باکمال اردو شاعری کے خالق تہذیب حافی نوجوانوں کے
پسندیدی ترین شاعر
تونسہ کی مردم خیز اور علم دوست دھرتی سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر تہذیب حافی بہت کم عمر میں ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ شہرت پانے میں وہ اپنے ہم عصر شعراء کے مقابلے میں قسمت کے بہت دھنی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی شہرت سرحدیں پار کرتی ہوئی بھارت اور جہاں جہاں بھی اردو سمجھنے والے موجود ہیں وہاں تک پہنچ چکی ہے۔ نوجوان نسل کو ان کی لت لگ چکی ہے۔ تہذیب حافی کا نام آتے ہی ان کے چہروں پر رونقیں آ جاتی ہیں۔
پیش خدمت ہے ان کی بہت ہی مشہور غزل جو وہ اپنے ہر مشاعرے
میں سامعین کے پرزور اصرار پر سناتے ہیں۔
۔۔۔غزل۔۔۔
بچهڑ کر اُس کا دل لگ بهی گیا تو کیا لگے
گا
وه تهک جائے گا
اور میرے گلے سے آ لگے گا
میں مشکل میں تمهارے کام آؤں
یا نہ آؤں
مجهے آواز دے لینا تمہیں اچها لگے گا
میں جس کوشش سے اُس کو بهول جانے میں لگا ہوں
زیاده بهی اگر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا
مرے ہاتهوں سے لگ کر پهول
مٹی ہو رہے ہیں
مری آنکهوں سے
دریا
دیکهنا
صحرا
لگے
گا
مرا دشمن سنا ہے کل سے بهوکا لڑ رہا ہے
یہ پہلا تیر اُس کو ناشتے میں جا لگے گا
کئی دن اُس کے
بهی صحراؤں میں گزرے ہیں حافی
سو اس نسبت
سے
آئینہ
ہمارا
کیا
لگے
گا
شاعر۔۔۔تہذیب حافی
یہ بھی پڑھیں: تہذیب حافی کی شاندار شاعری آپ کے نام


0 تبصرے