ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ، تعارف ،
کتب اور شاعری
تعارف
نامور شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ وہ 5 دسمبر 1973 کو ڈیرہ غازیخان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازیخان سے حاصل کی۔ ایف ایس سی گورنمنٹ گرلز کالج ڈیرہ غازیخان سے پاس کرنے کے بعد ایم بی بی ایس کیلئے نشتر میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور 1966 میں ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈیرہ غازیخان میں معالج کا پیشہ اختیار کیا۔ وہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازیخان کی نائب صدر رہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ادب میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ معروف شاعرہ ہیں اور ادبی تنظیم "آنچل "کی صدر بھی ہیں۔
کتب
ان کے چار شعری مجموعے چھپ چکے ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔
1۔ پھول سے بچھڑی خوشبو (2007)
2۔ میں آنکھیں بند رکھتی ہوں (2010)
3۔ اور شام ٹھہر گئی (2013)
4۔ پھول، خوشبو اور تارہ (2016)
ایوارڈز
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ اس وقت تک اپنی ادبی خدمات کیلئے متعدد ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں ۔ جن میں " خوشبو رائٹرز ایوارڈ" ، " بے نظیر بھٹو ایوارڈ" ، "ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی" اور "جنوبی پنجاب لٹریری ایوارڈ" شامل ہیں۔
شاعری
آخر میں ان کی ایک بہترین نظم " اللہ ہم شرمندہ ہیں"
پیش خدمت ہے۔
اللہ ہم شرمندہ ہیں
تیرے در پہ آج یہ گریہ کناں ہے زندگی
میرے مولا اب تو بس محو فغاں ہے زندگی
زمین رو رہی ہے اپنی بے بسی پہ
آج کل
کہُ دیر اور حرم میں بھی اب فغاں ہے زندگی
اک ردائے خوف میں لپٹے ھوئے ھیں سب مکاں
مکیں سہم کے پوچھتے ہیں
تو کہاں ہے
زندگی
تو اپنے دل پہ ہاتھ رکھ اور اے بشر مجھ کو بتا
کہ اب سجود میں تجھے یہ کیوں گراں ہے زندگی
خدائے لم یزل کی رحمتوں سے مت ہو بد گماں
یقیں کی آنکھ سے پر ے تو بس گماں ہے زندگی
اپنے شعلوں میں ہی جل کے راکھ ہونے لگ گئی۔
اپنے ہی رد عمل سے اب دھواں ہے زندگی
کل تلک جو رقص فرما تھی لہو کی تال پر
رنجشوں کے قہر میں اب نوحہ خواں ہے زندگی
ہے آنکھ رت یہ ہجر کی، لبوں پہ تشنگی بہت
جو خاک کا بدن ہے اس میں تُو کہاں ہے زندگی
تماشہ ہے یہ آنکھ کا، یا دل کا بس فریب ہے
کہ بس زیاں کے کھیل میں ہی اب رائیگاں ہے زندگی
شاعرہ: ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
یہ بھی پڑھیں: درد کا بوجھ تیرے شہر سے لائے ہوئے لوگ۔۔
یہ بھی پڑھیں: جہاں پرندوں کے پر کھلے ہیں۔... شاعرہ: ایمان قیصرانی


0 تبصرے