کھاد ڈیلروں
کی من مانیاں عروج پر، یوریا کھاد بلیک میں فروخت کرنےلگے، انتظامیہ خاموش تماشائی
بن گئی
روجھان میں
1770 روپے کی بجائے کھاد ڈیلرز یوریا کھاد بلیک پر 2400 سو روپے میں فروخت کرنے لگے۔ کسانوں کو اذیت کا سامنا ہے۔ انتظامیہ مسئلہ حل کرنے کیلئے اقدامات کرے۔
کسانوں کا مطالبہ
روجھان میں گزشتہ روز سے کھاد مارکیٹ میں کھاد ڈیلرز نے زخیرہ کی گئی یوریا کھاد کسانوں کو مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ ہم سے سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمتیں وصول کر رہے ہیں پھر بھی کھاد نہیں مل رہی کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر کھاد ڈیلرز سے بات کرتے ہیں تو کھاد نہیں ملتی سب کھاد ڈیلرز آپس میں یک مشت ہیں اور مقامی کھاد ڈیلرز کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں بروقت کھاد نہ ملی تو ہماری گہیوں کی فصل کی پیداوار نہ ہو گی جس سے کسان کی معاشی طور پر کمر ٹوٹے کا خدشہ ہے ایگری کلچر کی ٹیمیں بھی اپنا مثبت کردار ادا نہیں کر رہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ ایگری کلچر والے افسران بھی کھاد ڈیلرز کی کشتی پر محو سفر ہیں اور کسانوں کو ڈوبنے کے چکر میں ہیں روجھان کے کسانوں نے ڈپٹی کمشنر راجن پور احمر نائیک اور اسسٹنٹ کمشنر روجھان محمد قاسم گل سے اپیل کی ہے کہ زخیرہ اندوز اور مہنگی کھاد بیچنے والے کھاد ڈیلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور کسانوں کو یوریا کھاد سرکاری مقرر کردہ نرخوں فروخت یقینی بنائی جائے تاکہ کسانوں کو کھاد بروقت فراہم ہو اور گندم کی فصل کی پیداوار بہتر سے بہتر ہو سکے ۔ کسان حلقے روجھان

0 تبصرے