عمران خان کے سابق قریبی ساتھی اور صحافی محسن بیگ کو گرفتار ، فائرنگ میں ایف آئی اے اہلکار زخمی، ایف آئی اے

بعد ازاں مرگلہ پولیس اسٹیشن کی جانب سے فراہم کردہ بیلف کی رپورٹ پر کہا گیا کہ محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفع 148 (فساد اور ہتھیار کا الزام)، 149 (لوگوں کو غیت قانون طقر پر جمع کرنا)، 186 (سرکاری ملازمین کو انجام دہی دے روکنا)، 324 (اقدام قتل)، 324 (ملزم کو جانچنے کا اختیا)، 353 (سرکاری ملازمین کو ان کی ذمہ داری کی انجام دہی سے روکنا) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کی گئی ہے۔

 

 عمران خان کے سابق قریبی ساتھی اور صحافی محسن بیگ کو گرفتار ، فائرنگ میں ایف آئی اے اہلکار زخمی، ایف آئی اے

 

وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے عمران خان کے سابق قریبی ساتھی اور صحافی محسن بیگ کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں تھانہ مارگلہ منتقل کر دیا  گیا  ہے۔


ذرائع  کے مطابق ایف آئی اے نے محسن بیگ کو وفاقی وزیر مراد سعید شکایت پر ان کے گھر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔

 

صحافی محسن  بیگ  کی گرفتاری کے بعد ان کے وکیل نے ضلعی سیشن عدالت اسلام آباد میں  ان کی  گرفتاری  کے خلاف  درخواست دائر کی جس کی سماعت  ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔


اس موقع پر محسن بیگ  کے وکیل  نے عدالت کو بتایا کہ آج صبح سادہ کپڑوں  میں ملبوس  لوگ ان کے مؤکل کے گھر آئے ۔ ان کی شناخت  کے حوالے  سے لاعلمی کا اظہار  کرتے ہوئے وکیل نے کہا کہ کون لوگ  تھے  اور ان کا کیا مقصد تھا  اس بارے میں معلوم نہیں۔


اس بارے میں ان کا  مزید کہنا تھا کہ ایس پی اور ڈی  ایس  پی  سے وارنٹ گرفتاری  اور  سرچ  وارنٹ  گئے مگر انہوں  نے  وارنٹ نہیں  دیئے۔  ایس پی نے سادہ کپڑوں  میں  ملبوس  لوگوں  کو گھر  پر دھاوا  بولنے  کا حکم  دیا ۔  وکیل  نے مزید کہا  کہ  ان سادہ ملبوس  لوگوں  نے  محسن بیگ  کے بچوں  پر تشدد کیا، موبائل  فون  توڑ  دیئے  اور محسن بیگ  کو ساتھ  لے گئے۔ 


عدالت  نے بیلف  مقرر کرتے ہوئے محسن بیگ  کو عدالت  میں  پیش  کرنے  حکم دیا۔  عدالتی  بیلف  جب  تھانہ مارگلہ  پہنچا  تو پولیس  نے مقدمے  کی تصدیق  کی کہ محسن بیگ  کے خلاف  وفاقی  وزیر  مراد  سعید  کی مدعیت  میں  سنگین دفعات  کے تحت  مقدمہ  درج  کیا  گیا  ہے۔   جس میں  اقدام قتل، حبس بے جا کی دفعات کے ساتھ انسداد  دہشتگردی ایکٹ  کی دفعہ 7  بھی   شامل  کی گئی ہے۔


بعد ازاں  عدالتی  بیلف  نے مقدمے اور گرفتاری  کی رپورٹ  عدالت میں جمع کرا دی ہے۔


مقدمے کے مندرجات کے مطابق کہا گیا ہے کہ محسن بیگ نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں مراد سعید  کے خلاف  نازیبا زبان  استعمال کی اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔


بعد ازاں تھانہ مارگلہ کی جانب سے بیلف کو فراہم کی گئی  رپورٹ میں کہا گیا کہ محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفع 148 (فساد اور ہتھیار کا الزام)، 149 (لوگوں کو غیت قانون طقر پر جمع کرنا)، 186 (سرکاری ملازمین کو انجام دہی سے روکنا)، 324 (اقدام قتل)، 324 (ملزم کو جانچنے کا اختیار)، 353 (سرکاری ملازمین کو ان کی ذمہ داری کی انجام دہی سے روکنا) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کی گئی ہے۔


ایف آئی اے کے مطابق گرفتاری کے وقت محسن بیگ  اور ان کے بیٹے  نے فائرنگ کی جس کے باعث ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے