فوج قابل فخر ادارہ ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں تعاون پر فوج کے مشکور ہیں۔ پی ڈی ایم اے سمیت تمام ادارے متحرک ہیں اور سیلابی علاقوں میں موجود ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب کا دورہ راجن پور۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو بروقت اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں
جام پور ( اردو ورلڈ ) صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہاکہ پنجاب حکومت نے متاثرین سیلاب کیلئے امدادی پیکیج بڑھا دیا ھے سیلاب میں جاں بحق ہر فرد کے ورثا کو اب 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔زخمیوں کیلئے امداد میں اضافہ، مکانات، فصلوں کو نقصان پر ادائیگی کرینگے، صوبائی وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے پہلے اجلاس ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا جائزہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار محمد محسن لغاری نے کہا کہ صوبائی وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے امدادی پیکیج میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزراء سردار محسن لغاری، نوابزادہ منصور علی خان، علی افضل ساہی، چیف سیکرٹری کامران علی افضل،ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار حمید اور دیگر افسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔ سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے فیصل فرید نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دی۔
کمیٹی کے چیئرمین اورصوبائی وزیر محمد بشارت راجہ نے ریسکیو اور بحالی کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پہلے ہی سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سیلاب میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ پہلے یہ رقم 8 لاکھ روپے تھی۔ وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی نے انتہائی زخمی شہری کو 3 لاکھ، شدید زخمی کو ایک لاکھ روپے دینے کی منظوری بھی دی۔ راجہ بشارت نے کہا کہ زخمی اور معمولی زخمی افراد کو بالترتیب ایک لاکھ اور 50 ہزار ملیں گے۔ وزارتی کمیٹی نے مکانات کو نقصان کے امدادی پیکیج پر بھی نظرثانی کی۔ مکمل پکا مکان تباہ ہونے پرحکومت 4 لاکھ روپے دے گی۔ جزوی پکے مکان کے نقصان پر امدادی رقم 40 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ مکمل کچے اور جزوی کچے مکان کو نقصان پر بالترتیب 2 لاکھ روپے اور 50 ہزار روپے ملیں گے۔ محمد بشارت راجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امدادی پیکیج کے تحت متاثرین کو فوری ادائیگی کی جائے گی۔
اجلاس نے سیلاب سے مویشیوں کے نقصان کے ازالے کا بھی جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ بڑے مویشی کی ہلاکت پر 50 ہزار روپے، بھیڑ بکری کی ہلاکت پر 5 ہزار روپے دیے جائیں۔ کمیٹی نے چھوٹے مویشیوں کے نقصان پر ازالے کی رقم بڑھانے کی تجویز دی جس کا فیصلہ نقصان کے تخمینے کے بعد کیا جائے گا۔ وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے کہا کہ حکومت سیلاب سے فصلوں کے نقصان پر ساڑھے بارہ ایکڑ تک فی ایکڑ 15 ہزار روپے کی امداد بھی دے گی۔ اجلاس سےخطاب میں وزیر خزانہ سردار محسن لغاری نے کہا کہ ہر سال امدادی پیکیج دینے کی بجائے مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔ امسال بلوچستان سے اس بار غیر معمولی سیلابی ریلے ڈی جی خان اور ملحقہ علاقوں میں آئے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو امدادی سرگرمیوں میں شامل کرنے کیلئے کام جاری ہے۔ اس وقت ایس ایم بی آر سمیت سنیئر سرکاری افسر سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کے لئے موجود ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن لغاری نے مزید کہاکہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کی بحالی و آبادکاری کیلئے فلڈ ریلیف فنڈاور 5 ارب روپے مختص کرنیکا اعلان کیا ھے ۔فنڈ کی پائی پائی متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی، مخیر حضرات مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ متاثرین کی بحالی پہلی ترجیح،جو کچھ انسانی بس میں ہوا، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کر گزریں گے۔متاثرین کی دوبارہ آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، قوم کی تائید و حمایت سے اس چیلنج سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے
پاک فوج قابل فخر ادارہ ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں تعاون پر فوج کے مشکور ہیں، انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے۔مخیر حضرات اپنے مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ کی پائی پائی متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب حکومت کی پوری مشینری مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں مصروف ہے۔میری تجویز پر چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل متاثرہ علاقوں میں خود امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔جو کچھ انسانی بس میں ہوا، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کر گزریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نقصانات کے ازالے کیلئے سروے کا حکم دے دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت پنجاب کی پہلی ترجیح ہے۔پنجاب حکومت مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین کی دوبارہ آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔سیلاب سے متاثرہ ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے گا اور انشاء اللہ قوم کی تائید و حمایت سے اس چیلنج سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں پاک فوج کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف کے حوالے سے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں۔پاک فوج قابل فخر ادارہ ہے جو ناگہانی صورتحال سے دوچار لوگوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہے۔فوجی جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت، پاک فوج ہر آزمائش کی گھڑی میں قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے۔پاک فوج کے دستوں نے لوگوں کی بروقت مدد کی اور محفوظ انخلاء کو یقینی بنایاجس پر کورکمانڈر ملتان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔پاک فوج کے تعاون سے کئی قیمتی جانوں کو پچاناممکن ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کی حکومت تمام گھروں کی تعمیرنو تک آرام سے نہیں بیٹھے گی۔ اویس لغاری
پی ڈی ایم اے سمیت تمام ادارے متحرک ہیں اور سیلابی علاقوں
میں موجود ہیں۔فیصل فرید
صوبائی ڈائزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ایم ڈی فیصل فرید نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پی ڈی ایم اے سمیت تمام ادارے متحرک ہیں اور سیلابی علاقوں میں موجود ہیں،سیلابی علاقوں میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن بدستور جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک امدادی کاروائیوں کے دوران سیلاب میں پھنسے 38,143 افراد کو سیلابی علاقوں سے بحفاظت ریسکیو کیا گیا ہے اور سیلابی علاقوں میں 67,797 افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 99 فلڈ ریلیف کیمپس قائم ہیں اور 17000 سے زائد سیلاب متاثرین تک تین وقت کا کھانا،صاف پانی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے 64,974 بڑے اور 114,977 چھوٹے جانوروں کو بیماریوں سے بچاو کی ویکسین بھی لگائی جا چکی ہے اور اب تک 39,437 گھرانوں میں ایک ماہ کے لیے خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، 22,267 گھرانوں میں ٹینٹس تقسیم کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دور دراز اور کٹھن علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیلاب متاثرین تک خوراک پنچانے کا عمل بھی جاری ہے،ریسکیو ریلیف آپریشن میں پاک فوج ریسکیو 1122 سمیت دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔انہوں نے عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، پی ڈی ایم اے کا عملہ 24/7 عوام الناس کی رہنمائی کے لیے کام کر رہا ہے،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں۔
چیف سیکرٹری پنجاب کا دورہ راجن پور
وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر چیف سیکرٹری کامران علی افضل نے جمعرات کے روز راجن پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیاچیف سیکرٹری نے روجھان میں ریلیف کیمپس میں انتظامات کا جائزہ لیا. چیف سیکرٹری نے سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار، مکمل تعاون کی یقین دہانی. چیف سیکرٹری کی سڑک پر بے سروسامانی کی حالت میں مقیم سیلاب متاثرین کو فوری طور پر ٹینٹس اور خوراک مہیا کرنے کی ہدایت. اس موقع پر گفتگو کرتے ھوئے چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آپکو تنہا نہیں چھوڑیں گے،آپکے دکھوں کا مداوا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے.مشکل وقت میں آپکی ہمت اور حوصلہ قابل تعریف ہے. انہوں نے کہا کہ امداد اور بحالی کے کام میں وسائل کی کمی نہیں آنے دیں گے۔
چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ سیلاب اور بارشوں کے باعث ڈی جی خان اور راجن پور میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں. جام پور ،فاضل پور ،روجھان اور تونسہ کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں. تاھم سیلاب زدگان کی مدد ہمارا قومی فریضہ ہے. اور متاثرین کی امداد اور بحالی حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے.سول سوسائٹی، این جی اوز، فلاحی ادارے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کیلئے حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔
سیلاب متاثرین کیلئے امدادی پیکج کو حتمی شکل دی جا رہی ہے.گھروں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے سروے جلد ازجلد شروع کیا جائے، اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان نے چیف سیکرٹری کو سیلاب زدہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں اور انتظامات بارے آگاہ کیا. چیف سیکرٹری نے روجھان میں بندوں کا معائنہ بھی کیا. چیف سیکرٹری کو سیلاب زدہ علاقوں میں جاری ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
سیلاب متاثرین کیلئے راجن پور میں 31 اور ڈی جی خان میں 13 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں،ریلیف کیمپس میں 3585 سیلاب متاثرین قیام پزیر ہیں. ریسکیو آپریشن کے دوران راجن پور میں 32114، ڈی جی خان میں 4462 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا. ڈی جی خان میں 11546ٹینٹس، 28200فوڈ ہیمپرز سیلاب متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں. بریفنگ
یہ بھی پڑھیں: راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سیلابی تباہ کاریاں ۔ خصوصی مکالہ
راجن پور میں 12952 ٹینٹس، 16437 فوڈ ہیمپرز سیلاب متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں. ایڈیشنل چیف
سیکرٹری (جنوبی پنجاب) کیپٹن ر ثاقب ظفر، کمشنر ڈی جی خان عثمان انور ،ڈپٹی کمشنر عارف رحیم، ڈی جی پی ڈی ایم
اے، ڈی سی راجن پور، محکمہ آبپاشی اور متعلقہ محکموں کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے.
سیکرٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب کا ڈی ایچ کیو راجن پورکا
دورہ
سیکریٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب محمد اقبال کا رات گئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال راجن پور کا دورہ ۔سیکریٹری نے ایمرجنسی، ایوننگ او پی ڈی میں سروس ڈیلیوری کا جائزہ لیا۔ سیکرٹری نے سی ٹی اسکین، ایکسرے یونٹ، ای سی جی، الٹرا ساونڈ اور دیگر میڈیکل مشینری کو چیک کیا۔ سیکریٹری محمد اقبال نے ڈائیلاسز یونٹ اور مختلف وارڈز میں فراہم کی جانیوالی سہولیات کا بھی جائزہ لیا ۔سیکریٹری نے اسٹاف کی حاضری، ادویات کی دستیابی و فراہمی کو بھی چیک کیا۔ سیکریٹری نے زیر علاج مختلف مریضوں کی عیادت کی۔
سیکریٹری نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ادویات اور دیگرسہولیات بارے بھی استفسار کیا۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو بروقت اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں، سیکریٹری کی اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی اور کہا کہ مریضوں کو اسپتال میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے: سیکریٹری محمد اقبال نےمیڈیکل و پیرامیڈیکل اسٹاف مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آئے ۔
یہ بھی پڑھیں: رود کوہیوں میں طغیانی، ہرطرف تباہی کے مناظر


0 تبصرے