پی پی 288 ضمنی الیکشن ٹاکرا، کس کی جیت کس کی ہار؟ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

پی پی 288 ضمنی الیکشن ٹاکرا، کس کی جیت کس کی ہار؟ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

پی پی 288 ضمنی الیکشن ٹاکرا، کس کی جیت کس کی ہار؟

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

چیف ایڈیٹر : اردو ورلڈڈاٹ سائٹ

 

پی پی 288 ڈیرہ غازیخان -4 پر ضمنی الیکشن 17 جولائی کو ہونے  جا رہا ہے۔  یہ  حلقہ سابق ایم پی اے  سردار محسن عطا خان کھوسہ کے ڈی سیٹ ہونے کی وجہ  سے  خالی ہوا ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ  ایسا  کیوں  ہوا تھا کیونکہ  یہ کل کی بات ہے۔ میرے خیال میں یہ سب کو یاد ہوگا۔ وقت  ضائع کرنے  کی بجائے  سب سے پہلے  ہم  اس طرف آتے  ہیں کہ  2018 کے الیکشن میں کیا ہوا تھا۔

 

2018  کے  عام  انتخابات  میں  اس حلقہ  سے  ابتدائی طور پر  سردار محسن عطا کھوسہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ بعض حلقوں کی اطلاعات کے مطابق وہ  ن لیگ کا ٹکٹ  بھی لاہور  سے لیکر آ گئے تھے مگر جس طرح بہت  سے حلقوں میں ایسا ہوا کہ عین وقت  پر  بہت  سے امیدواروں  نے  اپنے ن لیگ  کے ٹکٹ  الیکشن کمیشن میں جمع کرانے  کی بجائے آزاد لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔  اسی طرح محسن عطا کھوسہ  نے بھی اپنا ٹکٹ جمع کرانے  کی بجائے ایک خاص  آزاد نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ یوں  وہ  2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے کامیاب  ہوئے تھے۔

 

2018 میں ان کے مدمقابل امیدوار پی ٹی آئی (PTI) کے سردار سیف الدین کھوسہ تھے جو تقریباََ دس  ہزار کی لیڈ  سے ہار گئے تھے۔ بلکہ ایسا کرتے ہیں آپ کو 2018 کا الیکشن رزلٹ بتا دیتے ہیں اس سے آپ کو اس ضمنی الیکشن میں صورتحال کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

 

سردار محسن عطا خان کھوسہ نے حاصل کئے تھے 39490 ووٹ حاصل کئے  تھے  جبکہ  سردار سیف الدین خان کھوسہ نے 30164  ووٹ  حاصل کئے  تھے۔ اصل  مقابلہ  ان دو ہی امیدواروں  کے درمیان تھا کیونکہ  تیسرے  نمبر پر آنے والا امیدوار ٹی ایل پی کے عرفان کھوسہ  تھے جنہوں نے صرف 3516  ووٹ  لئے تھے۔ وہ اب بھی ٹی ایل پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

 

اب کی بار  محسن خان کے  ڈی سیٹ ہونے  کے بعد  انہوں  نے اپنے بھتیجے  ایم این اے  سردار امجد فاروق کھوسہ  کے  فرزند ارجمند  سردار عبدالقادر کھوسہ کو میدان میں  اتارنے  کا فیصلہ  کیا ہے۔ سردار عبدالقادر  کھوسہ  ضلع  ڈیرہ غازیخان کی ڈسٹرکٹ  کونسل  کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ سردار امجد فاروق کھوسہ  ایک منجھے  ہوئے  سیاستدان ہیں۔ 2018 کے الیکشن میں بھی آزاد حیثیت سے ایم این منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے سردار سیف الدین کے والد سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ  جو کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے تھے کو شکست دی تھی۔  سردار عبدالقادر کھوسہ  ن لیگ  کے ٹکٹ  پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ سردار عبدالقادر کھوسہ خود بھی ایک تجربہ کار اور شائستہ اور سلجھے ہوئے نوجوان سیاستدان ہیں۔

 

دوسری طرف پی ٹی آئی کے امیدوار سردار سیف الدین خان کھوسہ ہیں جو 2018  کے الیکشن میں سردار محسن عطا کھوسہ سے شکست کھا چکے ہیں۔

سردار عبدالقادر خان کھوسہ صاحب کی  الیکشن مہم  میں ان کے والد ایم این اے سردار امجد خان کھوسہ،  چچا سردار محسن عطا کھوسہ  اسی حلقہ  سے  سابق ایم پی اے،سردار اویس  خان لغاری موجودہ وزیر بلدیات جو کہ الیکشن مہم کی وجہ سے اپنے عہدے  سے مستعفی ہو چکے ہیں ،  سینیٹر حافظ عبدالکریم سابق ایم این اے، احمد خان لغاری امیدوار ایم پی اے پی پی 290،  سابق ایم پی اے علیم شاہ و دیگر لیگی رہنما اور  اہم  سیاسی شخصیات  نظر آ رہی  ہیں۔

جبکہ سردار سیف الدین خان کھوسہ کی انتخابی  مہم   میں ان کے بھائی سردار حسام خان کھوسہ،  ان کے بھتیجے محی الدین خان کھوسہ ایم پی اے،  ان کے بھائی سردار دوست محمد خان کھوسہ سابق وزیر اعلی پنجاب،  سردار جاوید اختر لنڈ ایم پی اے،  حنیف خان پتافی ایم پی اے،  سابق ایم این اے زرتاج گل وزیرسمیت پی ٹی آئی کے  کئی رہنما نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

 

 اب آتے ہیں  اس ضمنی الیکشن کی جانب کہ کس امیدوار کا پلڑہ بھاری ہوسکتا ہے۔  سب سے پہلے ہم جائزہ لیں گے کہ ان دونوں امیدواروں میں سے  کس امیدوار کا کیا پلس پوائنٹ ہے اور کون سا منفی پوائنٹ ہے۔

 

سردار عبدالقادر کھوسہ  کا سب سے پہلا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ  ایم این اے  سردار امجد فاروق کھوسہ  کے فرزند ہیں۔ سردار امجد فاروق کھوسہ  کی سیاست کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو وہ بولتے کم ہیں جبکہ کام زیادہ کرتے ہیں۔  اگر میں یہ کہوں  کہ ترقیاتی کام ان کی پہچان ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔

 

دوسرا پلس پوائنٹ سردار محسن عطا کھوسہ ہیں۔ سردار محسن عطا کھوسہ کا اس حلقہ میں بہت اثررسوخ ہے جو قادر خان   کی جیت میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

تیسرا پلس پوائنٹ سردار عبدالقادر کا یہ ہے وہ اسی حلقہ کی ایک یونین کونسل سے گراس روٹ لیول کی سیاست کر کے ضلع کونسل کی چیئرمین شپ تک پہنچے۔ اس حلقہ میں ان کی موجودگی اور لوگوں میں حاضری انہیں سردار سیف الدین سے بہتر امیدوار بناتی ہے۔

 

چوتھا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ اس وقت حکمران جماعت ن لیگ کے ٹکٹ پر ہیں۔ ان کی سابقہ کارکردگی اور پی ٹی آئی حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے باعث لوگوں کا رحجان ن لیگ کی جانب زیادہ ہے ۔

 

اب آتے ہیں سردار سیف الدین کھوسہ کی جانب ،  ان کا پہلا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے فرزند ہیں۔

 دوسرا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ طویل عرصہ سے اپوزیشن کی سیاست کر رہے ہیں  شاید عوام اس وجہ  سے  اسے موقع دینے کی ٹھان لے ۔

 تیسرا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے باعث چونکہ سیف خان ، قادر خان سے عمر میں بڑے ہیں تو کھوسہ قبیلہ کے کچھ لوگ قادر خان کی بجائے صرف اسی وجہ سے انہیں ووٹ دیں۔

 

اب آتے ہیں دونوں امیدواروں کے منفی پوائنٹس کی جانب تو میرے خیال میں سردار عبدالقادر کھوسہ کے منفی پوائنٹس ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حالیہ مہنگائی کے باعث شاید کچھ لوگ ن لیگ کا امیدوار ہونے کے ناطے انہیں ووٹ نہ دیں اور وسرا منفی پوائنٹ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اور ان کے والد طویل عرصہ  سے اقتدار میں ہیں چونکہ اہل اقتدار سے لوگوں کو زیادہ شکایات ہوتی ہیں اس لئے شاید کچھ اثر ہو ۔

 

سردار سیف الدین کا  پہلا منفی پوائنٹ یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ہیں جہاں انہیں کچھ ووٹ پی ٹی آئی کے ٹائیگرز کی جانب سے ملیں گے اس سے کہیں زیادہ لوگ ووٹ نہیں دیں گے کیونکہ پی ٹی آئی کی مایوس کن کارکردگی  اور  انداز سیاست کے باعث سنجیدہ حلقے پی ٹی آئی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

دوسرا  منفی پوائنٹ یہ ہے کہ سردار سیف الدین ایک روایتی سردار ہیں وہ اپنے اور عوام کے بیچ فاصلہ رکھتے  آئے ہیں۔ ہو سکتا ہے اب ایسا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ اپنے سابقہ دور اقتدار میں لوگوں سے زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے۔

تیسرا منفی پوائنٹ یہ ہے کہ وہ اپنے سابقہ ادوار میں عوامی مسائل اور ترقیاتی کاموں کے حوالے کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ سوائے ووٹ لینے کے انہوں  نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوئی خاطر خواہ کوششیں نہیں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام انہیں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بہتر نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ سیف خان ایک روایتی سیاستدان ہیں کہ ووٹ لئے اور پھر رات گئی بات گئی والی بات کی طرح عوام کو بھول جاتے ہیں اور پھر اگلے الیکشن میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔

 

میرے خیال اب مختصر کیا جائے کیونکہ لوگ کافی حد تک سمجھ چکے ہوں گے کہ کس امیدوار کا پلڑا بھاری ہے۔

 

 بہت سے سیاسی پنڈتوں کے مطابق  سردار قادر خان کھوسہ ، سردار سیف الدین کھوسہ پر کافی بھاری پڑنے جا رہے ہیں۔

 

مگر میری اہل حلقہ سے گزارش ہو گی کہ سترہ جولائی کو بڑھ چڑھ کر ووٹنگ میں حصہ لیں تا کہ  آپ اپنے امیدوار کی جیت میں کردار ادا کر سکیں ۔۔۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے