نظم
کلام: ایمان قیصرانی
وہ زندگی کی غلام گردش ۔۔۔۔۔
ابھی کہانی کی ابتدا تھی ۔
ابھی محبت کے بھید بھاؤ بہت پرے تھے ۔
ابھی رفاقت کی ساری رمزیں ،تمام قصے ،تمام حصے ،
کہیں رہین ِ مقام ِ دل تھے ،
بہت حسیں تھے، بڑے سجل تھے ۔
تو پھر کہاںی کی ابتدا میں ،
یہ کس نے آ کر مرے نصیبوں میں راکھ بھر دی ؟
اُجاڑ ڈالے مری اُمیدوں کے سب بسیرے ،
یہ بود و نابود کے فسانے،
کسی نے ایسے جو نوچ ڈالے ،
تو آسماں کا کلیجہ چھلنی نہیں ہوا تھا ؟
وہ ننھی کونپل ،وہ نرم جزبہ ،
کسی ستم گر نے ایسے روندا ،
کہ زندگی کی غلام گردش میں اُسکے حصے کی ایک
چھوٹی سی قبر اب تک
اندھیری راتوں میں راہ چلتے اُداس لوگوں کو
روکتی ہے،
یہ پوچھتی ہے ،
ملا کے مٹی میں خاک میری ،
مجھے بتاؤ، مرے خداؤ ،
کہ میرے کوزہ گر نے،سکون پایا کہ چین کھویا ؟
ہمارے حصے کا کوئی آنسو ؟
ہماری قسمت پہ کون رویا ؟
وہ کس نے پایا جو ہم نے کھویا ؟
کوئی بتائے تو اتنا مجھکو،
ابھی کہانی کی ابتدا تھی۔۔۔۔۔۔
شاعرہ: ایمان قیصرانی


0 تبصرے