غزل
شاعرہ: سعدیہ سیٹھی نوٹنگھم، یو کے
شہر کا باسی مکمل نہیں ہونے پاتا
یہ ہے وہ پیڑ جو جنگل نہیں ہونے پاتا
وہ جو چلتے ہوئے اوروں کا بھلا سوچتے ہیں
ان کا رشتہ کبھی دلدل نہیں ہونے پاتا
اتنی بے جان میں پہلے تو نہیں ہوتی
تھی
برف پر ہاتھ رکھوں شل نہیں ہونے پاتا
آئینے اس کا فقط درد سمجھ سکتے ہیں
جس کی خاطر کوئی پاگل نہیں ہونے پاتا
میں ہوں عورت میں کسی دیس میں محفوظ نہیں
کوئی پرچم میرا آنچل نہیں ہونے پاتا
سعدیہ مجھ کو ہواؤں سے یہی شکوہ ہے
کوئی آنسو میرا بادل نہیں ہونے پاتا

0 تبصرے