آئی جی سندھ بھی موجودہ حکومت کی کمدار بنے ہوئے ہیں۔ میہڑ تہرے قتل کے مقدمے کی مدعی ام رباب چانڈیو

آئی جی سندھ بھی موجودہ حکومت کی کمدار بنے ہوئے ہیں۔ میہڑ تہرے قتل کے مقدمے کی مدعی ام رباب چانڈیو

 

آئی جی سندھ بھی موجودہ حکومت کی کمدار بنے ہوئے ہیں۔ میہڑ تہرے قتل کے مقدمے کی مدعی ام رباب چانڈیو

 

 دادو : میہڑ تہرے قتل کے مقدمے کی مدعی ام رباب چانڈیو کی میہڑ اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس اس موقع پر ام رباب کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ہمارے گھر سے تین جنازے اٹھوائے وہ پی پی کے سٹنگ ایم پی ایز ہیں اور ہم نے سرداری نظام کے خلاف نعرہ لگایا ہے علم بلند کیا ہے سرداری نظام کے خلاف جنگ میں یہ تحریک ہم اپنے گھر سے شروع کررہے ہیں اور 17 جنوری کو ہم جاگیردار نظام کے خلاف" اینٹی فیوڈلزم" دن منائیں گے اور اس کو پوری ملک کی عوام تک لیکر جائیں گے ۔ عہد کرتی میں سرداری نظام کے خلاف سرداروں جاگیرداروں کے ظلم و ستم کے خلاف ایک کتاب لکھوں گی جس کا نام فیوڈل کرائم ہوگا اور اس کتاب کو اقوام متحدہ میں پیش کروں گی اور پرپوزل پیش کرونگی کے 17th جنوری کو انٹرنیشنل لیول پے سرداری نظام کے خلاف دن قرار دیا جاے اس کتاب کا کچھ حصہ میں نے لکھا بھی ہے، جاگیرداروں کے خلاف یہ جنگ صرف ام رباب کی نہیں ہے لہذا اٹھیں اپنی نسلوں کی بقا کے لیے سرداری نظام کو چیلنج کریں آواز بلند کریں یہ جاگیردار خود کو زمینی خدا سمجھتے ہیں مگر ہم ایک خدا کے مانے والے ہیں، ہم جھکنے بکنے والے نہیں ہیں میڈیا نے ہمارہ ساتھ دیا اگر عوام اور میڈیا نہ ہوتا تو اس وقت میں یہاں نہیں ہوتی ماردی گئی ہوتی ۔


آئی جی سندھ بھی موجودہ حکومت کی کمدار بنے ہوئے ہیں عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تب ہمیں انصاف کی امید کی کرن نظر آئی ہم کسی صورت ان کے ساتھ سمجھوتا نہیں کریں گے میرے والد ، دادا اور چچا کے قتل میں ملوث یہ ہی جاگیردار ہیں میرے والد نے جاگیرداروں کے خلاف علم بلند کیا تھا اور میں نے اس گرتے ہوئے علم کو بلند کرنے کا عزم کیا ہے


ان شاءاللہ کل 17 جنوری جس دن ہمارے گھر میں یے واقعہ پیش آیا تھا اپنے ساتھ دینے والوں کے ساتھ اپنے والد کی قبر پر جاکر حلف لوں گی اور عہد وفا دوہراوں گی کہ ان جاگیرداروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے اور پھانسی کے پھندے تک پہنچانے تک جدوجہد جاری رکھوں گی ملک کے عوام ہمارے ساتھ جاگیرداری اور سرداری نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ہمارا ساتھ دیں

 

سرداری نظام نہ منظور

ام رباب

 


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے