کون بنے گا پنجاب کا وڈا چودھری؟ کون کس کے ساتھ، فیصلہ آج

کون بنے گا پنجاب کا وڈا چودھری؟ کون کس کے ساتھ، فیصلہ آج

پرویز الٰہی بمقابلہ حمزہ شہباز


 

کون بنے گا پنجاب کا وڈا چودھری؟ کون کس کے ساتھ، فیصلہ آج

 

لاہور(اردو ورلڈ) کون بنے  گا  پنجاب  کا وڈا چودھری؟ کون ہو گا   کس  کے   ساتھ   ؟  سب   معلوم  ہو جائے   گا  آج ۔   پاکستان کے   سب سے   بڑے  صوبے   پنجاب کی  صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ کا انتخاب آج   سہ پہر 4 بجے ہونے   جا  رہا ہے  ۔ پاکستان  ڈیموکریٹک  موومنٹ(PDM) کے  حمایت  یافتہ  پاکستان  مسلم لیگ ن (PMLN) کے حمزہ شہباز اور تحریک انصاف (PTI) کے حمایت یافتہ مسلم لیگ ق (PMLQ) کے چوہدری پرویز الہٰی ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔

 

 سیکرٹری   پنجاب   اسمبلی   کی جانب   سے   جاری   کئے  گئے   نوٹی فکیشن  کے مطابق  پنجاب اسمبلی میں مہمانوں کا داخلہ بند ہوگا، میڈیا پریس گیلری سے اجلاس کی  کوریج کرے گا، موبائل فون لے جانے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔  ضمنی انتخابات    میں  منتخب   ہونے   والے   نئے  ارکان  پنجاب اسمبلی نے  حلف اٹھا لیا ہے جو آج ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔

 

 یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دن ہی   مسلم لیگ ن کی بڑی  کامیابی

 

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کو چیئرمین پی ٹی  آئی    عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے پی ٹی آئی اور ق لیگ پنجاب کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 186 ارکان شریک ہوئے۔

 

 اس حوالے سے پی ٹی  آئی    کے رہنما  فواد چوہدری نے کہا کہ ‏لاہور کے مقامی ہوٹل میں پی ٹی آئی اور ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں 186 اراکین شریک ہوئے۔

 

 دوسری جانب مسلم لیگ   ن کی جانب سے حتمی نمبرز جاری نہیں کیے گئے تاہم  گزشتہ روز ن لیگ    کے سینئر رہنما   عطا اللہ  تارڑ کا کہنا تھا کہ ان کے تعداد 180 کے قریب ہیں۔

 

آپ   کو بتاتے   چلیں  کہ   17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں  پی ٹی  آئی   کی   کامیابی   کے بعد پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں   کا پلڑا بھاری ہو گیا، پی ٹی آئی کے 178 اور مسلم لیگ ق کے 10 ارکان کو ملا کر اپوزیشن ارکان کی تعداد 188 ہوگئی۔

 

ضمنی الیکشن میں 4 نشستوں پر کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن کے پنجاب میں 168 ارکان ہوگئے تاہم ایک رکن نے ابھی حلف نہیں اٹھایا ہے اور اس کا ووٹ کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔ لیکن  آج  انہیں  کامیابی ملی ہے  اور الیکشن کمیشن کی جانب سے آمدہ اطلاعات  کے مطابق پی پی 7  سے  ان کے کامیاب ہونے والے  رکن پنجاب اسمبلی  راجہ صغیر کی کامیابی  کا نوٹی فکیشن ہو گیا ہے ہو سکتا ہے وہ وقت  پر پہنچ  کر حلف اٹھا لیں اور اپنا ووٹ  کاسٹ  کر سکیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظماور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت مکمل، چیئرمین نیب تعینات کر دیا گیا

 

 اگر اس رکن نے حلف اٹھالیا تو ن لیگ 168، پیپلزپارٹی 7، آزاد 3 اور راہ حق پارٹی کے ایک ووٹ کے ساتھ حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 179 بنتی ہے۔

 

 پنجاب اسمبلی میں ہونے والے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو خط لکھ کر سکیورٹی کا مطالبہ کر دیا۔

 

 خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی حدود اور ایوان میں بھی پولیس تعینات کی جائے، تمام سکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وزیراعلیٰ کا انتخاب کرایا جاسکے۔

 

خیال رہے یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔

 

 دوران سماعت یہ بات سامنے آئی تھی  کہ تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ کے متفقہ امیدوار پرویز الہٰی اور ن لیگ کے حمزہ شہباز نے 22 جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب پر اتفاق کر لیا ہے۔

 

 سپریم کورٹ نے اپنے زبانی حکم میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن اب 22 جولائی کو ہوگا اور اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

 

واضح رہے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن رن آف کی طرز پر ہوگا یعنی جو بھی امیدوار زیادہ ووٹ لے گا وہ وزیراعلیٰ منتخب ہوجائے گا۔

 

دیکھتے  ہیں آج  پنجاب  اسمبلی  میں کیا ہوتا ہے کیونکہ  گزشتہ  اجلاس  بہت  ہنگامہ خیز رہا تھا اور  بہت  ہی  شرمناک  مناظر  دیکھنے  کا ملے تھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے