یہ ہے
بستی لشاری
تحریر:عاشق
حسین قیصرانی
یہ بستی کوہ
سلیمان کے چٹیل سنگلاخ کالے اور بھورے پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے شمال میں تھر جیسا
ریگستان ہے تو جنوب میں مشہور پیر شیخ وداد کے نام سے تاریخی قبرستان ہے اور مشرق میں
ڈھوڈک پلانٹ واقع ہے۔قیام پاکستان کے بعد ان کے حصے میں ابھی تک ایک بوائز اور ایک
گرلز پرائمری سکول آیا ہے جو ان کے پاکستانی ہونے کی شناخت کیلئے معاون ثابت ہورہا
ہے۔ شاید ہی کوئی خوش قسمت طالب علم یہاں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکا ہو۔ ورنہ پرائمری
کے بعد یہ بچے تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نہ تو CSS،PMSکرنی ہے اور نہ ہی ان میں
سے کوئی ڈاکٹر،انجینئر سائنسدان یا فوجی افسر بننا ہے بلکہ اگر کوئی خوش قسمت عطا تارڑ
والا ڈسپنسر بن جائے تو کیا بات ہے۔
اس کے مشرق
میں جب ڈھوڈک پلانٹ لگا تھا تو یہ لوگ خوش تھے کہ اب ہماری قسمت ہی بدل جائے گی اور
ہم خوشحال ہوجائیں گے البتہ ان کی قسمت تو نہ بدلی چند بڑے بڑے مگر مچھوں کی قسمت ضروری
بدل گئی پلانٹ سے نکلنے والی ایل پی جی کا پچاس ٹن کوٹہ سنیٹر گلزار بیس ٹن کوٹہ سرور
کاکڑ بیس ٹن کوٹہ لکی مروت کے سیف اللہ خاندان،پچاس ٹن کوٹہ اقبال زیڈاحمد اور پچاس
ٹن کوٹہ زرداری کے قریبی ساتھی کو ایراڈ گیس کی صورت میں ملا۔ اس وقت پرائیویٹ کمپنیوں
نے بڑی تعداد میں مختلف دیہاتوں اور قصبات کے لوگ ملازم رکھے مگر بستی لشاری کا کوئی
ایک فرد بھی اوجی ڈی سی ایل تو کیا پرائیویٹ کمپنیوں میں بھی ملازم نہ ہوسکا۔
پلانٹ لگنے
کے بعد بستی لشاری کے عوام کے حصے میں کیا آیا:
اتنے بڑے پلانٹ
کی چمنی سے نکلنے والے دھویں سے وسیع پیمانے پر آلودگی پھیلی اسی وجہ سے مختلف بیماریاں
پھیلیں جس میں آشوب چشم، گلا، دمہ، دل اور جگر کی بیماریاں وغیرہ لیکن افسوس کوئی ماحولیاتی
ٹیم ان لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے آگے نہیں آئی، نہ کوئی سرخی پاؤڈر لگانے والی
این جی اوز نہ کوئی سول سوسائٹی حرکت میں آئی۔ جب یہ پلانٹ اپنے پورے عروج پر تھا تو
اس کی چمنی سے نکلنے والی روشنی نے رات کو دن میں بدل دیا تھا تیز روشنی کی وجہ سے
بستی لشاری کی عورتیں، بچے بوڑھے جوان رات کو سو نہیں سکتے تھے مچھر، مکھیاں اور دیگر
بلائیں ان کو کاٹتی تھیں مختصر یہ کہ ان کی ساری رات ماتم کرتے ہوئے گزرتی تھی مجھے
یاد ہے کہ جب صبح صبح بچے سکول میں آتے تھے تو ان کی آنکھیں سرخ ہوتی تھیں اور مچھر
کے کاٹنے کی وجہ سے منہ پر سرخ دانے نظر آتے تھے جبکہ ان کی قریبی ہمسائے اوجی ڈی سی
کے افسران اے سی والے کمروں میں آرام سے سوتے تھے۔ افسوس کہ اوجی ڈی سی کی طرف سے ویلفیئر
فنڈز کے نام سے ملنے والی کروڑوں روپے کی گرانٹ سے ان کے حصے میں آج تک ایک روپیہ بھی
نہیں آیا، نہ سکول، نہ ہسپتال اور نہ پانی پتہ نہیں یہ فنڈ کہاں پر خرچ ہوتا رہا۔ اس
ترقی یافتہ دور میں بھی سوشل میڈیا ہو الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ان کی آواز
کسی نے آگے تک نہیں پہنچائی ان بلوچوں میں اضافی خوبی یہ ہے کہ یہ خوشامد چرب زبانی
چاپلوسی ان کی فطرت یا مزاج کا حصہ ہرگز نہیں۔ یہ آسمانی خدا کے آگے جھکنا تو پسند
کرتے ہیں کسی زمینی خدا کے آگے جھکنا پسند نہیں کرتے۔ اس لئے سب کچھ مقدر اور تقدیر
کا لکھا سمجھ کر ہمیشہ انہوں نے خاموشی سے قبول کیا ہے ان لوگوں کو نہ تخت لاہور سے
کوئی گلہ ہے کہ وہاں سے کوئی منصوبہ نہیں ملا اور نہ ہی تخت بارتھی کہ بزداروں کے کسی
بھی ترقیاتی منصوبوں سے یہ لوگ مستفید نہیں ہوئے۔ روڈ، ہسپتال، صاف پانی، گیس جیسی
بنیادی سہولتوں کا حصول شاید ان کے مقدر ہی میں نہیں۔ یہ لوگ تواب بھی پرانے پتھر کے
زمانے جیسی زندگی بسر کررہے ہیں۔ جس میں یہ اور ان کے بچے زندگی بسر ان سادہ لوح پر امن اور پسے ہوئے بلوچوں نے کبھی
اپنے حقوق کے لئے نہ کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی روڈ بلاک کی ان کے لئے کبھی بھی کوئی
این جی اوز انسانی حقوق والے یا سول سوسائٹی والے میدان میں نہیں آئے اب ہم اس بات
کا جائزہ لینے جارہے ہیں کہ آخر یہ لوگ ترقی کی دوڑ میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں ان کے
ذمہ دار، سیاستدان یا وڈیرے یا پھر مقامی سردار ہیں۔
۱۔ سردار امجد فاروق کھوسہ
بستی لشاری
کے بھائیوں نے ہمیشہ اپنے ووٹ سردار امجد خان کے حق میں کاسٹ کئے ہیں جنوبی کوہر کا
کوئی بھی رزلٹ اٹھا کر دیکھ لیں تو اس میں ان کا رول نمایاں نظر آئے گا یہ بات الگ
ہے کہ ان کے ووٹوں کو کیش کون کرواتارہا۔ سردار امجد خان متعدد بار کوہر جنوبی تشریف
لائے دعوتیں بھی کھائیں خوش گپوں میں مصروف رہے لیکن بستی لشاری کا کبھی کوئی ذکر نہیں
کیا اور اتنا کہہ کررخصت ہوئے کہ”شکیلا گڈی سدھی کر جلوں“تاہم اس بات کا کریڈٹ بھی
امجد خان کو جاتا ہے واحد منصوبہ جو ابھی تک بستی لشاری کو ملا ہے بجلی کا وہ انہیں
کے توسط سے ملا۔
۲۔ خواجہ شیراز محمود
بستی لشاری
میں اگرچہ کبھی بھی خواجہ شیراز کا کبھی کوئی موثر گروپ نہیں رہا تاہم حلقہ 189میں
تو موجود ہیں۔ یہ بستی لشاری اگر کوہ سلیمان کے دامن کی بجائے انڈس ہائی وے کے نیچے
ہوتی تو خواجہ صاحب ایک ماہ میں کئی چکر لگاتے نظر آتے اورہر خوشی غمی میں شریک ہوتے
اور اب تک ان کی قسمت بھی بدل چکی ہوتی۔ ہم خواجہ صاحب سے اتنی عرض ضرور کرینگے کہ
جس طرح ریتڑہ کے لشاری مجید بلوچ ہوں یا شکور خان لاشاری پاس تو آپ جاسکتے ہیں آخر ان لشاریوں کے پاس جانے
میں کیا حرج ہے۔
۳۔ قیصرانی چیف
لشاری بھائی
اور کسی پر راضی ہوں نہ ہوں قیصرانی چیف پر مجھے راضی ضرور نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں
معلوم ہے کہ ترقیاتی کام ہوں یا منصوبے دیئے بغیر سردار صاحب کو ووٹ مل جاتے ہیں تو
انہیں یہ کاموں درد سر لینے کی کیا ضرورت ہے۔ لشاری بھائیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ
اتنے طویل اقتدار کے باوجود بہار والی سے شیخ وداد تک روڈ کا ٹکڑا مکمل نہیں ہوسکا
جس قبرستان میں سردار منظور خان مرحوم، سردار
ظہور احمد خان مرحوم اور سردار فیض احمد خان مرحوم مدفن ہیں۔ہمارے اباؤ اجدا د تو حشرات
الارض ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا۔ لشاری بھائی کوئی آسمان سے تو نہیں اترے کہ ان کے کام
خود بخود ہوجاتے البتہ لشاری بھائیوں کے لئے سنہری موقع ہے اب جب کہ ترقیاتی کاموں
کی لسٹیں تیار ہورہی ہیں اس میں اپنے منصوبے بھی شامل کرائیں۔
۴۔ سردار امام بخش خان قیصرانی
یہ بھی اپنے
حصے کے چیف ہیں شاید قوم کے لئے ان کی اطاعت بھی فرض ہے۔ یہ موصوف دیوان گروپ میں سیاہ
و سفید کے مالک ہیں سی ایم حمزہ کی طرح ایک انگلی کے اشارے پر جس کو چاہیں سروس میں
رکھیں اور جس کی چاہیں چھٹی کرادیں۔ دیوان گروپ کے تمام وسائل کی پاور انہی کے ہاتھ
میں ہے۔ لشاری بھائی کہتے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہمارا دیوان صاحب کے ساتھ کوئی
ذاتی جھگڑا تو نہیں ہے اور نہ ہی ان کی ہمارے ساتھ کوئی رنجش ہے اس لئے ہم سردار صاحب
کے میرٹ پر کیوں پورے اتر نہیں رہے۔ نہ ہی انہوں نے آج تک ہماری بستی کے کسی لشاری
کو اس قابل سمجھا ہے کہ اس کو دیوان گروپ میں ملازمت دے اور نہ ہی رمضان المبارک کے
دوران جو خیرات و صدقات تقسیم کئے جاتے ہیں اس بستی میں ہمارا نام شامل ہوتا ہے۔ البتہ
سردار صاحب سے یہ گلہ کرتے ہوئے ضرور سنائی دیتے ہیں اگر کوئی ہم سے غلطی ہو گئی ہے
تو ہمیں بتائیں ہم اس کا ازالہ کرسکیں۔
مولانا حافظ
طاہر قیصرانی
لوگ ان کے فلاحی
اور خیراتی کاموں پر سو فیصد تنقید کرتے رہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں
سے بھی فنڈ لے آتے ہیں وہ غریب عوام پر خرچ کردیتے ہیں کہیں مسجدیں بنوا رہے ہیں کہیں
سولر بنوا رہے ہیں کہیں قبرستان خرید کر دے رہے ہیں کہیں پانی کا بندوبست کر کے دے
رہے ہیں کہیں لوگوں کے روزگار کا انتظام کررہے ہیں۔ تو کہیں مچھلی کے ٹھیکے لے کر لوگوں
کو راضی کررہے ہیں ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے میرے نزدیک کم ہے لیکن یہاں پر ایک
سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ڈونیشن دینے والوں نے ان سے یہ نہیں کہا ہوگا کہ یہ فنڈ
پسند نا پسند کی بنیاد پر تقسیم کریں یا اس سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کریں۔ ایدھی،
اور چھیپا کی مثال آپ کے سامنے ہے وہ لوگ فلاحی کام تو کرتے ہیں مگر ان کا کوئی سیاسی
ایجنڈا نہیں ہوتا لیکن بستی لشاری والے بھی مولانا سے شاکی نظر آتے ہیں ان کا کہنا
تھا کہ ہمارے قریب ہی سوہاپھراغ میں قیصرانی بھائیوں اور کھوسہ بھائیوں کو الگ الگ
سولر لگا کر دیئے اور وہ میٹھا پانی پی رہے ہیں۔ کیا ہمارا جرم یہ تھا کہ ہم نہ قیصرانی
تھے نہ کھوسے، اس لئے ہمیں نظر انداز کردیا۔ ہماری مولانا سے اپیل ہے کہ ہمیں کوئی
مسجد یا درس بنوا کردیں تاکہ ہمارے بچے کم از کم دینی تعلیم حاصل کرسکیں۔
سردار ممتاز
خان بھٹو قیصرانی
اتنی تیزی سے
کام کرتے ہیں کہ لوگوں نے ان کا نام 1122رکھ دیا ہے کبھی وہوا، کبھی جھانگرہ، کبھی
نتکانی تو کبھی ٹبی قیصرانی میں نظر آتے ہیں۔عوام کی خوشی غمی میں شریک ہونا تو کوئی
ان سے سیکھے اور ہر روز فیس بک ان کی رنگین تصویروں سے بھری پڑی ہوتی ہے۔ یہاں پر بستی
لشاری کے لوگ بھی یہ بات پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ 1122کی نیلی بتی خراب ہوئی ہے
ہوٹر بند ہوگیا ہے یا انجن بیٹھ گیا ہے کہ وہ بستی لشاری کبھی تشریف نہیں لے آئے وہ
کہتے ہیں کہ ہم بھی پی پی285کا حصہ ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ سردار صاحب ایک دن بستی
لشاری میں تشریف لے آئی اور ایک سیلفی ہمارے ساتھ بھی بنوائیں۔
ڈاکٹر گل محمد
قیصرانی
ان کو بھی اپنی
پریکٹس کے ساتھ سیاست کا بھی شوق ہے تاکہ سیاست کے ایوانوں میں بھی میں نظر آؤں بستی
لشاری کی عوام نے ہمیشہ انہی کو ووٹ دیا ہے اور ان کے قریب رہے ہیں۔ لیکن میں نے کبھی
نہیں سنا کہ ڈاکٹر صاحب نے بستی لشاری میں کوئی فری میڈیکل کیمپ لگایا ہو نادار کی
کوئی ٹیم روانہ کی ہو، احساس پروگرام یا بے نظیر پروگرام میں اپنے ووٹروں کے نام درج
کرانے کیلئے سرگرداں نظر آئے ہوں البتہ اتنا ضرورہے کہ اگر کوئی لشاری بچہ بیماری کی
صورت میں ہسپتال میں آجائے تو فیس اور ادویات میں ریلیف ضرور مل جاتا ہے۔
ووٹ کی پرچی
کی طاقت:
لشاری بھائیوں
کو شاید ووٹ کی پرچی کی طاقت کا اندازہ نہیں اس کی مختصر مثال یہ ہے وزیرستان سے آنے
والی ایک عورت نے اسی پرچی کی طاقت سے یہاں کے بڑے نواب کو الٹا کردیا اور ڈی جی خان
کی سیاست پر چھا گئی۔
لشاری بھائیوں
کا اپنا ووٹ بنک تو ضرور ہے لیکن اپنا پولنگ سٹیشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کی طاقت ہر
الیکشن میں ضائع ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طاقت کو کیش کوئی اور کراتا ہے۔ کیونکہ
یہ لوگ کوہر جنوبی میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں تو رزلٹ کے وقت ان کے ووٹ کو کوہر میں شمار
کیاجاتا ہے جب تک ان کا الگ پولنگ سٹیشن نہیں ہوگا اس وقت تک ان کی شناخت نہیں ہوگی
کوئی سیاستدان ان پر سرمایہ کاری نہیں کرے گا اور ہرکسی کا جھکاؤ کوہر جنوبی کی طرف
رہے گا۔
مجید بلوچ ہوں،
صادق خان لاشاری ہوں، اگر لشاری بھائیوں کی ترقی چاہتے ہیں تو ان کے لئے الگ پولنگ
سٹیشن کا انتظام کریں تاکہ یہ اپنی الگ پاور شو کرسکیں ورنہ آپ مجیدلاشاری اور صادق
لاشاری آ کر ایک تاریخی جلسہ کر کے نعرے لگوا کر چلے جائیں گے اور آپ کے نمبر بھی بن
جائیں گے لیکن ان کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا اور ان کے ووٹ کو پہلے کی طرح بی ایم
پی اور مقامی وڈیرے کیش کراتے رہیں گے۔


0 تبصرے