غزلکلام: ایمان قیصرانی
کوئی خوشبو
نہیں رُکتی،کوئی جھونکا نہیں آتا ۔
تری دہلیز سے
مجھ تک ، کوئی رستہ نہیں آتا ۔
یہ میری تشنگی
مجھ کو تمہارے در پہ لے آئی ،
وگرنہ پاس چل
کر تو ، کبھی دریا نہیں آتا ۔
کوئی تتلی کوئی
جُگنو ہمیشہ ساتھ لاتا ہے ،
گلاب آثار رستوں
سے کوئی تنہا نہیں آتا ۔
مری پلکیں مری
آنکھیں، یہ میرے عارض و گیسو
نظر ان خال
و خد میں کیا ، کوئی اپنا نہیں آتا۔
جو اُسکے دل
کو چھو جائے یا اس کی آنکھ بھر آئے
مرے لفظوں کوئی
جادو، تمہیں ایسا نہیں آتا۔
خیال ِ یار
کی چادر اے ایماں اوڑھ لے سر پر
سفر میں دشت
و صحرا ہوں تو پھر سایہ نہیں آتا ۔
شاعرہ: ایمان قیصرانی
مزید اردو شاعری پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

0 تبصرے