کیچ میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 10 اہلکار شہید

کیچ میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 10 اہلکار شہید

 

کیچ میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 10 اہلکار شہید

 

بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 10 سیکورٹی اہلکار شہید، ایک دہشتگرد بھی مارا گیا ۔ 3 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

 

کوئٹہ : ضلع کیچ کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔ جس میں 10 سیکورٹی اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ دہشتگردوں کے اس حملے میں ایک دہشتگرد بھی جہنم واصل ہوا ہے۔ جبکہ ذرائع کے مطابق 3 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا، حملہ 25 اور 26 جنوری کی درمیانی شب کیا گیا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 10 جوان شہید ہو گئے جبکہ ایک دہشتگرد ہلاک ہوا اور متعدد زخمی ہوئے۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق 3 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ کلیئرنس آپریشن ابھی تک جاری ہے جو کہ ملزمان کو انجام تک پہنچانے کے لیے جاری رہے گا۔ ارض پاک سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمہ تک سکیورٹی فورسز پرعزم ہیں۔

 

کیچ کہاں واقع ہے؟

 

کیچ بلوچستان کا ایران سے متصل ضلع ہے۔ یہ علاقہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً آٹھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ رواں سال کے دوران کیچ میں سکیورٹی فورسز پر یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ کیچ انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے دیگر دو اضلاع گوادر اور پنجگور بھی انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہیں۔

 

شیخ رشید

 

اس سے قبل بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط ایک طویل جنگ کے بعد اب پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے اور معلومات اکٹھی کرنے کا نظام کافی بہتر ہے لیکن آئندہ دو ماہ تک ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے تاہم دہشتگردی کی اس تازہ لہر پر قابو پا لیا جائے گا۔

 

شیخ رشید احمد نے تصدیق کی کہ ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کے سلیپرز سیلز ایک بار پھر سرگرم ہوئے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور کارروائیاں جاری ہیں۔ جونھی اطلاع موصول ہوتی ہے، کارروائی کی جاتی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں سی ٹی ڈی جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں یہ ذمہ داری فوج کے پاس ہے۔ چینی ورکرز کی حفاظت کا ذمہ بھی فوج نے لیا ہوا ہے۔ اس لیے کام ہو رہا ہے۔

 

کالعدم تحریک طالبان کیخلاف آپریشن جاری: ترجمان پاک فوج

 

5 جنوری کو میڈیا سے گفتگو کے دوران ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، تنظیم غیر ریاستی عنصر ہے جو پاکستان میں کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکی۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندورنی اختلافات بھی ہیں جبکہ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہےنہ ان کے ساتھ اب جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہے،آپریشن جاری ہے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ نو دسمبرکوختم ہوگیا۔جنگ بندی کایہ معاہدہ غیرریاستی جنگجوعناصر کے ساتھ مذاکرات سے قبل موجودہ افغان حکومت کی درخواست پراعتماد سازی کےلیے اٹھایا گیا۔

 


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے