ذمہ دار کون؟؟
تحریر: عاشق قیصرانی
یہ ڈیڈ باڈی
کی تصاویر جو کل سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں یوسی لکھانی کے باسی ظفر سائیکل والا
کی ہے جس کی میت کو لوگ اٹھائے تیز اور گہرےپانی سے گزر کر قبرستان میں تدفین کیلئے
لے جارہے ہیں آپ یقین کریں اس طرح کا اگر کوئی واقعہ لاہور یا اسلام آباد میں ہوتا
یا ایسی تصویر کوئی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی تو تخت لاہور ہل جاتا چھوٹے اور بڑے میاں
فوری طور پر ایکشن لیتے کہ آخر یہ کیا ہوا ہے۔ مقامی ایم این اے اور ایم پی اے سے لوگ
ضرور سوال کرتے اور آزاد عدلیہ کے لوگ بھی از خود نوٹس لیتے کہ پیارے پاکستان میں کیا
ہورہا ہے۔ ان بے چاروں کا یعنی یوسی لکھانی والوں کا رونے والا کوئی نہیں تو پھر ان
کی آواز کون سنے گا کاش یہاں سے بھی کوئی جج جنرل یا کوئی بڑے بیوروکریٹ ہوتے تو علاقہ
اس طرح نظر انداز نہ ہوتا راستے بھی ہوتے اور روڈ بھی مگر یہاں کچھ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: تمن قیصرانی ۔۔۔ریاست ہوگی ماں کے جیسی
قیام پاکستان
سے لے کر آج تک عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے
ہیں کہ ہماری تباہی اور بربادی کا ذمہ دار کون ہے یوسی لکھانی تخت لاہور کی ٹیل پر
واقع ہے اس کے آگے کے پی کے کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے فنڈز کی برسات تخت لاہور سے پہلے
ڈی جی خان پھر تونسہ اور آخر میں وہوا پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔
۱۔ سردار عثمان خان بزدار:
عمران خان نے
کل ڈی جی خان کے جلسے میں کہا کہ میں نے عثمان خان کو اس لئے سی ایم بنایا تھا کہ یہاں
پر غربت اور پسماندگی ہے اس کو دور کریں سی ایم کے ہوتے ہوئے جتنی ترقی ہونی چاہئے
وہ نہیں ہوئی۔ کاش کل ڈی جی خان کے جلسہ کے موقع پر عمران خان کو ظفر کی لاش کی یہ
تصویر دکھائی جاتی کہ ان کے ہوتے ہوئے یہ ترقی ہوئی ہے وہوا پیکیج تو اچھا تھا مگر
لکھانی والوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوا پھر کوتانی سے لکھانی تک 13کلو میٹر
روڈ کے فنڈ دے دیئے جاتے تو کون سی قیامت آجاتی کم از کم ٹھیکیداروں کی روزی روٹی بھی
لگ جاتی اور آفیسروں کا کمیشن بھی بن جاتا۔ اور ظفر کی میت کو پانی میں اٹھائے اس طرح
تدفین کیلئے نہ لے جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: تمن قیصرانی کے مسائل
۲۔ قیصرانی چیف صاحبان:
ایک لمبا عرصہ
اقتدار میں رہے مگر یہاں فنڈ دینا بھول گئے زیادہ ذمہ داری ان کی تھی کہ وہ اپنی قوم
کی خدمت کرتے مگر قوم اور قومیت کے نام پر اگر ہر بار ووٹ مل جائیں تو زیادہ محنت کی
کیا ضرورت
خواجگان تونسہ:۔
قیصرانی ایریا
میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں ان علاقوں سے کبھی اچھے رزلٹ
نہیں ملے اور خطرہ یہ ہوتا ہے کہ قوم اور قومیت والا جن الیکشن کے دن کہیں بوتل سے
باہر نہ آجائے اس لئے محفوظ سرمایہ کاری کیلئے غیر قیصرانی علاقے کا انتخاب کرتے ہیں
وہاں پر پروٹوکول بھی زیادہ ملتا ہے اور ووٹ بھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان غربت کا شکار کیوں؟
ممتاز خان بھٹو،
حافظ طاہر قیصرانی،مولانا مفتی زبیر نے کئی بار عثمان خان سے لمبی لمبی ملاقاتیں کیں
اور خوبصورت فائلوں میں خوبصورت درخواستیں لکھانی کے مسائل کی شکل میں پیش کی خدا معلوم
کہ سی ایم صاحب کو کیا ناراضگی تھی کہ کوئی درخواست بھی منظور نہیں ہوئی۔
بہر حال زیادہ
قوم پرستی کا نظارہ آج ہمیں اس شکل میں نظر آرہا ہے۔ لکھانی کے لوگوں نے چند مسائل
بتائے ہیں وہ یہ ہیں۔
۱۔ ہمیں کوتانی سے لکھانی تک13کلو میٹر روڈ دی جائے
اس سے صرف لکھانی
کی عوام مستفید نہیں ہوگی بلکہ یہ روڈ یونین لکھانی بین الصوبائی روڈ بن جائے گی۔ آگے
کے پی کے کی بستیاں کیڑی شموزئی اورکھوئی بہارا کے عوام بھی فائدہ اٹھائیں گے اور یہ
روڈ آگے ژوب تک جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی 288 ، جیت کس کی، ہار کس کی؟
۲۔ لکھانی سے وہوا تا فاضلہ پچاس کلومیٹر
بنتا ہے اور مریض یہاں تک پہچنے سے پہلے دم توڑ جاتا ہے۔ سفر کے اخراجات اور وقت کا
بھی ضیاع ہے۔ جب تک کوتانی لکھانی روڈ مکمل
نہیں ہوتی ہمیں عارضی طورپر شادی والا یا جروار سے ملا دیاجائے۔ جن کا فاصلہ تین سے
چار کلومیٹر ہے بارشوں کے دوران ہمارا راستہ ضلع اور تحصیل کے ساتھ برقرار رہے گا۔


0 تبصرے