس میں سیکرٹری ایریگیشن پنجاب  کی پیش کردہ رپورٹ پہ خطیر فنڈز جاری کردئیے جائیں۔۔۔اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔۔

 

تمام ادارے سیلاب زدگان کیلئے حب الوطنی سے کام کریں


ایڈوائزر وفاقی محتسب محمود جاوید بھٹی نے کہا ہے کہ تمام ادارے سیلاب ذدگان کی مدد کے لئے حب الوطنی کے ساتھ کام کریں ۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیلاب میں نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہیں۔تمام متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔قومی جذبہ اور نیکی سمجھ کر کام کریں۔یہ باتیں انہوں نے راجن پور کی سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عارف رحیم نے ضلع بھر کے سیلاب سے متعلق بریفنگ دی ۔اس موقع پر محکمہ تعلیم،صحت،لائیو اسٹاک،زراعت ،ہائی وے ،میپکو اور دیگر اداروں کے سربراہان نے سیلاب کے نقصانات بارے بتایا ۔بعد ازاں انہوں نے فلڈ کنٹرول روم کا تفصیلی دورہ کیا۔

 

سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے عالمی اداروں سے کوآرڈی نیشن مکمل


ضلع راجن پور کےسیلاب زدگان کی بحالی و تعمیر نو کیلئے عالمی اداروں سے کوارڈی نیشن مکمل کرلی گئی ہے،اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن،ورلڈ فوڈ پروگرام سیلاب متاثرین کو صحت اور خوراک کی سہولیات کیمونٹی بیسڈ ڈیٹا کے ذریعے فراہم کی جائیں گی جب کہ حتمی تخمینہ جات کی بدولت فنڈز  کی دستیابی کیلئے کو ممکن بنانے کے ساتھ دیگر نقصانات ازالے کیلئے متاثرین کی معاونت بھی کی جائے گی۔


اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم  سے یونیسف ڈبلیو ایچ او،ڈبلیو ایف پی کے نمائندوں نے ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عارف رحیم نے کہا کہ تمام ادارے سیلاب متاثرین کی امداد کا ڈیٹا 

ضلعی انتظامیہ کو شیئر کریں گے،سیلاب کے بعد پھوٹنے والی بیماریوں کے علاج معالجہ کو ترجیح دی جائے،انہوں 

نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی حتمی تخمینہ کیلئے جلدسروے شروع کردیا جائے گا،ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ کے 

ساتھ دیگر متعلقہ اداروں کی رائے کو اہمیت دی جائے،تمام تر امدادی سرگرمیوں کو باقاعدہ مانیٹر بھی کیا جائے گا،محمد انور بریار نے کہا کہ نقصانات کے تخمینہ کے بعد متاثرین کی امداد کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر سی سی او ھیلتھ ڈاکٹر فیاض آحمد عاربی بھی موجود تھے ۔

 

پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا ہے۔ محسن لغاری


 صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ پاکستان کو  تباہ کن  سیلاب کا سامنا ہے، جو کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی قدرتی آفت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں 33 ملین سے زیادہ متاثرین کے لیے کی جانے والی وسیع امدادی کوششوں کا ذکر کیا۔ وہ جمعہ کے روز سابق ایم این اے محترمہ ڈاکٹر مینا جعفر خان لغاری ،عمائدین علاقہ سے گفتگو کررھے تھے ۔ صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ سیکرٹری جنرل گوتریس  نے اس مشکل وقت میں پاکستان کا دورہ کر کے  پاکستانی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔اور پاکستان کے فلڈ ریسپانس پلان کی فنڈنگ کے لیے اقوام متحدہ کی 160 ملین ڈالر کی ''فلیش اپیل'' سمیت بین الاقوامی امداد کو متحرک کرنے کے لیے سیکرٹری جنرل کی بھرپور حمایت کو سراہا۔


یہ بھی پڑھیں: سیلاب زدہ علاقوں میں سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ۔ محسن لغاری


انہوں نے سیکرٹری جنرل کے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے دنیا بھر میں زبردست پیغام رسانی کی بھی تعریف کی جس میں  سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے تعلق کو اجاگر کیا گیا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سیکرٹری جنرل کی قیادت اور بروقت مدد نے تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والے سنگین چیلنجوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد دی ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن لغاری نے مزید کہا کہ عالمی  کاربن کے 1 فیصد سے بھی کم اخراج کے ساتھ، پاکستان گلوبل وارمنگ کے لیے سب سے کم ذمہ داروں میں سے ایک ملک ہے لیکن اس کے باوجود، پاکستان  موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔


 صوبائی وزیر خزانہ پنجاب نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی انصاف کے جذبے کے تحت پاکستان کو عالمی برادری خصوصاً صنعتی ممالک کی طرف سے اس موسمیاتی آفت سے نبٹنے, بحالی اور تعمیر نو کے لیے تعاون کرنا چاہیئے۔ یاد رھے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوٹیرس پاکستان میں تاریخی بارشوں اور سیلاب کے تناظر میں یکجہتی کے لیے دو روزہ دورے پر پاکستان میں ہیں۔

 

تباہ کن سیلاب موسم کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ جعفر لغاری

 

پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر پارلیمنٹیرین ایم این اے سردار محمد جعفر خان لغاری نے کہا ہے کہ تباہ کن سیلاب ، موسم کے دباؤ کا براہ راست نتیجہ ہیں، پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی لحاظ سے 10 غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دورہ دنیا کے سامنے اس بات کو اجاگر کرنے میں مدد کرے گا کہ آلودہ گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ہونے کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی لحاظ سے 10 غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے، موافقت کی صلاحیت کو بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے افراد کی بحالی میں مدد کے لئے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے عالمی تعاون کو سراہتے ہیں ۔


یہ بھی پڑھیں: مریم نواز شریف کا دورہ راجن پور، سیلاب متاثرین سے گھل مل گئیں


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے