اک شام کے نام ۔۔۔۔
کلام: ایمان قیصرانی
چمپئ سُرخ نشیلی شام ۔
جام بنا کر پی لی شام ۔
میری عمر کا حاصل یے
تیرے ساتھ سجیلی شام
تم نے کیسی بات کہی ۔
ہو گئ اور سُریلی شام
تارا تارا اُتری ہے ۔
نیل گگن سے نیلی شام
تیرے ساتھ کی خوشبو سے۔
ہو گئ اور چھبیلی شام
تم آئے تو لگتا ہے
ہم نے بھی اک جی لی شام
آنچل کے کچھ پھولوں میں
ہم نے کاڑھ کے سی لی شام
تیری آنکھیں بھور سمے ۔
میرا کاجل گیلی شام ۔
کھڑکی کے اُس پار وہاں !
تُو ہے یا چمکیلی شام
سناٹوں کی وحشت میں ۔
اک بوجھل پتھریلی شام
جھیل کنارے میں اور تو
کُہر میں ڈوبی گیلی شام
تم سے کتنی ملتی ہے۔
ایماں یہ شرمیلی شام
۔۔۔۔ایمان قیصرانی

0 تبصرے