غزل
کلام: ایمان قیصرانی
زمام ِ وقت
کی گردش کو ٹالتا جائے
وہ اک نظر مری
کھڑکی پہ ڈالتا جائے
مرے وجود میں
اُترے ہر ایک نشتر کو
اب آ گیا ہے
تو آ کر نکالتا
جائے
بس اک نظریونہی
سگریٹ کو ہاتھ میں تھامے
مری کتاب کے صفحے کھنگالتا
جائے
کبھی کبھی مجھے
دیکھے شریر نظروں سے
کبھی کبھی تو مرا دم نکالتا
جائے
کسی کسی کو یہ لہجہ
نصیب ہوتا ہے
کہ لفظ لفظ نگینوں میں ڈھالتا
جائے
بس اک چراغ
کی حسرت کہ جو تجلی سے
مرے نصیب کی
ظلمت اُجالتا جائے
یہ لوگ اس پہ
ہی ایمان وار کرتے ہیں
جو ٹھوکروں
پہ بھی خود کو سنبھالتا جائے
شاعرہ: ایمان قیصرانی❤
🥀 یہ بھی پڑھیں: ستمگر لوٹ آیا ہے۔۔۔۔ کلام : ایمان قیصرانی

0 تبصرے