دریا کنارےتشدد زدہ لاش برآمد، مقدمہ درج، مقتول کے دوست پر بھی بہیمانہ تشدد کا انکشاف

دریا کنارےتشدد زدہ لاش برآمد، مقدمہ درج، مقتول کے دوست پر بھی بہیمانہ تشدد کا انکشاف

دریا کنارےتشدد زدہ لاش برآمد، مقدمہ درج، مقتول کے دوست پر بھی بہیمانہ تشدد کا انکشاف                                 

 

ریتڑہ( نمائندہ اردو ورلڈ) گذشتہ روز بیٹ بھیڈیں والی کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے ایک تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی جس کی شناخت بعد ازاں  قصبہ ناڑی شمالی کے رہائشی توصیف سیف ولد سیف اللہ لاشاری کے ہوئی تھی۔  جس کا مقدمہ 6 ملزمان کے خلاف تھانہ ریتڑہ میں درج کر لیا گیا ہے۔  ملزمان میں عبدالرحمٰن عرف عبدو ولد غلام حیدر چھجڑہ، نیاز ولد غلام رسول چھجڑہ، ظریف ولد محمد حنیف چھجڑہ، ذوالفقار ولد شریف چھجڑہ اور دو نامعلوم افراد شامل ہیں۔


 

اس سے قبل مقتول توصیف سیف کے لواحقین نے  پولیس کے رویے اور غفلت پر احتجاج کرتے ہوئے نعش انڈس ہائی وے پر رکھ کر ناڑی شمالی کے مقام پر بلاک کر دی تھی۔  انڈس ہائی وے 7 گھنٹے تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رہی، بعد ازاں انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد انڈس ہائی وے کھول دی گئی۔


رات گئے پولیس تھانہ ریتڑہ میں مقتول کے بھائی طالب حسین کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 158/22 زیردفعات 302 ت پ، 201 ت پ، 148 ت پ، 149 ت پ درج کر لیا گیا۔

 

دوران احتجاج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے والد سیف اللہ نے پولیس پر سنگین الزامات بھی عائد کئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا دو روز سے ملزمان کے قبضے میں تھا وہ اس دوران پولیس تھانہ ریتڑہ گیا مگر شنوائی نہ ہوئی۔  بعد ازاں وہ ڈی ایس  پی تونسہ  بخت نصر کے پاس گیا جس نے اسے پولیس تھانہ ریتڑہ کے ایس ایچ او کے پاس بھیجا اور ایس ایچ او کو فون بھی کیا کہ پرچہ درج کر کے مغوی کو برآمد کیا جائے مگر ایس ایچ او نے سوائے طفل تسلیوں کے کچھ نہ کیا اور آج اس کے بیٹے کی تشدد زدہ نعش دریا کنارے سے مل گئی۔

 

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقتول اپنے دوست شیر محمد کو 4/5 جون کی درمیانی شب 9 بجے بھیڈیں والی سے محمد حنیف چھجڑہ کی بیٹھک سے لینے گیا اور واپس نہیں آیا۔ 


مقتول توصیف سیف کے دوست شیرمحمد بھی بہیمانہ تشدد کے بعد دریا کنارے پائے گئے تھے اور اس وقت نشتر ہسپتال میں زیرعلاج ہیں اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے