![]() |
| تصویر: سوشل میڈیا |
بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں بادل پھٹنے سے 13 سے زائد افراد ہلاک، 36 لاپتہ
بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں ہمالیہ کے ہندوؤں کا مذہبی مقام غار امرناتھ کے قریب بادل پھٹنے (شدید بارشوں) کے سبب سیلاب آنے کے بعد 13افراد ہلاک اور کم از کم 36 افراد لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز" کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں ہندو یاتری ہر سال زیارت کے لیے گلیشیئرز اور پانی سے بھری پگڈنڈیوں کو عبور کرکےامرناتھ غار تک پہنچتے ہیں، جس میں ایک برف کا اسٹالگمائٹ ہوتا ہے جسے دیوتا شیو کا جسمانی مظہر(اوتار) سمجھا جاتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے پولیس سربراہ وجے کمار نے بتایا کہ غار کے قریب بادل پھٹنے کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران 8 لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چند خیمے
اور کمیونٹی کچن کو سیلاب بہا کر لے گیا ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہ ہونے پر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13 سے زائد ہے کیونکہ مزید پانچ لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امدادی
کارکنوں نے ملبے تلے دبی کئی لاشیں نکالیں۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹ کیا کہ وہ غمگین ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں۔
Anguished by the cloud burst near Shree Amarnath cave. Condolences to the bereaved families. Spoke to @manojsinha_ Ji and took stock of the situation. Rescue and relief operations are underway. All possible assistance is being provided to the affected.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 8, 2022
انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو اور ریلیف کا آپریشنز جاری ہے، متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
غار سال بھر برف سے ڈھکا رہتا ہے، حکام موسم گرما میں زائرین کو 45 دن تک جانے کی اجازت دیتے ہیں کیونکہ اس دوران بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے راستے صاف ہو جاتے ہیں۔
کووڈ-19 کی وجہ سے دو سال بعد زیارت کی اجازت دی گئی ہے، حکام مزار پر ریکارڈ 8 لاکھ ہندوؤں کے آنے کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ ابتدائی 10 دنوں میں 60 ہزار سے زائد لوگ آچکے ہیں۔
بھارتی افواج خودکار رائفلیں اور جیکٹس پہنے سڑکوں پر پہرہ دے رہے ہیں کیونکہ جون میں مسلم اکثریتی علاقے میں زائرین کی آمد شروع ہو گئی تھی۔


0 تبصرے