ٹیکس فری اور بہتر آب و ہوا کے باوجود لوگ دبئی پر کینیڈا کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟

ٹیکس فری  اور  بہتر  آب   و   ہوا   کے   باوجود  لوگ دبئی پر کینیڈا کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟

ٹیکس فری  اور  بہتر  آب   و   ہوا   کے   باوجود  لوگ دبئی پر کینیڈا کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟

 

یہ   ایک  ایسا  

سوال   ہے   جو  بہت   سے   تارکین وطن  اور  دیگر  افراد  کے   ذہنوں  میں ابھرتا  رہتا  ہے۔  اس   سوال  کا جواب  جاننے کیلئے   ایک  تارک  وطن  شہری  کا  تجربہ  بیان  کرتے  ہیں   اور  جاننے کی کوشش کرتے ہیں  کہ  دبئی  اگرچہ   ٹیکس  فری  ملک  ہے اس   کی  آب  و ہوا  بھی  کینیڈا  کی نسبت  بہتر  ہے  تو  پھر  لوگ   دبئی  کی بجائے  کینیڈا  رہنے   کو ترجیح   کیوں  دیتے  ہیں۔ تو  آئیے  جانتے  ہیں  ان  کی زبانی۔۔۔


میں نے 2016 سے 2020 تک متحدہ  عرب  امارات( UAE) میں  رہا  کام  بھی  کیا  لیکن  اب میں کینیڈا میں رہتا ہوں۔ سچ پوچھیں تو مجھے کینیڈا(CANADA)  بہت پسند آیا ہے۔ مجھے وہی مل رہا ہے جس کے لیے میں نے  اپنا وطن  چھوڑا اور   پھر  دبئی  سے  یہاں  منتقل ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے اپنے فائدے اور نقصانات بھی  ہیں، میرا اپنے  خیالات  اور تجربے  کے  مطابق ان  کا  مختصر خلاصہ یہ ہے:

 

وہ  خصوصیات جن میں متحدہ عرب امارات کینیڈا   سے   بہتر  ہے:

 

   موسم : متحدہ عرب امارات میں بہت گرمیوں  کا  موسم  زیدہ  ہوتا ہے، جس  کی  مجھے عادت ہو گئی تھی  ، بنیادی طور پر سرد موسم بہت    کم   ہوتا    ہے، لہذا اگر آپ سردیوں کے پرستار نہیں ہیں تو دبئی آپ کے لیے بہترین ہے۔ جبکہ   کینیڈا میں شدید سردی پڑتی   ہے  اگر   میں  یہ  کہوں  کہ   کینیڈا  سرد موسم   اور   برف  کا  دیس   ہے   تو  بے  جا   نہ   ہو  گا۔ بہت   سی  احتیاطی  تدابیر  کے باوجود  برفیلی سڑکیں سردیوں میں بہت سے حادثات کا باعث بنتی ہیں۔

    

سیاحت :  متحدہ عرب امارات سیاحت کے لیے بنایا گیا ہے  اس  لئے متحدہ عرب امارات کے لیے سیاحتی ویزا حاصل کرنا کینیڈا کا ویزہ   حاصل کرنے کے مقابلے میں آسان ہے۔

   

ورک پرمٹ : متحدہ عرب امارات کی معیشت ہے جو اس کی مقامی آبادی سے بہت بڑی ہے، اس لیے بطور ایکسپرٹ ورک پرمٹ حاصل کرنا کینیڈا کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔  یہاں   ایکسپرٹ   سے  مطلب  سکل  رکھنے  والی  شخصیات ہیں جو کسی  نہ  کسی  سکل  کے ماہر  ہیں۔ کینیڈا میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے لیکن کینیڈا میں غیر ملکیوں سے زیادہ کینیڈین ہیں، اس لیے آجروں کے لیے غیر ملکیوں کو کام  کیلئے  بھرتی کرنا نسبتاً مشکل ہے۔


   کریڈٹ میں آسانی:  کینیڈا کے مقابلے متحدہ عرب امارات میں کریڈٹ تک رسائی حاصل 

کرنا بہت آسان ہے اور عام طور پر آپ کے پاس UAE میں زیادہ آسانی   اور  بڑی   حد  کے  کریڈٹس آسانی  سے   دستیاب  ہیں۔ لیکن احتیاط  ضروری ہے اور شرائط  و ضوابط  اچھی  طرح   پڑھ لیں کیونکہ آپ کو وقت پر اپنے واجبات کی ادائیگی  میں ناکامی پر جیل بھی   بھیجا جا سکتا ہے۔

   

رہائش: دونوں ممالک میں میرے تجربے کے مطابق پراپرٹی  مالکان متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں کینیڈا میں زیادہ سخت ہیں۔ کینیڈا میں مالک مکان کریڈٹ چیک، ریفرنس چیک اور اس طرح کی  دیگر   شرائط عائد کرتے ہیں، جن  پر   بہت  زیادہ  وقت   صرف  ہو  جاتا ہے۔  جبکہ   متحدہ عرب امارات میں رہتے  ہوئے   میں  ہر  سال  اپارٹمنٹ  تبدیل   کر  لیتا  تھا  اور اس  سلسلہ   میں   معاہدے کی تیاری ایک دن میں مکمل ہو  جاتی تھی۔

   

سفر میں آسانی: دبئی دنیا   کا   ایک بڑا ٹرانزٹ ہب   ہے  یہی  وجہ  ہے کہ  دبئی دنیا کی تقریباً 66% منزلوں  سے صرف  8 گھنٹے کی پرواز کے اندر ہے۔ آپ دبئی سے ایک پرواز میں کینیڈا سمیت متعدد جگہوں پر جا سکتے ہیں۔

 

وہ خصوصیات جن  میں کینیڈا، متحدہ عرب امارات سے  بہتر  ہے:

 

   سماجی فوائد: متحدہ عرب امارات میں آپ کی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا لیکن آپ کو حکومت سے کوئی مالی امداد  بھی  نہیں ملتی جبکہ  کینیڈا میں آپ کی  آمدنی   پر ٹیکس تو   لگایا جاتا ہے لیکن آپ کو فوائد بھی  بہت ملتے ہیں۔ جیسے کہ یونیورسل ہیلتھ کیئر، بچوں کے لیے مفت تعلیم، چائلڈ سبسڈی، چائلڈ وظائف، ٹیکس کریڈٹ اور اس طرح کی دیگر مراعات۔  لہذا اگرچہ آپ ٹیکس ادا کرتے ہیں اس کے  بدلے  آپ کو ملنے والے فوائد آپ کے ادا کردہ ٹیکس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

   

رہائش:  میرے پاس کینیڈا میں اپنے اپارٹمنٹ  کے  کرایے میں دبئی کے مقابلے زیادہ فوائد   شامل ہیں۔  یہاں مجھے پانی اور ہیٹنگ کے لیے الگ سے ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔ جبکہ دبئی میں مجھے ان کے لیے الگ   سے  ادائیگی کرنا پڑتی ہے (اور گرمیوں میں جہاں زیادہ گرمی پڑتی ہے آپ کو ٹھنڈک کے لیے بہت زیادہ ادائیگی کرنی پڑتی ہے)۔ کینیڈا میں اپارٹمنٹس متحدہ عرب امارات میں اپارٹمنٹس کے مقابلے زیادہ معیاری سہولیات کے ساتھ ملتے ہیں، لہذا مجموعی طور پر آپ کو رہائش پر بہتر ڈیل ملتی ہے۔

   

امیگریشن:  اگرچہ متحدہ عرب امارات جانے کے مقابلے کینیڈا میں ہجرت کرنا زیادہ   مشکل ہے لیکن کینیڈا غیر ملکیوں کو مستقل رہائش اور شہریت بھی   پیش کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں آپ ہمیشہ کے لیے ایک عارضی رہائشی کے طور پر رہتے ہیں آپ  کو  مستقل   شہریت   کے   حقوق  حاصل  نہیں ہوتے اور جب تک آپ اہل رہیں گے ہر 2/3 سال بعد آپ   کو اپنے   ویزا کی تجدید کرانی ہوگی۔

   

ضابطہ فوجداری:  متحدہ عرب امارات میں کینیڈا سے زیادہ سخت ضابطہ فوجداری لاگو ہیں۔ کچھ چیزیں جو متحدہ عرب امارات میں جرائم سمجھی جاتی ہیں وہ کینیڈا میں مجرمانہ  فعل   نہیں  سمجھی جاتی۔ متحدہ عرب امارات میں، غیر شادی شدہ حاملہ  ہونا ایک جرم ہے۔جبکہ  کینیڈا  میں  ایسا  نہیں سمجھا  جاتا۔ اسی  طرح متحدہ عرب امارات میں دیوالیہ پن سے تحفظ نہیں ہے۔  عام طور پر اور بھی ایسی چیزیں ہیں جو آپ کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کرا سکتی ہیں جو آپ کو کینیڈا میں سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈال سکتی ہیں۔ آپ کینیڈا میں تمباکو نوشی بھی کر سکتے ہیں، یہ قانونی ہے۔

   

لیبر قوانین:  کینیڈا میں لیبر قوانین موجود ہیں جس میں کارکنان اکٹھے  ہو کر 

 ٹریڈ یونین بنا سکتے ہیں۔ جبکہ متحدہ عرب امارات میں جو بھی  معاہدہ   ہوتا ہے   وہ آپ اور آپ 

کے آجر کے درمیان ہے۔ UAE میں وزارت محنت کے پاس ایسے قوانین ضرور موجود   ہیں جو ملازمت پر آپ کے حقوق کا تحفظ تو  کرتے ہیں، لیکن آپ  کی نوکری کا نہیں۔ متحدہ عرب امارات میں آپ عام طور پر ملک میں رہنے اور کام کرنے کے لیے ویزا اسپانسر کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جو کچھ بے ایمان آجروں کو زیادتی کا بہت اختیار دیتا ہے (ایک منیجر کو اس کمپنی کے ایم ڈی نے منہ پر تھپڑ دے     مارا جس میں میں کام کرتا تھا۔ یہ    سب   میرے   سامنے  ہوا     اور   یہ  تھپڑ    اس  منیجر   کو خاموشی   سے  سہنا   پڑا  کیونکہ   اگر   وہ   احتجاج   کرتا   کسی    کو   اس   کی   خبر   دیتا   تو  وہ     پھر   اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھتا)۔


    قدرتی خوبصورتی:  متحدہ عرب امارات چونکہ   صحرا میں ہے لہذا   اس   کے  زیادہ تر پرکشش سیاحتی      مقامات مصنوعی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ایسی کوئی بھی چیز نہیں ہے جو اس خطے میں کسی اور جگہ آسانی سے منتقل نہیں کی جاسکتی ہے، لیکن کینیڈا میں بہت ساری قدرتی خوبصورتی اور مناظر ہیں، جن   سے   آپ    بھر   پور   لطف   اندوز   ہو  سکتے   ہیں۔

 

یقیناً ہم دونوں ممالک کے بارے میں اور بھی  بہت  کچھ   کہہ   اور  بتا  سکتے ہیں، لیکن آج   ہم   صرف ان        چند وجوہات پر  اکتفا    کرتے    ہوئے   آپ   سے    اجازت    چاہتے   ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے