دعا زہرا کیس میں اہم موڑ، خود ہی دارالامان جانے کی
درخواست کر دی
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )کراچی سے لاہور آکر مبینہ طور پر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا آج ضلعی مجسٹریٹ کی عدالت پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے دارالامان جانے کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے دارالامان بھیج دیا۔
تفصیلات کے مطابق اس موقع پر دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ والدین خطرناک نتائج کے دھمکیاں دیتے ہیں، والدین کی جانب سے مسلسل جان کا خطرہ ہے اس سے پہلے بھی وہ مجھے مارتے پیٹتے بھی تھے، اس لیے میں سیکیورٹی کے طور پر دارالامان جانا چاہتی ہوں، عدالت نے دعا زہرا کی درخواست کو منظور کر لیا اور اسے آج ہی دارالامان بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں:دعا زہرا بہاولنگر سے شوہر سمیت بازیاب، کراچی پولیس کے حوالے
یاد رہے کہ اس سے پہلے دعا زہرا کے والدین کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی اور سنگل میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے خلاف دوبارہ میڈیکل ٹیسٹ کی استدعا کی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں دعا زہرا کی عمر کا تعین کرنے کیلئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:دُعا زہرا کاظمی کے والد مہدی کاظمی نے قرآن سر پر رکھ کر کیا کہا؟
نئے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا کی عمر 16سال سے کم ثابت ہوئی۔ پنجاب میرج ایکٹ 2016 کے مطابق شادی غیرقانونی ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر ڈینٹل ایگزامینیشن کے مطابق 13 سے 15 سال کے درمیان میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دعا زہرا کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا، میڈیکل بورڈ نے عمر کا تعین کر لیا
کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر محکمہ داخلہ سندھ نے 10 رکنی میڈیکل بورڈ بنایا تھا اور میڈیکل کے لیے دعا زہرا کو پولیس کی خصوصی ٹیم ایک دن کے لیے لاہور سے کراچی لائی تھی۔


0 تبصرے