![]() |
سردار ذوالفقار علی کھوسہ اور سردار امجد فاروق کھوسہ |
پی پی 288
کا معرکہ، 2 سردار آمنے سامنے
تحریر: عاشق حسین قیصرانی
ہوس اقتدار کی کوئی حد نہیں ہوتی جس کے آگے دین و دنیا کوئی چیز آڑے نہیں آتی پاکستانی سیاستدانوں کے ذہنوں پر ان دنوں ایک ہی بھوت سوار ہے کہ اپنی زندگی میں مورثی سیاست کو کیسے تحفظ دیں اور اپنے جانشین کیسے مقرر کریں تاکہ ان کے بعد ان کے خاندان میں اقتدار کی تقسیم کے جھگڑے نہ ہوں قتل اور خونریزی تک نوبت نہ پہنچ جائے الحمد للہ کچھ سیاستدان اس میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ جن میں زرداری، نواز شریف، فضل الرحمن، شہباز شریف وغیرہ ان کی اولادیں بلاول، مریم، حمزہ، صفدر، اسد اقدار کی سیڑھی پر چڑھ چکے ہیں جبکہ اگلی کھیپ پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت کے بیٹوں نے بھی ٹریننگ مکمل کر لی ہے اور ان کی بھی انٹری جلد متوقع ہے ماشاءاللہ ہمارے ضلع ڈیرہ غازیخان کے کھوسہ سردار بھی کسی سے پیچھے نہیںرہے موروثی سیاست کی منتقلی کا عمل یہاں پر بھی شروع ہوچکا ہے پی پی288 کے الیکشن میں سردار ذوالفقار علی کھوسہ اپنے بیٹے سردار سیف الدین کھوسہ جبکہ سردار امجد کھوسہ نے اپنے بیٹے قادر کھوسہ کو میدان میں لے آئے ہیں۔
پہلے کھوسہ خاندان بزرگ سیاستدان ذوالفقار خان کی قیادت میں متحد تھا اور ذوالفقار خان کا حکم فرمان کی حیثیت رکھتا تھا ذوالفقار خان اور امجد خان اکٹھے سیاست کرتے تھے۔ پیار محبت یگانگت بزرگی اور احترام کا رشتہ برقرار رہا اور کھوسہ خاندان کا ضلع ڈیرہ غازیخان کی سیاست پر مکمل ہولڈ رہا بلکہ تخت لاہور میں بھی اہم مقام حاصل تھا ضلع کی سیاست میں ہمیشہ لغاری خاندان سے ٹکر لی ذوالفقار خان کھوسہ اور ان کے بیٹوں نے ڈیرہ غازیخان کی سیاست کو کنٹرول کیا جب کہ امجد خان کے ذمہ تونسہ کی سیاست تھی۔ پاکستان کے دیگر خاندانوں کی طرح یہ خاندان بھی اندرونی اختلافات سے نہ بچ سکا اور اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ بزرگ اور برخوردار آمنے سامنے آگئے۔ اختلاف کے بعد ذوالفقار خان سیف الدین اور دوست محمد تو اقتدار کے مزے لوٹتے رہے کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب تو کبھی سینئر منسٹر مگر امجد خان کے لئے حالات موزوں نہیں رہے اور وہ کم نظر آنے لگے صبح کو ڈیرہ غازیخان میں ارشد علی کاکڑ کے چیمبر میں نظر آتے تو شام کو اپنے فارم ہاﺅس میں سیر کرتے لیکن تونسہ میں اپنی سیاست جاری رکھی۔ اور تونسہ نے امجد خان کو سیاسی محاذ پر زندہ رکھا ۔ذوالفقار خان اور دوست محمد کے میاں برادران کے ساتھ اختلاف ہوئے تو امجد کھوسہ کو مسلم لیگ ن میں اپنا مقام بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگی اور ذوالفقار کھوسہ کی میاں برادران کی دشمنی کو کیش کرایا۔ میاں برادران کے ساتھ محبت یہاں تک بڑھی کہ 2018کے الیکشن کے موقع پر نواز شریف لندن میں یہ کہتے سنائی دیئے کہ میرے دیرینہ دوست امجد کھوسہ کو وفاداری تبدیل کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ اور یہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ ایم این اے کی ایک سیٹ رکھنے والے امجد کھوسہ کو اپنے بیٹے کےلئے ضلع ناظم کی سیٹ طشتری میں سجا کر دی گئی اور بڑے لغاری سردار منہ تکتے رہ گئے تھے۔ ان اختلافات کے موقع پر ذوالفقار علی کھوسہ نے کہا تھا کہ جس شخص کو میں نے انگلی پکڑ کر سیاست سکھائی آج وہ مجھے چیلنج کررہا ہے یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ 2018کے الیکشن میں یہ بات سچ ثابت ہوئی اور ذوالفقار خان کھوسہ اپنے شاگرد امجد خان کھوسہ کے ہاتھوں این اے190کی نشست پر ہار سے دوچار ہوئے۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب کہ دونوں سردار اس وقت کہاں کھڑے ہیں انہیں کس مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن اس سے پہلے محسن خان کھوسہ کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ڈی جی خان کی سیاست کے اہم فگر ہیں اور انہیں کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر الیکشن ہورہا ہے اگر ان کا ذکر نہ ہوتو کالم ادھورا رہ جائے گا۔
محسن خان کھوسہ:
محسن خان کھوسہ قسمت کے دھنی ہیں مجھے یاد ہے جب میں 80اور90کی دہائی میں کوٹ ہیبت سکول میں تعینات تھا تو وہ صبح کے وقت چوک چورہٹہ پر میری محسن خان کے ساتھ ملاقات ہوتی تھی اور وہ سکوٹر پر سوار ہو کر کالج جارہے ہوتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین سے فضا میں پہنچ گئے۔ نہیں وجہ کیا بنی یہ مقدر کا سکندر بن گئے۔ ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری جو پہلے سرکاری کنٹرول میں تھی بعد میں حکومت نے میاں منشاءکے ہاتھوں انہیں کوڑیوں کے بھاﺅ فروخت کردی تھی۔اس وقت فیکٹری میں بولی کی قیمت سے زیادہ سامان موجود تھا
اس وقت کے ایم ڈی سیمنٹ فیکٹری مرتضیٰ خان قیصرانی نے کمپنی سے ٹھیکوں کے حصول داﺅ پیچ سے محسن کھوسہ کو آشنا کیا۔ سردار صاحب کی خوبی یہ بھی ہے کہ عوام کو پیار اور رعب دونوں طرح سے کنٹرول کرنے کا فن بھی جانتے ہیں پولیس افسروں پر بھاری سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں لادی گینگ آپریشن کے دوران ان پر الزام لگے تھے۔ جس کی انہوں نے بی بی سی پر تردید کی تھی خدامعلوم کہ اس بار الیکشن سے کیوں کنارہ کش ہوئے۔
۱۔ پیریڈ کم تھا یا کوئی سیاسی اختلاف وجہ بنے۔
۲۔ میڈیا وار کا خطرہ کہیں نوجوان لوٹا چور یا ڈاکو کے نعرے سے استقبال نہ کریں۔ یا پی پی 288 میں بڑھتی ہوئی ڈکتیاں اور دیگر جرائم کے حوالے سے جواب دہی کے عمل سے گزرنا پڑے گاویسے بھی سجاد لاشاری نے معاف تو نہیں کیا اور آئے روز پوسٹیں لگا کر ان کو ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں بہر حال میں ان کے حوصلہ کی داد دوں گا کہ اتنی زیادہ سخت تنقید کے باوجود بھی انہوں نے آج تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔
سردارقادر
کھوسہ:
قسمت کی دیوی ہمیشہ ان پر مہربان رہی ہے سیاسی تربیت میں جہاں امجد خان جیسے زیرک سیاستدان کی کاوشیں شامل ہیں وہاں پر سیاسی گرو مقصود خان لغاری نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ یوسی ناظم شاہ صدر دین سے ضلع ناظم ڈیرہ کا سفر طے کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی اس بار پی پی 288 میں بطور ایم پی اے قسمت آزمائی کررہے ہیں یہ سیٹ صرف ان کی بقاءکی جنگ نہیں بلکہ چھوٹے اور بڑے میاں دونوں کے لئے اہم ہے ورنہ یہ حکومت منہ کے بل گرے گی اس لئے ان کے پاس یہ گولڈن چانس ہے کیونکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ڈیرہ کی مقامی انتظامیہ اویس لغاری اور جمال لغاری بھی ان کی جیت کے لئے بے قرار ہیں کیونکہ ان کو ان کی محبت سے زیادہ حمزہ کی فکرکھائے جارہی ہے۔یہ بہادر گڑھ گروپ کا سارا آبائی حلقہ ہے اور اپنا ہوم گراﺅنڈ ہے پہلے این اے 171 میں ہونے کی وجہ سے امجد خان نے اپنے فنڈ یہاں استعمال کئے این اے190 میں ہونے کی وجہ سے اس میں اب بھی بہت زیادہ فنڈ آئے ہیں محسن کھوسہ نے بھی اپنے اس حلقہ میں فنڈ استعمال کئے ہیں۔ اور سی ایم عثمان بزدار نے بذریعہ طورو بزدار اس حلقہ کے لئے اپنے خزانے کے منہ کھول دیئے ان حالات میں بھی قادر کھوسہ یہ سیٹ نہ جیت سکے تو اگلی مرتبہ این اے 190 بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ مختصر سا جائزہ کہ اس وقت قادر کھوسہ کہاں کھڑا ہے۔
۱۔
ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی کبھی ہار کی روایت ہی نہیں رہی۔
۲۔
الیکشن کمیشن ہوں ہائی کورٹ ہو، یا نیوٹرل ہوں ان سب کی محبت آج کل (ن) کے لئے عیاں
ہے۔
۳۔
سارے سرکاری وسائل ان پر نچھاور کئے جارہے ہیں۔
۴۔
ایک ہی ٹیلی فون کال پر ہر طرف سے یہی جواب موصول ہوتا ہے کیا حکم ہے آقا۔
سرکاری
ملازمین کی ڈیوٹی مرضی کا عملہ اور ۔سرکاری ملازمین کی پوسٹل بیلٹ تو تحفہ کی صورت
میں ملیں گے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ مسلم لیگ ن کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ ضمنی الیکشن کے موقع پر وہ لاہور سے یا دیگر علاقوں سے کچھ ایم این اے حلقہ میں بھیج دیتے ہیں تاکہ وہاں کے مقامی امیدوار اور انتظامیہ سے مل کر اس بات کا جائزہ لیں کہ اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں جوحائل ہیں اسے کس طرح دور کیاجائے۔ یہی عمل پی پی288میں بھی دہرایا جارہا ہے۔ سرکٹ ہاﺅس ڈیرہ غازیخان میں حکومت پنجاب کی طرف سے اعلیٰ شخصیات پہنچ رہی ہیں جس کے ساتھ اویس لغاری اور مقامی امیدوار میٹینگیں کررہے ہیں۔ کوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے دور کیاجائے تاکہ بعد میں ہار کے گندے نعرے نہ سننے پڑیں۔
لیکن
مسلم لیگ نون کی گرتی ہوئی ساکھ اور غیرمقبول فیصلوں کے اثرات اس الیکشن پر بھی نمایاں
نظر آئیں گے۔ تیل بجلی، کھاد، اور مہنگائی وغیرہ۔
اتنا
زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنے کی وجہ سے چوریاں ڈاکےجو دن دہاڑے ہورہے ہیں اور لاءاینڈ
آرڈر کی خراب صورتحال کی ذمہ داری بھی لینا ہوگی۔ اور خطرہ یہ بھی رہے کہ ناراض ووٹر
پولنگ بوتھ پر جاکرکہیں باغی نہ ہوجائیں۔
الیکشن
کے دن پی ٹی آئی کے جذباتی ورکر کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہوجائے۔
14جولائی کو عمران خان کی آمد کے موقع پر پورے بہادر گڑھ گروپ کو ایک بڑے میڈیا وار
کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے لئے ذہنی طور پر تیار ہونا پڑے گا۔کیونکہ کھوسہ د
سرداروں
نے آج تک چور ڈاکو لوٹے اور غدار کے نعرے ایسے بے باکی سے کبھی نہیں سنے۔
سیف
الدین کھوسہ:
بڑے باپ کے بڑے بیٹے ہیں جو ایم این اے اور ایم پی اے اور ضلع ناظم بھی رہے۔ ان کی سیاست کا مرکز ہمیشہ ڈی جی خان کے جنوب میں کوٹ چھٹہ و دیگر ایریا رہا۔پی پی 288یا ڈی جی خان کے شمال میں انہوں نے کبھی توجہ نہ دی اور نہ ہی کبھی عوام کو لفٹ کرائی اور نہ ہی کبھی کسی کی خوشی غمی میں شریک ہوئے۔ سوائے چند بڑے لوگوں کے۔ پچھلے الیکشن میں سردار ذوالفقار کھوسہ کو تو بڑے پیمانے پر ووٹ ملے تھے مگر موصوف لمبے مارجن سے ہارے اس کے بعد حلقے کو خیر باد کہہ گئے تھے۔
محسن خان اور امجد خان جوکہ آزاد ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہوئے تھے ان کی مانگ بہت زیادہ تھی اور وہ پی ٹی آئی کی حکومت میں چلے گئے اور ان پر فنڈز کی برسات بھی ہوئی لیکن ملکی سطح پر آنے والی تبدیلی کے آفٹر شاک ڈی جی خان میں بھی محسوس ہوئے۔ امجد خان اور محسن خان کے ضمیر اچانک جاگ اٹھے امجد خان کی خوبصورت اور رنگین تصویر سندھ ہاؤس میں نظر آئی اور حمزہ شہباز شریف محسن خان کے گن گاتے نظر آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد محسن خان کی خالی سیٹ کے لئے پی ٹی آئی اور عمران خان کو ایک بار پھر سیف کھوسہ کی یاد ستانے لگی اور شاہ محمود کے ساتھ ہونےوالی ملاقات میں گلے شکوے دور ہوئے سیف کھوسہ نے زیادہ غصہ سی ایم عثمان بزدار پر نکالا۔ سیف کھوسہ کے علاوہ بہادر گڑھ والوں کے مقابلے میں کسی کو درخواست جمع کرانے کی جرات نہیں تھی اور نہ ہی کوئی الیکشن کے دن اپنے پولنگ ایجنٹ سامنے لاسکتا۔
مسلم لیگ ن کی گرتی ہوئی ساکھ غیرمقبول فیصلوں ڈیزل، بجلی پٹرول کھاد کی اور مہنگائی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
۲۔ بہادر گڑھ گروپ جو کئی برس تک اقتدار پر قابض رہے ان سے سوال بنتا ہے کہ دن دیہاڑے ہونےوالی چوری ڈکیتی اور بد عملی کا ذمہ دار کون ہے آخر اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
پی ٹی آئی کے جذباتی ورکر الیکشن مہم چلارہے ہیں اور الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشن پر پہنچ کر کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دینگے۔پی ٹی آئی اور عاصم زبیر کھوسہ کے ووٹ بنک نے سیف کھوسہ کی مہم کو نئی سمت دی ہے۔
عمران خان کی ڈی جی خان آمد کے موقع پر مہم میں نئی جان پڑ جائے گی۔ لیکن دوسری طرف عوام یہ سوال بھی ضرورکرینگے کہ 2018کے الیکشن کی ہار کے بعد آپ کہاں گم ہوچکے تھے اس بار بھی الیکشن کے بعد گم ہوجائیں گے یا الیکشن کے دنوں میں نظر آئیں گے۔
الیکشن کے بعد ہمارے خلاف اگر کسی قسم کی انتقامی کارروائی ہوئی تو آپ ہمارے ساتھ ہونگے یا نہیں۔ اگر آپ دونوں سرداروں کی صلح ہوگئی تو ہمارے لئے کیا پیغام ہوگا۔
ووٹرکا سوال:
۱۔ کیا دونوں سردار اس بات پر متفق ہیں یوسی چئیرمین ایم این اے یا ایم پی اے صرف کھوسہ سردار ہی ہونا چاہے اور کوئی نہیں۔
۲۔
میاں منشا کی فارمی گائے(سیمنٹ فیکٹری) کا دودھ پینے کا حق صرف کھوسہ سرداروں کو ہے
اور کسی کو نہیں۔
فیکٹری کے ٹھیکے محسن خان کو ملے ،قادر خان کو ملے حسام خان کو ملے اور کوئی اچھی نوکری ہو وہ بھی سرداروں کو مل جائے۔یا فوڈ سپلائی کا ٹھیکہ، کیا ان سارے ٹھیکیدار سرداروں نے کبھی عوام کی ویلفیئر کے لئے میاں منشاءکے آگے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے کہ حضور عوام کے لئے سکول ہسپتال کالج یا غریب طلباءکے لئے کوئی وظائف یا مالی امداد کریں۔ کیا ان مقامی عوام کے لئے ہمیشہ ان کا مقدر بیماریاں، آلودگی مسائل اور پریشانیاں ہیں یا چوریاں ڈکیتیاں رہزنی ہمارا مقدر ہیں۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ آج تک کوئی سردار لادی گینگ کی زد میں کیوں نہیں آیا۔ دہشت گرد لادی گینگ کا وجود صرف تمن کھوسہ اور کھوسہ ایریا میں کیوں ہے ضلع کی دیگر بلوچ اقوام قیصرانی بزدار لغاری ایریا میں کیوں نہیں آخر اس کی پشت پناہی اور آبیاری کون کررہا ہے۔ ان پیارے سرداروں نے کتنی بار کھڑے ہو کر اس گینگ کے خلاف اسمبلی میں احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
پی
پی288کے حوالے سے دیگر سیاستدانوں کا رول:
عثمان
بزدار:
ان کوپی پی 288 کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں کیوں کہ جس پارٹی نے ان کے سر پر سی ایم شپ کا تاج رکھا تھا اس کے امیدوار کے ساتھ آج تک کسی مہم میں نظر نہیں آئے۔ بلکہ اکثر ٹاک شو میں اینکر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ عثمان خان کے بھائی مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عثمان خان نے اپنی سی ایم شپ کے دوران قادر کھوسہ کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جب ڈی جی خان آتے تو سرکٹ ہاﺅس میں ہر بریفنگ میں شریک ہوتے اور بزدار ہاؤس میں نمایاں ہوتے۔ ساہیوال میں ایک دفعہ جب عثمان خان نے تمام دوستوں کو اکٹھا کیا تھا تو وہاں پر بھی قادر خان نمایاں نظر آتے تھے۔ اتنے بڑے پیمانے پر انہوں نے 190میں کام کئے جس کا ذکر ہی نہیں اس کی وجہ صرف اور صرف طورو بزدار تھے یہی وجہ ہے کہ جب 25مئی کو طورو خان بزدار کھرڑ بزدار میں روپوش گئے اور اس کا بیٹا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تو انہوں نے آر پی او سے اس کی رہائی کروائی اور احسان کا بدلہ برابر کیا جب کہ دیگر پی ٹی آئی رہنماوں کو رہائی نہ مل سکی۔ بہر حال عمران خان کی ڈیرہ آمد عثمان خان کے لئے ایک امتحان سے کم نہ ہوگی کہ انہیں سٹیج پر کس کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔ پھر سب کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اس وقت وہ پی ٹی آئی میں کس مقام پر ہیں۔
زرتاج
گل:
زرتاج گل کو تو سیف الدین کھوسہ کے الیکشن میں دلچسپی ہو نہ ہو وہ خود کہتی ہے کہ میں خان کے حکم کے تعمیل کررہی ہوں ورنہ میں سرداروں کے حق میں کبھی مہم نہ چلاتی۔
حنیف
پتافی:
وہ سیف خان کے حق میں مہم تو چلا رہے ہیں لیکن انہیں خطرہ ہے کہ کامیابی کے بعد سیف الدین بھی کہیں پہلے کی طرح ڈیرہ غازیخان میں اپنے بھائی کو سپوٹ کرتے ہوئے نظر نہ آئیں۔
جاوید
لنڈ:
وہ بڑھ چڑھ کر سیف الدین کھوسہ کی حمایت کررہے ہیں۔ اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے سیاسی حریف کمزور ہوں جن کے ساتھ ان کا ہمیشہ سے مقابلہ چلا آرہا ہے۔
بیوروکریٹ
کا رول:
ڈی جی خان کے بیوروکریٹ کمشنر، ڈی سی ، آر پی او ، ڈی پی اواس وقت سربسجود ہیں اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے باری تعالیٰ ہم گناہ گار ہیں خطا وار ہیں سزا وار بے بس ہیں تو ہی ہمارے حال پر رحم فرما قادر کھوسہ کو کامیاب فرما ورنہ چھوٹے اور بڑے میاں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ ضمنی الیکشن میں انہوں نے کبھی لفظ ہار تو سنا ہی نہیں۔ اور خطرہ ہے کہ یہ پُر کشش عہدے کہیں ہم سے چھن نہ جائیں اور ڈی جی خان کی گونگی بہری لنگڑی لولی عوام پر ہمیں حکمرانی کا موقع نہیں ملے گا۔
17جولائی کو صرف قادر اور سیف کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ یہ طے ہوگا کہ مستقبل میں پاکستان پر حکمرانی کون کرےگا مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی عدالتی فیصلے اور مسلم لیگ نون کے تیور دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کےلئے گنجائش بہت کم ہے بہر حال 17جولائی کی شام کو کہیں پر جشن ہوگا فائرنگ اور پٹاخوں کا شور اور کہیں پر ماتم ہوگا اور دھاندلی کا شور ہوگا۔ البتہ17جولائی الیکشن کے بعد ہمیں یہ سمجھنے میں بھی آسانی ہوجائے گی کہ کیا اس الیکشن میں واقعی نیوٹرل نیوٹرل ہی رہے ہیں۔


0 تبصرے