تحریر: میاں غفار
چند روز قبل ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے پر دو منٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کا دارالحکومت برطانیہ ہی بن چکا ہے کہ حکومت کو ہدایات وہیں بیٹھے بااثر افراد ہی جاری کرتے ہیں۔ ویسے یہ کوئی اچھوتی بات نہیں! ہمارے دارالحکومت اسلام آباد پر اکثر اوقات فیصلے باہر ہی سے صادر ہوتے آئے ہیں۔
لاہور سے اسلام آباد موٹر وے کے اطراف میں قدرت کے کیا کیا خوبصورت مناظر ہیں۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہے۔ ایسا کیا ہے جو ہمارے پاس اللّٰہ کے کرم اور فضل کی صورت میں موجود نہیں مگر ہماری ’نیتوں کی برکات‘ نے مفادات کی چکی میں ان ساری نعمتوں کا عرق نکال کر اس کے ثمرات عوام الناس سے چھین لیے اور خود ہی چند ہاتھوں تک محدود کر لیے ہیں۔ سکھر سے ملتان، لاہور اور پھر کلرکہار تک تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل موٹر وے کے اطراف میں شجرکاری کے لیے ہزاروں ایکڑ اراضی موجود ہے۔
یہ موٹر وے جہاں جہاں سے گزر رہی ہے وہاں دونوں اطراف زرخیز اور آباد زمینیں ہیں جن پر ہر طرح کی کاشتکاری ہو رہی ہے اور اس تمام اراضی کے لیے نہری پانی بھی موجود ہے۔ موٹر وے کے لیے ہزاروں ایکڑ زمین لوگوں سے ہی خریدی گئی تو پھر اس زمین کا ہزاروں کیوبک فٹ زرعی پانی بھی بچا ہو گا وہ کہاں زیر استعمال ہے اور اس سے کتنے ایکڑ غیر نہری اراضی اب تک نہری اراضی میں بدل دی گئی ہے، اِس کا جواب کسی کے پاس نہیں؟
یہ بھی پڑھیں: واہ رے! اسلامی جمہوریہ پاکستان؟ تحریر: میاں غفار
موٹر وے کے اطراف میں لاہور سے سکھر تک جو سرکاری کھاتے میں شجرکاری کی گئی ہے اس کی عملاً صورتحال کیا ہے اس کا مشاہدہ ہر روز گزرنے والے لاکھوں افراد ازخود کر سکتے ہیں۔
لاہور سے سکھر تک موٹر وے کے اطراف میں جو اِکا دُکا درخت لگائے گئے ہیں ٗ اُن کی آبیاری واٹر ٹینکروں کے ذریعے کبھی کبھار ہوتی دکھائی بھی دیتی ہے حالانکہ اطراف میں نہری پانی موجود ہے اور جس جگہ یہ طویل موٹر وے تعمیر ہوئی وہاں جب فصل کاشت ہوتی تھی تو نہری پانی ہی سے ہوتی تھی۔
پھر سوال یہ ہے کہ مہنگے ترین ڈیزل سے چلنے والے واٹر ٹینکروں سے لاکھوں روپے کا ڈیزل خرچ کر کے چند ہزار ننھے منے درختوں پر مشتمل اس شجرکاری کی اتنی مہنگی آبیاری کیوں؟
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا نظام اور عمران خان کی چومُکھی لڑائی!
اس موٹر وے کے نیچے سے نہری پانی کے سینکڑوں کھال بھی موجود ہیں جس کے کناروں پر تو سرسبز گھاس ہے مگر اردگرد کی موٹروے کی اراضی پر ہر طرف اڑتی گرد جو ان دنوں مون سون کی بھرمار اور قدرت کی مدد سے کم تو ہو گئی ہے مگر مختصر مدت کے لیے۔
لاہور اسلام آباد موٹر وے بنی تو اس کے اطراف میں شجر کاری کا ٹھیکہ اس دور کے ایک وفاقی وزیر کے بھائی کے پاس تھا۔ تجویز یہ تھی کہ لاہور سے شیخوپورہ حافظ آباد اور سکھیکی تک دونوں اطراف میں امرود کچنار اور الیچی کے درخت لگائے جائیں۔
سکھیکی سے کلرکہار تک کنوں مالٹا اور گرے فروٹ کے پودے لگائے جائیں اور کلرکہار سے چکری تک زیتون کے پودے لگائے جائیں تاکہ موٹر وے پر سفر کرنے والے ملکی و غیر ملکی مسافروں کو علم ہو کہ پاکستان میں کیسے کیسے پھل اور کس قسم کے پودے لگائے جا سکتے ہیں۔
اس طرح سے عالمی سطح پر بھی پاکستانی پیدوار کی تشہیر ہو گی اور عوام کو ترغیب بھی ملے گی۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس تجویز کو بہت پسند کیا اور تجویز پر عمل درآمد کا حکم بھی جاری ہوا مگر نہ جانے وہ تجویز کہاں گم ہو گئی؟
اب لاہور سے کلرکہار تک موٹر وے پر سفر کرنے والے ہر مسافر کو دونوں طرف سفیدے کے درخت ہی نظر آتے ہیں جو کہ پاکستان جیسے پانی کی کمی کا شکار خطے کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ پاکستان میں زیر زمین پانی بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
اسی لیے زرعی ماہرین برسوں قبل سفیدے کے درختوں کو زہر قاتل قرار دے چکے ہیں کہ یہ درخت نہ صرف زیر زمین پانی میں تیزی سے کمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ زمین کی زرخیزی بھی کم کرتے ہیں البتہ اسی موٹر وے کے اطراف میں نصب آہنی جنگوں کی باڑ کے اس پار پرائیویٹ اراضی پر مختلف قسم کے پھل دار درخت کثرت میں ملیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک سابق چیف سیکرٹری کے حوالے سے سسٹم کی بربادی پر ایک بیان کبھی کبھار کوئی نہ کوئی شیئر کرتا ہی رہتا ہے جو کہ کئی سال قبل ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر پر مبنی ہے۔ وہ ایک متحرک اور بہت حد تک ایماندار آفیسر تھے مگر افسوس یہ ہے کہ ان کا ضمیر بھی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی بیدار ہوا۔ جب وہ چیف سیکرٹری پنجاب تھے تو اُس وقت کے سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب نے ایک بریفنگ میں تجویز پیش کی کہ کلرکہار سے اسلام آباد تک موٹر وے کے اطراف کو وائلڈ لائف زون بنا دیں۔ دونوں اطراف میں ایک باڑ تو موجود ہے اسے مزید اونچا کر کے موٹر وے کے ساتھ ساتھ دوسری آہنی باڑ نصب کر دیں اور موٹروے کے دونوں اطراف میں ہرنوں کی اقسام جن میں چنکارہ اور کالا ہرن سمیت تمام اقسام شامل ہوں کے علاوہ نیل گائے پالی جائیں اور اُن کی بریڈنگ بھی کی جائے وہاں قدرتی چارہ اور جڑی بوٹی کافی مقدار میں موجود ہے جنھیں ہرن اور نیل گائے رغبت سے کھاتے ہیں۔ ہم نے صرف سالٹ رینج سے نمک کے پتھر لا کر رکھنے ہیں جبکہ پانی بھی وافر موجود ہے۔
اُس وقت کے سیکرٹری وائلڈ لائف نوید اکرم کی اس تجویز کو وزیراعظم نے تو بہت پسند کیا مگر چیف سیکرٹری ناراض ہو گئے۔ ناراض کیوں نہ ہوتے؟ سیکرٹری کی یہ جرات کہ وہ وزیراعظم سے ڈائریکٹ ہونے کی کوشش کرے! رپورٹ پر پسندیدگی کے باوجود عمل کیا ہونا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چار روٹیوں کے عوض بکتی عصمتیں تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
مذکورہ چیف سیکرٹری پنجاب نے چند ہی دنوں بعد لاہور کے جلو پارک کا اچانک دورہ کیا اور وہاں ہرنوں کے باڑے میں گٹر کے پانی کی موجودگی اور چند دیگر ننھی منی کوتاہیوں کا براہِ راست ذمہ دار کلرکہار وائلڈ لائف زون پر رپورٹ تیار کرنے والے اسی سیکرٹری وائلڈ لائف نوید اکرم اور ڈی جی وائلڈ لائف محمد آصف کو قراد دے کے ان دونوں کے تبادلے کر دے اور یوں کلرکہار موٹر وے کے اطراف میں وائلڈ لائف اور بریڈنگ زون بنانے کا تمام تر منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔
’سب سے پہلے پاکستان‘ والے کو اللّٰہ صحت کاملہ اور مہلت دے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہر دور میں جو سب سے آخر میں رکھا گیا ٗ وہ بدقسمتی سے پاکستان ہی تھا کہ جہاں انتہائی نچلے درجے کے اہلکار سے لے کر سرکاری محکموں کے سربراہ تک اور عام سیاسی کارکن سے لے کر سیاسی حکمران تک ہر کسی کے لیے سب سے پہلے اُنہی کی ذات ہی رہی ہے۔
چند روز قبل ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے پر دو منٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کا دارالحکومت برطانیہ ہی بن چکا ہے کہ حکومت کو ہدایات وہیں بیٹھے بااثر افراد ہی جاری کرتے ہیں۔ ویسے یہ کوئی اچھوتی بات نہیں! ہمارے دارالحکومت اسلام آباد پر اکثر اوقات فیصلے باہر ہی سے صادر ہوتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان غربت کا شکار کیوں؟۔۔۔پارٹ:1 تحریر: فاروق شہزاد ملکانی


0 تبصرے