"لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرکے خودکشی قرار دے دیا جاتا تھا، میرے ساتھ بھی یہی ہونے والا تھا"پروین رند
پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نواب شاہ اور سندھ یونیورسٹی میں ہراسانی کا شکار ہونے والی ہاؤس افیسر پروین رند اور الماس بیہان نے شکایت کی ہے کہ ان اداروں کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس نے بھی ان پر تشدد کرنے والوں کو گرفتار کرنے اور متاثرین کو تحفظ دینے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سے انصاف دلانے اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
متاثرہ خواتین نے یہ باتیں حیدر آباد میں خواتین کے خلاف مختلف اداروں میں ہونے والے جرائم کے خلاف ہونے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
الماس بیہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں تحفظ فراہم کرنے کی بجائے سندھ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہراساں کیا اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی جانب سے ہراسانی کی باقاعدہ شکایت درج کرانے کے باوجود کوئی کارووائی نہیں کی گئی بلکہ تحقیقاتی کمیٹی کے نام پر ڈرایا گیا۔ حتیٰ کہ سندھ پولیس نے الٹا ان کے گھر پر چھاپا مارا اور اسے ڈرانے کی کوشش کی۔
پروین رند نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گی۔ وہ ہراسانی کے واقعات کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں گی وہ خاموش ہو کے نہیں بیٹھیں گی۔
انہوں نے الزام عائد کیا جب انہوں نے یونیورسٹی کے تین اہلکاروں کے غیر اخلاقی مطالبات پر عمل کرنے سے انکار کیا تو انہوں اسے ہوسٹل کے کمرے میں مارنے کی کوشش کی ۔ جب انہوں نے اس کی شکایت وائس چانسلر سے کی تو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر گلشن علی میمن نے کوئی کارووائی نہیں کی۔ بلکہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی حمایت کی۔ پولیس بھی مرکزی ملزمان کو تحفظ ہی فراہم کرتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ جو لڑکیاں ان کے مطالبات نہیں مانتی تھیں تو ان کے ساتھ زبردستی زیادتی کر کے انہیں قتل کر دیا جاتا اور اسے خود کشی قرار دے دیا جاتا۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہونے والا تھا مگر انہوں نے بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا ۔اس سلسلہ میں بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹیاں بھی ناکام ہو جاتی ہیں ۔انہوں نے چیف جسٹس پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سے انہیں تحفظ فراہم کرنے اور انصاف دلانے کا مطالبہ بھی کیا۔

0 تبصرے