سردار عثمان بزدار اینٹی کرپشن کے نشانے پر... تحریر۔عاشق حسین قیصرانی

سردار عثمان بزدار اینٹی کرپشن کے نشانے پر تحریر۔عاشق حسین قیصرانی

 

سردار عثمان بزدار اینٹی کرپشن کے نشانے پر
تحریر۔عاشق حسین قیصرانی
 

 

ڈیرہ غازیخان کے بیورو کریسی اس وقت سکتے میں ہے کہ اپنے سابقہ باس سردار عثمان بزدار کی کرپشن کے کیس کیسے تلاش کئے جائیں اور کیسے انھیں اور انکے بھائیوں کو گرفتار کیا جائے اسی سلسلے میں آج شام آنٹی کرپشن پنجاب نے پولیس اور ایلیٹ کی بھاری نفری کے ساتھ بیک وقت بزدار ہاؤس ڈی جی خان اور تونسہ شریف پر چھاپے مارے۔ اس دوران کوئی گرفتاری تو نہیں ہوئی البتہ عثمان بزدارکے تمام بھائیوں کا حکام پوچھتے رہے یہ کاروائی ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔

 

اس چھاپے کو اب ٹریلر سمجھا جائے یا کچھ اور ایک بات واضح ہے آنے والے دنوں میں بزدار چیف کی فیملی کے گرد گھیرا تنگ ہونے جارہے ہے۔ کچھ دن پہلے بھی ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب تونسہ کے مفتوحہ علاقے میں بارتھی روڈ پر فاتحہ انداز میں سبز نمبر پلیٹوں، نیلی بتییوں، ہوٹر والے ڈبل ڈور ڈالوں پر سوار ہوکر اینٹی کرپشن عملہ کے ہمراہ بارتھی کی جانب رواں دواں تھے یہ کوئی بیوروکریٹ نہیں بلکہ ہمیں کسی وائسرائے کی گاڑیاں لگتی تھیں بارتھی جاکرانہوں نے اپنا کام مکمل کیا بعد میں یہ گاڑیاں بکھرے ہوئے ریوڑ کی طرح پل و دیگر منصوبوں کو چیک کرتی ہوئی نظر آئیں شاید ان کو تخت لاہور سے سخت آرڈر ملے تھے۔

 

 ان کی سرگرمیوں کو دیکھ کر ایک عام شہری نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا جب عثمان خان بزدار سی ایم تھے تو یہ گاڑیاں ان کے آگے ہوتی تھیں اب جب کہ وہ سی ایم نہیں رہے تو یہ گاڑیاں ان کے پیچھے لگی ہوئی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ لوگ شکاری کتے کی طرح اپنے شکار کی تلاش میں تھے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے عثمان بزدار کے منصوبوں میں کرپشن کے ثبوت ملے یا رقبوں کی ہیرا پھیری کے ثبوت ملے۔ اسی دوران رکھ چونی کی زمین نہایت اہمیت اختیار کر گئی اور میڈیا میں چھا گئی۔ اس کی اہمیت ریکوڈک کی زمین سے بھی زیادہ اختیار کر گئی جیسے سونا نکل رہا ہو ڈی سی سے لے کر پٹواری تک برسوں پرانے ریکارڈ جھاڑ پھونک کرتے رہے جو گردو غبار سے اٹاہوا تھاموٹے موٹے عینکوں کی شیشوں سے چیک کیاجاتا رہا اور ڈی سی اور اس کے ساتھیوں کی بھی دن رات کی محنت رنگ لائی۔ بڑی محنت کے بعد انہیں جعلسازی کا سراغ مل گیا اس لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 

 

 اس ٹیم نے محکمہ اینٹی کرپشن کو ریکارڈ فراہم کر کے ڈیرہ غازیخان میں عثمان بزدار اور ان کے بھائیوں کے خلاف900 کنال کی جعلسازی کی ایف آئی آرز درج کرادیں۔ اس کے بعد بھی تخت لاہور کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوئے اور مختلف زمینوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ریکارڈ کی طلبی کاکام جاری ہے۔ یہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر یہ الاٹ منٹ جعلی تھی تو مسلم لیگ ن والوں نے 2013کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ کیوں دیا تھا اور بیوروکریسی اب تک خاموش تھی اچانک ان کا ضمیر کیوں جاگ اٹھا اور کیا اب ان بیوروکریٹ کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہوسکے گی۔ ایک سوال تمام مبصرین اٹھا رہے کہ سردار عثمان بزدار کے خلاف کیسز میں زیادہ دلچسپی تخت لاہوروالوں کوہے یا ڈی جی خان کے مقامی سیاست دانوں کو۔

 

 

عثمان بزدار نے بہاولپور ہائی کورٹ سے اپنی ضمانت کروالی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں عدلیہ سے انصاف کی توقع ہے۔ اینٹی کرپشن ہو یانیب حکومت جانے کے بعد ہر سیاستدان کے لئے پھندے تیار رکھتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ڈی جی خان اینٹی کرپشن کی بھی ہمیشہ سے روایت چلی آرہی ہے کہ اقتدار کے بعد وہ ہرسردار کو سلامی ضرور دیتی ہے خواہ وہ لغاری سردار ہوں قیصرانی سردار ہوں اب دیکھنا یہ ہے کہ سردار عثمان خان بزدار کے حامیوں اور پی ٹی آئی کی طرف سے کیسا ری ایکشن آتا ہے جو اقتدار کے دوران مزے لوٹتے رہے کوئی احتجاجی جلوس نکالتے ہیں روڈ بلاک کرتے ہیں یا فیس بک اور سوشل میڈیا پر اپنا ریکارڈ کراتے ہیں۔ ویسے عام شہری یہ پوچھنے کا تو حق رکھتا ہے کہ پاکستان کے سرکاری رقبے ہوں جنگلات ہوں یا رکھ ہوں ان کی الاٹمنٹ کا حق صرف فوجی بھائیوں اور سرداروں کا کیوں ہے۔

 

 

سردار عثمان بزدار کے خلاف ن لیگ کی انتقامی کاروائی اپنی جگہ لیکن تونسہ اور ڈی جی خان کے حوالے سے ان کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں ان کے دور میں ضلع ڈی جی خان کے لیے خزانے کے منہ کھلے ہوئے تھے لیکن اس بار بجٹ تو ڈی جی خان کے سپوت نے پیش کیا لیکن عوام کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملا اور عثمان خان عوام کو بہت یاد کیا۔

 

 

آخر میں اس ٹھیکے دار کا ذکر جسکے سامنے بولی میں کسی حریف بولی دینے کی جرات نہیں تھی۔۔ بغیر جال لگائے سنگھڑ سپر بند پر پتھر لگانے کی کس نے اجازت دی کس نے بھاری کمیشن لیا کیا محکمہ ایری گیشن نیند میں تھا یا پیسے کی چمک کھو گیا تھا۔رود کوہی آنے کے بعد کا منظر آپ کے سامنے ہے کہ اکثر پتھر پانی میں بہہ رہے ہیں۔ کتنا قومی نقصان ہواہے اس کابھی نوٹس لینا چاہئے۔ والسلام

 

#سردار_عثمان_خان_بزدار_انٹی_کرپشن_کے_نشانے_پر


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے