متوقع بلدیاتی الیکشن کے پیش نظر دیگر علاقوں کی طرح راجن پور میں سیاسی سرگرمیاں شروع

متوقع بلدیاتی الیکشن کے پیش نظر دیگر علاقوں کی طرح راجن پور میں  سیاسی سرگرمیاں شروع

 

متوقع بلدیاتی الیکشن کے پیش نظر دیگر علاقوں کی طرح راجن پور میں  سیاسی سرگرمیاں شروع

 

داجل( محمد شریف کلیری) متوقع بلدیاتی الیکشن کے پیش نظر دیگر علاقوں کی طرح راجن پور میں  سیاسی سرگرمیاں شروع۔ سیاستدانوں کے ڈیرے آباد۔ پارٹی قاہدین متحرک ہو کرکے جوڑ توڑ شروع کر دیا۔

 

 راجن پور ضلع چیرمین ومیر کے لیے نصر اللہ دریشک۔ اور فاروق امان االلہ دریشک ومزاری سرداروں نے وزیر اعلی پنجاب سے روابط تیز کر دیے۔ لغاری سردار بھی تیل دیکھو تیل کی دھار کی پالیسی پر گامزن۔ مسلم لیگ نے بھی صف بندی کرتے ہوئے نصر اللہ دریشک کے قریبی ساتھیوں کو توڑ کرکے اپنے ہمنوا بنالیا۔ اگلے ماہ سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی کا امکان۔

 

 تفصیل کے مطابق متوقع بلدیاتی الیکشن کے پیش نظر پنجاب بھر کی طرح راجن پور میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ سیاستدان لوگوں کے قل خوانیوں میں شریک ہونے کے علاوہ شادیوں میں شریک ہو کرکے ووٹ مضبوط کرنے میں پیش پیش ہیں۔ مقامی قاہدین نے جوڑ توڑ شروع کر دیا۔ راجن پور میں ضلع چیرمین ومئیر کیلیے حکومتی گروپ سے ممبر قومی اسمبلی نصر اللہ دریشک۔ اور ممبر صوبائی اسمبلی فاروق امان اللہ دریشک جو کہ کئی دنوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں نے وزیر اعلی پنجاب اور پنجاب حکومت میں اپنے امیدوارکا نام فائینل کرانے کیلے روابط بڑھا دیے ہیں۔

 

 ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی بھی متحرک ہو چکے دوسری طرف لغاری سردار بھی تیل دیکھو تیل کی دھار کی پالیسی اپناتے ہوئے چل رہے ہیں تاہم لغاری۔ دریشک مزاری اتحاد قائم ہے۔حکومت کی طرف سے جوبھی فیصلہ ہو گا ان کو تسلیم کرنا ہو گا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن بھی متحرک ہو چکی ہے۔ گزشتہ روز اپنی سیاست قوت کو مقابلہ کرتے ہوئے نصر اللہ دریشک کے قریبی ساتھی سردار جمیل الرحمان دریشک وان کے برادری وساتھیوں کو مسلم لیگ ن کے رہنماء وسابق ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر حفیظ الرحمان دریشک نے اپنے ساتھ ملا لیا۔ علی رضا خان دریشک۔ کلیم خان دریشک۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے جگن خان دریشک۔ جماعت اسلامی سے ڈاکٹر عرفان اللہ ملک۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے ملک احسان عمران ارائیں۔ وقاص نوید گورچانی۔ مزاری سرداروں کی طرف سے اطہر خان مزاری کا نام لیا جارہا ہے۔ تاہم وزیر اعظم عمران کے فیصلہ کے مطابق کسی بھی ایم این اے یا ایم پی اے کے عزیز کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔

 

  تجزیہ نگاروں کے مطابق فیصلہ کی روشنی میں لغاری سرداروں کا ستارہ ابھر سکتا ہے۔ ان کے پاس ضلع وائس چیرمین راجن پور مرزا شہزاد ہمایوں کی قیادت میں موجود ہے جو اس وقت بھی ضلع میں نمایاں کام کر رہے ہیں ضلع بھر کی یونین کونسلوں کے چیرمینوں کی  مکمل حمایت حاصل ہے۔ اگر قرعہ ان کا نام نکلا تو بااسانی ضلع چیرمین ومیر کی سیٹ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے والد بھی ضلع نائب ناظم کی سیٹ پر مشرف دور میں کام کر چکے ہیں۔ ویسے بھی سات یونین کونسلوں پر مرزا خاندان کو ہولڈ ہے۔ آئندہ آنے والے دن بہت اہم ہیں کئی نئے چہرے عوام کو سامنے دیکھنے کو ملیں گے۔ شہری اتحاد کی افوائیں بھی گشت کر رہی ہیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے