بیمار سعودی شہزادی اور بیٹی کو تین سال بعد رہا کر دیا گیا

بیمار سعودی شہزادی اور بیٹی کو تین سال بعد رہا کر دیا گیا

 

بیمار سعودی شہزادی اور بیٹی کو تین سال بعد رہا کر دیا گیا

 

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق شہزادی بسمہ اور ان کی صاحبزادی کو تین سال تک بغیر کسی الزام کے جیل میں بند رکھا گیا۔اے ایل کیو ایس ٹی نے اپنے ٹیوٹ پیغام  میں بتایا ہے کہ 57 سالہ شہزادی بسمہ بن سعود السعود اور ان کی بیٹی سوہود کو رہا کر دیا گیا ہے۔


ٹیوٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ انہیں مہلک بیماری کے باوجود مطلوبہ طبی امداد بھی فراہم نہیں کی گئی  اور ان کی قید کے دوران ان پر کوئی الزام بھی عائدنہیں کیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق شہزادی کو علاج کیلئے سوئٹزر لینڈ جانے سے کچھ دیر قبل گرفتار کیا گیا اور ان کی بیماری کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔



سعودی حکام اپنے مخالفین جن میں تبلیغ کرنے والوں سے لے کر صحافیوں ، خواتین اور شاہی افراد بھی شامل ہیں کے خلاف ہمیشہ کارووائیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شہزادی بسمہ کو الحیر جیل میں رکھا گیا تھا جہاں دیگر سیاسی مخالفین کو رکھا جاتا ہے۔


ان کے اہلخانہ کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں ان کی گرفتاری کی وجہ سعودی عرب میں ہونے والے غلط کاموں پر کھل کر بولنا بیان کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ محمد بن نائف کی حمایتی بھی گردانی جاتی تھیں۔


2017 میں کرپشن کے خلاف ایک بڑی مہم میں ریاض کے ایک لگژری ہوٹل رٹزکارلٹن کو بے وفائی غداری کے شبہے میں گرفتار درجنوں شہزادوں اور سینئر حکام کیلئے تین ماہ تک جیل کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔


یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مارچ 2020 میں شاہی گارڈز نے بادشاہ سلمان کے بھائی اور ان کے بھتیجے کو بھی ولی عہد کے خلاف بغاوت  اور لوگوں کو اکسانے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے