ستمگر لوٹ آیا ہے۔۔۔۔ کلام : ایمان قیصرانی

ستمگر لوٹ آیا ہے۔۔۔۔ ایمان قیصرانی

 

دسمبر لوٹ آیا ہے۔۔۔۔۔

کلام: ایمان قیصرانی 

لئے یادوں کی تصویریں ستمگر لوٹ آیا ہے۔

اُسے کہنا مرے ہمدم ! دسمبر لوٹ آیا ہے۔

 

گھنا کُہرا، خزاں اوڑھے،لئے اک شال پیلی سی

ہماری عشق نگری میں قلندر لوٹ آیا ہے۔

 

اسے کہنا رہی ہونگی کئی مجبوریاں لیکن۔

جو رمز ِ دل سمجھتاہووہ اکثرلوٹ آیا ہے۔

 

اُسے کہنا مرے آنسو محبت کے پیمبر ہیں۔

اُسے کہنا سر  ِ مژگاں پیمبر لوٹ آیا ہے۔

 

وہ جس کے اک اشارےپر ابابیلیں اُترتی ہیں۔

غنیمِ شہر سے کہ دو وہ دلبر لوٹ آیا ہے۔

 

گلے شکووں کےمٹتےہی ہنسی کی جلترنگ گونجی۔

چھٹی جوگردپھولوں سےتومنظر لوٹ آیاہے۔

 

مرےلفظو مبارک ہو،تمہیں یہ راز بھی کہدوں۔

جو ان شعروں کا مرکز تھا وہ محور لوٹ آیا ہے۔

 

یہ کس کے لوٹ آنے سے، مجھے ایمان لگتا ہے

مرے خوابوں کی روہی میں سمندر لوٹ آیا ہے۔

 

ایمان قیصرانی


یہ بھی پڑھیں: اُسے  پاؤں   جمانے  کو  کنارا   مِل  گیا  ہے۔۔۔ شاعرہ:  نیلم ملک  

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے