لبوں پہ آئی نہ میرے کوئی دعا تیرے
بعد۔۔۔کلام : شفقت حیات شفق
غزل
لبوں پہ آئی نہ میرے کوئی دعا تیرے بعد
ہر اک شخص لگا
مجھ کو عام سا تیرے
بعد
محبتوں پہ یقین بار بار ہوتا نہیں
میں اعتبار کروں کس پہ
یہ بتا تیرے بعد
سنورنے سجنے کی خواہش نہیں رہی مجھ کو
چھپا کے رکھ دیا ہے میں نے آئینہ تیرے
بعد
مجھے بھی اپنے ہی
جیسا سمجھ لیا تو نے
تیری طرح میں بسا لوں جہاں بتا تیرے
بعد
یہی وہ دل تھا جہاں پھول کھلتے رہتے تھے
مقام حسن دل آراء اجڑ گیا تیرے بعد
ہزاروں بار میرے آنسوؤں
نے کوشش کی
جو خواب ٹوٹ گیا
پھر نہ جڑ سکا تیرے بعد
یہ بھی پڑھیں: ہجر کی رات مرے دل میں سما جاتی ہے۔۔۔
مجھے طلب ہی نہیں اب تیری
محبت کی
کہ میں نے کر لیا ہے خود سے رابطہ تیرے بعد
امید ختم ہوئی جب سے تیرے آنے
کی
اڑا اڑا سا لگا رنگ
شام
کا
تیرے
بعد
مجھے بٹھایا تھا تو نے مسند گل
پر
میں خاک چھانتی پھرتی ہوں بے وفا تیرے بعد
اکیلے پن کے غم و رنج
سے بھرا اس
کو
میری حیات میں آیا
تھا جو خلا تیرے بعد
شاعرہ: شفقت حیات شفق
یہ بھی پڑھیں: محمد توفیق کی کتاب کی تقریب پذیرائی: شاعرہ و مصنفہ شفقت حیات شفق کی خصوصی شرکت


0 تبصرے