شہریوں کے قتل عام کے بعد ناگالینڈ میں بھارتی فوج کے اختیارات واپس لینے کا
مطالبہ زور پکڑ گیا۔
بھارتی ریاست ناگالینڈ میں بھارتی فوجیوں کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق
ہونے والے 14 شہریوں کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔ ناگا لینڈ کے وزیراعلیٰ نے
بھی ریاست میں بھارتی فوج کے اختیارات ختم
کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق میانمار کی سرحد سے منسلک
بھارتی ریاست ناگالینڈ میں ہفتے کے روز بھارتی فوج نے ایک ٹرک پر اندھا دھند
فائرنگ کر دی تھی۔جس کے نتیجے میں 6 شہری موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔
اس واقعہ سے شہریوں میں شدید غم و غصہ کے باعث لوگوں نے شدید مظاہرے کئے ۔ اس
دوران مطاہرین نے دو فوجی گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ جس کے جواب میں فوجیوں نے ایک بار پھر مظاہرین
پر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں مزید 8 شہری ہلاک ہو گئے۔ اس دوران ایک
بھارتی فوجی بھی مارا گیا۔
پولیس کے مطابق اس واقعہ میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کچھ کی حالت
تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریاست میں فوج کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کے باوجود شہریوں نے اپنے غم و غصے
کا اظہار کیا، مظاہرے کئے اور ہلاک شدگان کے جنازوں میں بھی بڑی تعداد میں شرکت
کی۔
ناگالینڈ میں لگاتار دوسرے روز بھی احتجاج جاری رہا۔ ناگالینڈ کے دارالحکومت
کوہیما میں بھی مظاہرے جارے رہے۔ مظاہریں نے شمع بردار جلوس بھی نکالا۔
بھارتی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی آخری رسومات میں ناگالینڈ
کے وزیراعلیٰ نیفیئو ریو نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے فوج کی اس بربریت پر اسے شدید
تنقید کا نشانہ بنایا اور ریاست میں اس کے کردار پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ
ناگالینڈ میں فوج کی مداخلت اور اختیارات کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کا خاتمہ
کیا جائے جس کے تحت ناگالینڈ میں بھارتی فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس
ایکٹ کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اس
لئے اس قانون کو ختم کر کے فوج کو واپس بلایا جائے۔

0 تبصرے