یہ تو نہیں کہ درد کا درماں نہیں رہا ۔۔۔ کلام : ایمان قیصرانی

یہ تو نہیں کہ درد کا درماں نہیں رہا ۔۔۔ کلام : ایمان قیصرانی

ایمان قیصرانی: تصویر سوشل میڈیا


 

یہ تو نہیں کہ درد کا درماں نہیں رہا ۔۔۔

کلام : ایمان قیصرانی

 

یہ تو نہیں کہ درد کا درماں نہیں رہا ۔

پر تجھ کو بھولنا کوئی آسان نہیں رہا۔


پائی تھیں ہم نے جو کبھی پھولوں کے شہر میں

ان چاہتوں کا اب کوئی عنواں نہیں رہا۔


جس نے کہا تھا وہ نہیں جائے گا چھوڑ کر۔

اس کے تو لوٹنے کا بھی امکاں نہیں رہا۔


آنکھوں نے اسکی یاد کے جگنو بجھا دیئے۔

تارہ بھی اب کوئی سرِ مژگاں نہیں رہا ۔


اس کی جفاؤں نے مجھے آزاد کر دیا۔

صد شکر چاہتوں کا وہ احساں نہیں رہا۔


تم سے بچھڑ کے یہ رہا دل کا معاملہ۔

تا دیر پھر یہاں کوئی مہماں نہیں رہا۔


کیسی اداسیوں میں ہے جانے وہ آج کل

اب میرے حال پر بھی وہ خنداں نہیں رہا۔


شاید یہ معجزہ مرے دست ِ ہنر کا ہے۔

وہ یار ِ کم سُخن بھی گریزاں نہیں رہا۔


ہم پھول بن کےہرسو فضا میں بکھر گئے۔

جب یہ سُنا کہ اُس کا گلستاں نہیں رہا۔


اپنے جلو میں جو لئے پھرتا تھا وحشتیں

اب شہر میں وہ چاک گریباں نہیں رہا۔


ہوں گی وفا کے باب میں سچائیاں ضرور

لیکن میں کیا کروں میرا ایماں نہیں رہا۔

 

شاعرہ: ایمان قیصرانی

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے