قازقستان حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک شدگان کی تعداد 164 ہو گئی۔ ساڑھے پانچ
ہزار مظاہرین گرفتار
وسط ایشیاء کی ریاست قازقستان میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 164 ہو گئی ہے۔ قازقستان کے دارالحکومت الماتے میں مقامی
میڈیا کے مطابق ہلاک ہو نے والوں میں سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کی پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر گزشتہ ہفتے مظاہرے شروع ہوئے تھے جنہوں نے بعدازاں پر تشدد شکل اختیار کر لی۔
اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق 18 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 45 کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب یہ تعداد 164 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت مخالف ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین کو حکومت کی جانب سے گرفتار بھی کیا جارہا ہے۔ ہنگامہ
آرائی اور مظاہروں میں بڑی مقدار میں حکومتی اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 198 ملین ڈالرز کی املاک کا نقصان ہوا ہے۔ سو سے زائد بنکوں اور دکانوں کو لوٹا گیا ہے۔ 400 سے زائد گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ منگل سے شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک پانچ 135 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

0 تبصرے