پاکستان کا نظام اور عمران خان کی چومُکھی لڑائی!

پاکستان کا نظام اور عمران خان کی چومُکھی لڑائی!

 

پاکستان کا نظام اور عمران خان کی چومُکھی لڑائی!

میاں غفار


سرحد کے پار تو آسمان رنگ بدل چکا ہے اور ہم منتظر۔ افغان کابینہ کے ایک حالیہ اجلاس کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں کابینہ کے تمام ممبران شلوار قمیص، واسکٹ اور پگڑیاں پہنے بڑی میز کے اردگرد بیٹھے ہیں اور عقب میں دروازے پر ایک دربان پینٹ کوٹ اور ٹائی پہن کر باادب باملاحظہ اور ہوشیار کھڑا ہے۔اس تصویر پر جو کیپشن لکھا گیا ہے اس کا عنوان بھی یہی ہے، ’جس لباس پر ہمارے ہاں آفیسرز فخر کرتے ہیں افغانستان 

میں وہی لباس چوکیداروں کو پہنا کر ان کی اصل جگہ پر کھڑا کیا گیا ہے۔ انگریزوں نے میسور فتح کیا تو باورچیوں 

(ویٹرز) کو ٹیپو سلطان کی سپاہ کی وردیاں پہنا کر مسلمانوں کا مذاق اڑایا گیا تھا آج یہ بدلہ پورا ہوگیا۔


سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غلامی میں ہی جانا ہے تو پھر انگریز کی غلامی کر لیں جہاں ہر سہولت تھی، امن تھا اور حکومتی رٹ بھی۔ ہم کس قسم کے آزاد ملک کی بات کرتے ہیں جس کی ہر چیز گروی اور ہر پالیسی پر غیر ملکی کنٹرول۔ سوال یہ ہے کہ 14 صدیوں قبل عوام کو جدید ترین انتظامی ڈھانچا، محکمہ پولیس، نظام عدل، نظام ٹیکس، نظام لگان، نظام روابط سمیت ہر طرح سے دنیا کا جدید ترین نظام حکومت دینے والے حضرت عمرؓ کس غیر ملکی یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے؟ انھوں نے صرف 10 سال کے قلیل عرصے میں ایسا نظام دیا کہ کہا جاتا ہے آج بھی یورپ میں ان کا بنایا ہوا نظام انھی کے نام سے منسوب ہے اور سارے یورپ نے ابتدائی رہنمائی انھی کے وضع کردہ نظام سے حاصل کی جبکہ حضرت عمرؓ نے تمام تر رہنمائی نبی پاک حضرت محمد مصطفی (خاتم النبیین) ﷺ کی صحبت سے حاصل کی۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جناب عمرؓ سے قبل کسی نے اس طرح سے حکومتی نظام بنایا ہو؟ حضرت عمرؓ نے یہ سب رہنمائی قرآن و سنت سے لی جو ہم سب کے پاس موجود تو ہے مگر ہے سب سے اونچے طاق میں کہ کہیں ہاتھ نہ پڑ جائے۔


انگریزوں کے برصغیر پر قبضے سے قبل کون سا ایسا علم تھا جو یہاں نہیں پڑھایا جاتا تھا؟ اُس وقت ہمارے مدارس میں دینی، دنیاوی، طبی، سائنسی، انجینئرنگ، فقہ، منطق حتیٰ کہ ہر طرح کی تعلیم دی جاتی تھی اور انجینئرنگ کی شاہکار عمارتیں آج بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم ترقی کے کس مقام پر تھے۔ آج سے ایک ہزار سال قبل زمین سے دو ہزار فٹ کی بلندی تک کیسے پانی لے جایا جاتا تھا جبکہ بجلی کا تو نام و نشان نہ تھا محض چند چرخیاں جو دن رات گھومتی اور پھر پانی کے دباو¿ کا خوبصورت استعمال یا پھر بیلوں کی جوڑی۔ جن پہاڑوں پر چشمے نہیں ہوتے تھے ان پر بھی پانی لے جا کر کاشتکاری کی جاتی تھی۔دور کی بات نہیں کوئی بھی جا کر مقبرہ جہانگیر کو دیکھ لے، دریائے راوی کے کنارے اس مقبرہ میں آبپاشی کے لیے تمام تر پختہ کھال دیواروں کے اوپر تقریباً 15 سے 18 فٹ کی بلندی پر بنائے گئے اور بغیر بجلی کے وہاں پانی محض بیلوں کی مدد سے پانی زمین کی گہرائی سے سطح زمین پر پھر چرخی کے ذریعے 15 فٹ بلندی پر پہنچایا جاتا تھا۔ ان مغل بادشاہوں نے تو کسی یورپی ماہر کی خدمات نہ لی تھیں تاہم عوامی بہبود پر بھی وہ توجہ ختم کر چکے تھے۔


آج افغانی حکمرانوں کے پاس کون سے غیر ملکی ایڈوائزرز ہیں؟ کون سی آئی ایم ایف ان کے بجٹ بنا رہی ہے؟ کون سا غیر ملکی ادارہ اُن کے بچوں کے تدریسی نصاب کی جانچ پڑتال کرتا ہے؟ انھیں تو کوئی نہیں کہتا کہ سود کے بغیر نظام نہیں چلتا؟ اور باڈر کے اس پار اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کو اس سودی نظام کے تحفظ کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے جسے قرآن مجید نے انتہائی سخت الفاظ میں رد کر رکھا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ماضی میں بھی حکومت ہی سود کے خلاف اپیل میں گئی تھی اور اب بھی یہ ’اعزاز‘ اسی کو نصیب ہو رہا ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ دینی جماعتوں کی اکثریت اس پر خاموش ہے حالانکہ انھیں تو اس پر رہنمائی کا فرض ادا کرنا تھا۔ ہمارے دینی رہنمائوں نے بھی قوم کو اس قدر تقسیم کیا کہ ایک دینی گروہ پاکستان میں عید میلاد النبی منانے کے خلاف مگر وہی گروہ کرنل قذافی کے دور میں ان کے ملک جا کر باقاعدہ عید میلادالنبی منایا کرتا تھا گویا جو امر اُن کے نزدیک پاکستان میں جائز نہ تھا وہ وہاں جاتے ہی جائز ہو جاتا تھا۔


آج صورتحال یہ ہے کہ ہم نے املاک گروی رکھنے کے بعد بھی نہ جانے کیا کیا گروی رکھ دیا ہے کہ ساڑھے تین سال بعد ڈرون حملے کی بازگشت سنی جا رہی ہے؟ اِن ڈرون حملوں کی کہانی بھی عجیب ہے پہلے پاکستانی اڈوں سے ڈرون اڑتے اور افغانستان ان کا نشانہ ہوتا پھر افغانستان سے بھی ڈرون اڑنے لگے اور اُن کا افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی نشانہ بنتا رہا اور پھر یہاں تک بھی ہوا کہ پاکستانی اڈوں کے ڈرون پاکستانی علاقوں پر بھی گرتے رہے تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود ہم آزاد اور خود مختار ہی رہے کہ کہنے میں کیا حرج ہے؟


یہ بھی پڑھیں: واہ رے! اسلامی جمہوریہ پاکستان؟ تحریر: میاں  غفار


جن صاحب کو فردِ جرم کے لیے عدالت میں میں پیش ہونا تھا وہ بآسانی یورپ جا چکے ہیں اور اب فردِ جرم اسی طرح راہ دیکھتی رہ جائے گی جس طرح 50 روپے کا اسٹامپ "علاج" کے لیے روانہ ہونے والے اپنے مسافر کی راہ دیکھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ تو پاکستان میں دہائیوں سے ہو رہا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا اور وسیع تر عوامی بیداری نے قوم کی کمال رہنمائی کر دی ہے کہ پی ٹی آئی نے ملتا ن کے حلقہ این اے 157 کے لیے مخدوم شاہ محمود قریشی کی کراچی میں مقیم صاحبزادی کو ٹکٹ کیا دیا پارٹی میں اس پر فوری اور شدید ردعمل سامنے آ گیا اور اس حوالے سے پی ٹی آئی کے جن سرگرم کارکنان سے میری بات ہوئی اُن کا موقف یہ تھا کہ ہم پھر شہباز شریف کے وزیراعظم بننے اور ان کے بیٹے کی وزارتِ اعلیٰ کے خلاف کیوں بولتے رہے؟ عمران خان تو آئے ہی موروثی سیاست کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ ہیں اور اسی نعرے نے انھیں ضمنی انتخابات میں تما م تر حکومتی کوششوں کے باوجود واضح کامیابی دی تو پھر ہم کارکنان کیسے کراچی سے تشریف لانے والی ایک صاحبزادی کے لیے ووٹ مانگ سکیں گے؟


سچ یہ ہے کہ عمران خان کی منزل ابھی دور ہے۔ ابھی تو انھیں بہت سے دنیاوی پل صراط عبور کرنے ہیں۔

 عمران خان کا واسطہ ان سیاسی قائدین سے پڑا ہے جن کے لیے ملک قوم، دین اور دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز 

ان کی اپنی ذات اور ذاتی مفادات ہیں۔ بلاشبہ عمران خان چومکھی لڑائی لڑ رہا ہےاور اپنی صفوں میں بھی انھیں ایسے درجنوں کا سامنا ہے جن کی ذات اور مفاد ملک و قوم سے کہیں بڑھ کر ہیں۔عمران خان غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ فولاد سے اچھی تلوار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو بقول شیخ سعدی بن تو   نہیں سکتی مگر اللّٰہ چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا!   


یہ بھی پڑھیں: پاکستان  غربت کا شکار کیوں؟۔۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے