تمن قیصرانی ۔۔۔ریاست ہوگی ماں کے جیسی.... تحریر: عاشق حسین قیصرانی

تمن قیصرانی ۔۔۔ریاست ہوگی ماں کے جیسی تحریر: عاشق حسین قیصرانی

 

تمن قیصرانی۔۔۔ 

ریاست ہوگی ماں کے جیسی

تحریر: عاشق حسین قیصرانی
 

کہتے ہیں ریاست ماں ہوتی ہے ماں سے تشبیہ اس لئے دی جاتی ہے کیونکہ یہ محبت کی آخری سٹیج ہوتی ہے۔ بشرط کہ کہیں ماں سوتیلی نہ ہو۔ لیکن جب سے پاکستان بنا ہے ماں اپنے لاڈلے بچوں کچھ(صوبوں) کے ساتھ تو انصاف کرتی رہی ہے لیکن کچھ بچوں (صوبوں) کے ساتھ شاید انصاف نہیں کرسکی۔ پہلے بچے بنگال سے رونے کی آوازیں آئیں۔ اور روتے روتے ان بچوں کے آنسو خشک ہوگئے جب انہیں انصاف نہ ملا تو انہوں نے ماں سے جدائی کا فیصلہ کر لیا۔ غلطی کس کی تھی کہاں ہوئی یہ تو محمود الرحمن کمیشن والے ہی بتا سکتے ہیں۔ ہمیں تو نہیں معلوم۔

 

بلوچستان کو دیکھ لیں وہاں سے بھی ہر وقت صدائے احتجاج بلند ہورہی ہیں انہیں بھی ریاست (ماں)سے گلہ ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہورہا وہاں پر بھی ساحل اور وسائل کی جنگ جاری ہے اور آوازیں یہی آرہی ہیں کہ ہمارے وسائل پر ہمارا حق تسلیم نہیں کیا جا رہا کچھ بلوچ نوجوان انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ گئے اور کچھ پہاڑوں پر چلےگئےاور ریاست سے بھی باغی ہوگئے۔ کچھ بلوچ نوجوان پاکستانی قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور کبھی نہ کبھی مذاکرات کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں۔

 

پچھلے دنوں ریاست (ماں) کے پیارے بیٹے(کے پی کے )کے سابق چیف منسٹر اور موجودہ وزیردفاع پرویز خٹک بھی اپنی ماں(ریاست) سے شاکی نظر آئے ۔ اور یہ کہتے سنائی دیئے کہ بجلی اور گیس کی رئیلٹی میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہورہا اور اس کے بعد سوچنے کے لئے ہمارے پاس کیا رہ جاتاہے۔

 

اس کے علاوہ ریاست(ماں) کی ساری توجہ جب بڑے بڑے شہروں تک محدود ہے اور اس نے صرف بڑے بڑے شہروں کو ہی پاکستان سمجھ رکھا ہے اور اس ان کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اور سارے وسائل شہروں پر ہی نچھاور کئے جارہے ہیں مثلاً اچھے تعلیمی ادارے سکول، کالج یونیورسٹیاں اور آئی ٹی کے ادارے ہسپتال سب وہیں پر ہیں گیس بجلی صاف پانی سب ان کے لئے وقف ہے سفر کے لئے میٹرو ہو اورنج ٹرین ہو سستی بسیں ہوں سب شہریوں کے لئے وقف ہو صفائی کے لئے جدید مشینری ہو یا سٹیڈیم پارک کلب بچوں کے لئے چڑیا گھر ہو خصوصی پارک ہو یا صاف ستھری روڈ روزگار کے لئے صنعتیں اور کارخانے روز گارسب بڑے بڑے دفاتر غرضیکہ جدید زندگی کی ساری سہولیات شہروں میں میسر ہیں۔ اگر کوئی کمی رہ گئی تھی تو شہروں کے اندر کنٹونمنٹ بورڈ پر بھی دل کھول کر فنڈز کی برسات کی جاتی ہے تاکہ کہیں فوجی بھائی بھی ناراض نہ ہوجائیں جو کہ مادر وطن کا دفاع کرنے کےلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس علاقہ سے ریاست (ماں) کو وسائل میسر آتے ہیں ان کے اپنے وسائل بھی ان پر خرچ نہیں کرتی۔ پہلے تو یہ لوگ ان پڑھ اور جاہل تھے مگر اب یہ لوگ سوال اٹھارہے ہیں ریاست(ماں) ڈی جی خان سے جو وسائل حاصل کررہی ہے ان کو بڑے بڑے شہروں پر کیوں خرچ کیاجارہا ہے اس میں ہمارا حصہ کیوں نہیں بنتا وسائل کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

 

۱۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں جس چیز کا اہم رول ہے وہ یورینیم ہے وہ یورینیم یہاں سے جارہی ہے۔

۲۔ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی انہی لوگوں کی ہیں آج بھی آپ ڈی جی خان کے کسی بھی قبرستان میں چلے جائیں آپ کو شہدا کی قبروں سبز ہلالی پرچم لہراتے ملیں گے۔

۳۔ ڈھوڈک پلانٹ سے نکلنے والی گیس کا ایل پی جی کا190 ٹن کوٹہ کس کس کو ملا تھا؟کوئی بھی مقامی شخص بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکا تھا۔

۴۔ یہاں کی سیمنٹ فیکٹریاں کئی میاں منشا پیدا کرچکی ہیں اور اب فوجی بھائی بھی فیکٹری لگانے کی تیاری کررہے ہیں۔


اب دیکھتے ہیں تصویر کا دوسرا رخ۔

 

ریاست(ماں) نے سارے وسائل اپنے پاس رکھے اور ان علاقوں کے وسائل بھی مال غنیمت کی طرح ہڑپ کر لیا ان محکوم، مظلوم، مجبور بے کس، بے سہارا اور میڈیا کی پہنچ سے دور اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے والے قبائلیوں کے مسائل اور دکھ درد پر ہم نے جو کالم لکھا ہے اس کی تفصیل پیش خدمت ہے۔

 

گزشتہ دنوں میں ہمیں دوسری مرتبہ تمن قیصرانی و دیگر ایریا جانے کا اتفاق ہواعثمان خان کے سی ایم بننے کے بعد کوہ سلیمان میں نئے روڈ بننے کا سلسلہ شروع ہوا قیصرانی بھائیوں کو شوق چڑھ گیا کہ ہم بھی کوہ سلیمان کا سینہ چیر کر نئے روڈز بنائیں گے مگر ان سادہ لوگوں کو کیا معلوم کہ حکومتی وسائل اور چندے سے بننے والے روڈ میں کیا فرق ہے۔ وہوا گنگ کراس کرکے آگے ٹریکٹر کے بلیڈ کی روڈ پر لکیریں نظر آرہی تھیں اور ہم اس راستے پر چل پڑے راستہ شارٹ کرنے کے لئے روڈ کو ٹرن دینے کی بجائے سیدھا پہاڑ پر چڑھایا گیا۔ شاید کسی انجینئر کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے بلوچ بھائی خود انجینئر بن گئے۔روڈ پر جہاں کام ہورہا تھا اس سے ایک کلو میٹر دور گاڑی روک کر ہم پیدل روانہ ہوئے اس عمر میں ہمیں چوٹیاں سر کرنے کا شوق تو نہیں تھا البتہ خطرہ یہ تھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے اگر گر گئے تو کمزور اعضابچوں کے کھلونے کی طرح کئی جگہوں سے ٹوٹ نہ جائیں البتہ ایک ہماری پریشانی یہ بھی تھی کہ ہڈی جوڑ کے ڈاکٹر حیدر قیصرانی اب اس پیشہ کو خیر باد کہہ چکے ہیں البتہ مقامی لوگ ہرن کے بچوں کی طرح جمپ لگا کر پہاڑ پر چڑھ رہے تھے جیسے سدپارہ چوٹی سرکررہا ہو۔

 

ہمارے ایک استاد محمد حیات خان قیصرانی کا تو دم گھٹ گیا اور وہ راستے میں بیٹھ گیا پھر اسے سہارے کے ساتھ چوٹی پر لے گئے۔

جب ہم وہاں پہنچے تو لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی ہم نے ان کے حوصلے کی داد دی کہ چٹیل اور سنگلاخ پہاڑوں پرروڈ بنارہے تھے کہ ایک دن ہمارا روڈ مکمل ہوجائے گا۔مگر نظر یہی آرہا تھا کہ اگر مسلسل ایک ماہ تک اس روڈ پر کام ہوتارہا تو نہ ٹریکٹر بچے گانہ انجن اور نہ اس کے ٹائر۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار چند کے تعاون سے کام چل رہا تھا۔ یہ رقم لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اکٹھی کی تھی اس میں کسی سردار، پیر، جاگیردار ،زمیندار سیاست دان یا کسی ملاکا حصہ نہیں تھا۔

 

تھوڑا سا ذکر ان کے مطالبات کا

۱۔ پانی:۔

ان کی ساری خوشیاں اور غم لفظ پانی کے گرد گھوم رہی ہے ان کا سب بڑا مسئلہ پانی ہی ہے۔ یہ آب حیات، زم زم، یا سوات اور کالام کے چشموں کا پانی نہیں مانگتے اور نہ ہی شہباز شریف کے داماد والا صاف پانی مانگتے ہیں۔ ہر رات سونے سے پہلے یہ قبائلی شیڈول تیار کرتے ہیں کہ صبح صبح کونسا مرد اور کونسی عورت گدھے پر کین لوڈ کر یا سر پر گھڑے اٹھا کر تالاب سے پانی کون لائے گا۔ مویشیوں کی پیاس بجھانے کی ذمہ داری کسی ہوگی۔ تالاب میں کئی کئی روز کھڑا ہوا پانی خراب ہوجاتا ہے اور بدبو کی وجہ سے مویشی اور انسانوں دونوں کے پینے کے قابل بھی نہیں ہوتا خشک ہوتے ہوئے چشموں کو دیکھ کر نگاہیں فلک پر ابر کرم دیکھتی ہیں ان خشک ہونٹوں پر ایک ہی دعا ہوتی ہے اے باری تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ان بے زبان جانوروں پر ترس کر اوربارش عطا کر تاکہ ان چشموں میں پھر سے پانی آنے لگے۔

 

پانی کی زیادتی بھی ان کے لئے مسئلہ ہوتی ہے رود کوہی کا پانی جب زیادہ آجائے تو ان کے راستے بند ہوجاتے ہیں اور بعض دفعہ غلط اندازہ لگا کر رودکوہی کو کراس کرنا آخری غلطی ثابت ہوتا ہے۔ اور تندرست و توانا نوجوانوں کی مسخ شدہ تلاش کے بعد کہیں دور جا کر جھاڑیوں سے ملتی ہے۔

 

مسلسل رود کوہی کی وجہ سے ایک ایک ہفتہ شہروں سے رابطہ ممکن نہیں ہوتا اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو دعا ہی کام آتی ہے اور بزرگ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سورة یٰسین زور زور سے پڑھیں۔

 

ماحولیات۔

ماحولیات سے ان کو خصوصی پیار ہے۔ یہ کہتے ہیں ہمارے پہاڑ گنجے نہ ہوں بلکہ سرسبز ہوں لیکن محکمہ زراعت کے نقشے میں قبائلی علاقے کہیں نظر نہیں آتے۔ محکمہ زراعت والوں نے کبھی بھی یہاں پر جاکر شجر کاری کا عمران خان کا پیغام نہیں پہنچایا کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جہاں پینے کا پانی نہیں وہاں درخت کیسے اگیں، کھاد کے مہنگے ہونے سے زراعت والوں کی لاٹری نکل آئی ہے۔ اب کسی بھی زراعت اہلکار کے ناز نخرے ادائیں اورہاتھ میں ٹیلی فون کا سٹائل دیکھ لیں آپ کو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ یہ تازہ سیزن لگا کر فارغ ہوئے ہیں ویسے بھی ہمارے ڈی جی خان کی زراعت لفظ کھاد کے گرد گھوم رہی ہے اگر وہ کھاد فراہم کرینگے تو ان لوگوں کو ملے گی قیصرانی قبائلیوں کی قسمت ایک طرف تو زیتون کے باغ لگائے جارہے ہیں اور ساتھ ہی زیتون کے تیل کے لئے کارخانہ بھی لگادیا ہے اب سعودی ارب سے اٹلی والا زیتون لینے کی بجائے کوہ سلیمان والا زیتون یہاں دستیاب ہوگا۔ اور یہاں پر پینے کا پانی نہیں۔

 

صحت :

ان کو اپنی صحت کی کبھی فکر نہیں رہی کیونکہ یہاں پر نہ ڈاکٹر ہے نہ سرجن ہے نرس ہے نہ ڈسپنسر ہے نہ جراح ہے اور نہ ہی کوئی عطائی ہے اور نہ ہی کوئی اب ایسا حکیم زندہ بچا ہے جوقمیض کی خوشبو سے بیماری کا تعین کرسکے۔ انہوں نے سب کچھ تقدیر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور وہ اس ماحول میں زندہ رہنا چاہتے ہیں انہوں نے کبھی آغا خان، شوکت خان، الشفا یا سی ایم ایچ جیسے ہسپتال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ صرف بی ایچ یو کا مطالبہ ہے مگر 65برس بعد ان کو کوئی بی ایچ یو بھی نہیں مل سکا۔ ان کے پاس صحت تو ہے مگر دس لاکھ والا صحت کارڈ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر کے پاس شناختی کارڈ ہی نہیں۔ جب کہ نادرا میں بارتھی، فاضلہ، وہوا ، تونسہ میں ڈبل شفٹ اورریتڑہ میں نئے آفس کھول لئے کم از کم ان لوگوں کے لئے نادرا وین کو بھیجا جانا چاہے۔ قدرت بھی ان لوگوں پر مہربان ہے ان کو مدر چلڈ ہسپتال کی بھی ضرورت نہیں ان خواتین کے ڈلیوری کیس نارمل حالات میں ہوجاتے ہیں۔ شہری عورتوں کی طرح ایک کے بعد دوسرے بڑے آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی ماشاءاللہ آٹھ نو بچوں کی مائیں بھی مکمل صحت یاب ہیں۔

 

قبائلی عورتوں کو تونسہ جاکر آلہ لگوانے کا شوق بھی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل ہیں۔ اور ساتھ ہی ڈاکٹر کے مشورے سے بچے کی پیدائش سے دو ماہ قبل پرہیز کا تصور قبائلی علاقوں میں ممکن ہے کیونکہ گھر کا پانی اور مویشیوں کو کون سنبھالے گا۔ ان کے پاس بڑا علاج یہ ہے کہ کسی پیر سے دم درود، تعویز دھاگہ، یہی شافعی علاج ہے۔ اگر کوئی صاحب ثروت ہے تو علاج کے لئے اپنے بچوں کو ڈیرہ غازیخان یا نشتر لے جاتا ہے۔

کاش! کہ یہ قبائلی جاتی عمرہ لاہور اور لودھراں میں پیدا ہوتے تو کسی کو بیماری کے وقت قطری ایئر ایمبولینس لندن لے جاتی اور کسی کو دیگر ایئرایمبولینس سپشلی طورپر لندن لے جاتی۔

 

تعلیم:

ان کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئی خاص شوق نہیں ان کو آکسفورڈ ،اوکلے، اور قائد اعظم یونیورسٹی نہیں چاہئے نہ ہی انہوں نے کوئی ایم فل کرنی ہے اور نہ ہی پی ایچ ڈی کرنی ہے ان کو تو صرف لال رنگ کی پرائمری سکول کی عمارت چاہےے جس پر لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم نظر آئے تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے یہ قبائلی بھی مملکت خداد پاکستان کے شہری ہیں۔

 

ویسے پرائمری سکول کی لال عمارت بچوں کی پڑھائی کے لئے نہیں بلکہ اس سے کئی کام لئے جاتے ہیں مثلا بیٹھک گرمی اور سردی میں بھوسے اور مویشیوں کواور باندھنے کا کام لیاجاتا ہے ویسے کوہ سلیمان میں قبائلی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اگرچہ ہم ان پڑھ جاہل اور ناخواندہ ہیں ہمارے سردار یاچیف تو چیف کالج لاہور لندن اور امریکہ سے پڑھ کر آئے ہیں۔ قبائلیوں کو اس حق سے محروم رکھنے کا مجرم کون ہے۔

 

آخر ہم کس پر یہ ذمہ داری ڈالیں، سرداروں پر، اساتذہ پر، افسروں پر، یا دشوار گزار راستوںپ ر۔ یا وہ لوگ جو یہاں سے شفٹ ہوکر ڈیرہ غازیخان اسلام آباد، ملتان چلے گئے ان کے اپنے بچے تو پڑھ لکھ کر آگے چلے گئے ہیں مگر انہوں نے کبھی مڑکر پیچھے نہیں دیکھا کہ قبیلہ برادری یا نسل نوکا قتل عام ہورہا ہے البتہ ان کے دل میں اتنی محبت ضرور ہے کہ جب ڈاکٹر انجینئر پائلٹ بننے یا کسی اور ڈیپارٹمنٹ میں سروس کا معاملہ ہو تو وہ قبائلی علاقے کا ڈومیسائل دکھا کر وہ ضرورحاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ قبائلیوں پر ایک احسان اور بھی ہے کہ وفات کے بعد ڈبہ پیک لاش کو اپنے آبائی قبرستان میں آکر دفن کرتے ہیں۔

 

ایک قبائلی نے آکر اپنی پسماندگی کے بارے میں کچھ یوں کہا چاچاجی کاش کوئی کیپٹن صفدر یہاں پیدا ہوتا اور سارے ایم این اے ایم اے کو وہ فنڈ دے رہے ہوتے تو ہماری قسمت بھی بدل جاتی ایک اور نے کچھ یوں کہا کہ چاچا جی اگر ہم میں سے کوئی مقصود چپڑاسی ہوتا تو میاں برادران کے اکانٹ والے سارے پیسے یہاں لے آتا اور کوہ سلیمان پر خرچ کرلیتا۔

 

تیسرے بلوچ کا کہنا تھا کہ کوئی پاپڑ والا یا ٹھیلے والا ہم میں سے ہوتا اور فنڈ لے آتا تو علاقہ کی تقدیر بدل جاتی۔

 

پسماندگی کا ذمہ دار کون؟

کوہ سلیمان کے قبائلیوں کے ذمہ دار وہ سردار ہیں جو مسلسل اقتدار میں آرہے ہیں۔ بزداروں کی قسمت تو جاگ اٹھی ان کی سی ایم شپ مل گئی اور تمن بزدار کے حالات تبدیل ہوگئے جبکہ تمن قیصرانی میں جیپ ایبل روڈ اور تالاب کو ہی ترقی کی علامت سمجھا جاتا رہا مختصر یہ کہ سردار اپنے تمن کے ساتھ انصاف نہیں کرسکے۔اس کے علاوہ کوئی سیاست دان بھی قیصرانی ایریا میں سرمایہ کاری کرنے کوتیارنہیں کیونکہ الیکشن کے دنوں میں ان کے اندر کا قیصرانی جاگ اٹھتا ہے اور سردار کے علاوہ کسے حق میں ووٹ کاسٹ نہیں کرتے۔کاسٹنگ کی شرح کم ہونے کی وجہ سے بھی سیاست دان بھی ان پرتوجہ نہیں دیتے۔ لیکن بعض اوقات موسم صحیح ہوتو کاسٹنگ کی شرح 100فیصد سے بھی بڑھ جاتی ہے خواجہ داد نے تمن قیصرانی کے بارے میں کہاتھا کہ یہاں پر محنت بہت زیادہ ہے اور مزدوری کم ہے۔

آخر میں ہم بی ایم پی کے جمعدار سردار زیاد خان قیصرانی کی فلاحی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں گے جو کہ وہ علاقے کے لئے سر انجام دے رہے ہیں۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے