کیا مریم نواز نے ٹھیک کہا، کیا جمائما نے صحیح کہا؟؟؟

کیا مریم نواز نے ٹھیک کہا، کیا جمائما نے صحیح کہا؟؟؟



کیا مریم نواز نے ٹھیک کہا، کیا جمائما نے صحیح کہا؟؟؟


آپ سب کو میری طرف سے میری ٹیم کی طرف سے عید مبارک، میعری دعا ہے کہ آپ کے باقی دن بھی خوشیوں کے ساتھ گزریں۔

معاملہ مریم نواز عمران خان اور جمائما گولڈ سمتھ کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی عملی جنگ سے ہے۔ کیا مریم نواز نے ردعمل کے طور پر عمران خان کی بات صحیح جواب دیا کیا جمائما گولڈ سمتھ نے اپنے تعصب کا اظہار کیا۔ کیا مریم نواز کو وہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ اس کا جواب جاننے کیلئے آپ کو اس مسئلہ کے آغاز پر جانا پڑے گا اور سننا پڑے گا کہ عمران خان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہہ رہے تھے
"کمزور جیلوں میں جائے اور طاقتور این آر او کے لے اور باہر جا کے بیٹھ جائے اور اپنے پوتے کا پولو میچ دیکھے کہ پوتا جو پولو میچ کھیل رہا ہے برطانیہ میں میرے سے پوچھیں آپ کے کشمیر کے کتنے لوگ باہر رہتے ہیں۔ میں کتنے آپ کے  کشمیریوں آپ کے رشتہ داروں سے لنڈنوں میں ملا ہوں اور لنڈن میں مانچسٹر میں کبھی ان سے پوچھیں کہ کس طرح کا انسان وہاں پولو کھیل سکتا ہے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ بادشاہوں کی کھیل ہے۔یہ عام آدمی وہاں نہیں کھیل سکتا۔ گھوڑا رکھنا پولو کھیلنا بڑا پیسہ چاہیئے۔ تو یہ بتائیں کہ پوتا جی کو پاس پیسہ کدھر سے آیا یہ آپ کا پیسہ ہے۔ یہ یہاں سے باہر گیا ہے"
واضح ہے کہ عمران خان اپنی لڑائی تیسری چوتھی جنریشن میں لے جانا چاہتے ہیں وہ لنک کر رہے ہیں میاں نواز شریف کی جائیداد میاں نواز شریف کی دولت میاں نواز شریف اور اس کے خاندان کے کاروبار کو پاکستان کے اندر ہونے والی مبینہ کرپشن جو ان کے بیان کے مطابق صرف اور صرف نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خاندان سے منسلک ہونی چاہیے۔ مبینہ کرپشن اس وجہ سے ہم کہہ رہے ہیں کہ جب تک آپ ثابت نہیں کریں گے تب تک آپ یا دوسرے اتنے ہی کرپٹ یا صاف ہوں گے جتنا آپ یا دوسرے ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اصل فیصلہ تو اس عدالتی نظام کے ذریعے ہونا ہے جس کے بارے دنیا بھر میں اچھی خبریں نہیں بن رہیں۔ عمران خان نے جب یہ بیان دیا تو اس کے اوپر ردعمل آنا ضروری تھا لیکن چونکہ انہوں نے مریم نواز کے بیٹے کو بیچ میں انوالو کیا نواز شریف کے نواسے کو انوالو کیا اور تیسری جنریشن تک اپنی جنگ کو لے گئے تو اس کا جواب آنا تھا۔ مریم نواز جو جواب دیا وہ سنئے
" اور وہ تو آج وہاں کی پولو ٹیم کا کیپٹن بن کر پاکستان کی عزت میں اضافہ کر رہا ہے۔ کہتا ہے وہ پوتا پوتا نہیں ہے وہ نواسہ ہے۔ وہ نواسہ باہر جا کر پولو کھیل رہا ہے بچوں کو بھی نہیں بخشتا وہ کہتا ہے اس کے پاس پولو کے پیسے کہاں سے آئے تو میں بچوں تک نہیں جانا چاہتی تھی لیکن جیسی بات کرو گے منہ توڑ جواب ملے گا اب وہ نواز شریف کا نواسہ ہے گولڈ سمتھ کا نواسہ نہیں ہے۔ وہ نواز شریف کا نواسہ ہے یہودیوں کی گود میں نہیں پل رہا۔ کس منہ سے تم نام لیتے ہو"
اس کے اوپر جمائما گولڈ سمتھ کو ظاہر ہے کافی غصہ آیا ہو گا۔ اور جمائما گولڈ سمتھ نے اس کے اوپر ٹویٹ کیا۔ مریم نواز کو انہوں نے کوٹ کیا۔ اور کہا کہ 2004 تک میرے خلاف پاکستان میں ایسی ہی باتیں ہوتی رہیں میرے گھر کے باہر مظاہرے ہوتے رہے اور ہر ہفتے مجھے ڈیتھ تھریٹس ملتی رہیں جس کی وجہ سے میں نے پاکستان چھوڑ دیا بطور صحافی جو کافی عرصہ سے کام کر رہا ہے مجھے اس ٹویٹ پر تھوڑی سی حیرانی ہوئی کیونکہ میں صحیح طریقے سے ری کال نہیں کر پایا۔ کوئی ایسا واضح پیٹرن انسیڈنٹ کا جس کا تعلق ان سالوں سے ہو جس کا جمائما ذکر کر رہی ہیں۔ وہ تو وہ دن تھے جب جنرل پرویز مشرف اور عمران خان کی بہت دوستی تھی۔ وہ تو وہ دن تھے جب جمائما گولڈ سمتھ عمران خان کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کے گھر جا کر کھانے کھایا کرتی تھیں یہ باتیں جنرل پرویز مشرف نے خود ہمیں بتائی ہیں۔ جب یہ طے کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کو چوہدری شجاعت کے ساتھ ملا کر کیسے ملک کا پرائم منسٹر بنانا ہے ایک باری کا نے لینی ہے اور دوسری باری کا کو دینی ہے۔ یہ تمام باتیں اس وقت بریگیڈیئر جنرل راشد قریشی اور عمران خان کے ایک دوست کی موجودگی میں جنرل پرویز مشرف نے خود ہمیں بتائی اور کہا کہ آپ کبھی عمران خان سے جا کر کبھی پوچھئے گا کہ انہوں نے میانوالی سے پہلی مرتبہ انتخاب کا کی مدد سے جیتا وغیرہ وغیرہ لمبی چوڑی وہ باتیں کرتے تھے اس میں تمام تفصیل بتاتے تھے یہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ملک کے اندر ڈکٹیٹر شپ قائم تھی ڈکٹیٹر سے بہت اچھے تعلقات تھے جمائما گولڈ سمتھ کے ساتھ اور عمران خان کے ساتھ بطور کپل اور وہ ان کے گھر میں آتے جاتے تھے اور فیصلے کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ان دنوں میں اس ڈکٹیٹر کی تمام تر طاقتوں کے باوجود کون سے لوگ تھے جو ڈیتھ تھریٹس دے رہے تھے کون لوگ تھے جو مظاہرے کر رہے تھے اور یہ تمام ریکارڈ کہاں پر ہے کچھ انسیڈنٹس میرے ذہن میں ہیں جس پیٹرن کا انہوں نے ذکر کیا کہ اتنی شدید قسم کی صورتحال خراب تھی کہ ان کو ملک چھوڑ کے جانا پڑا۔ وہ ہماری ری کلیکشن میں نہیں ہے۔ وہ انسیڈنٹس کون سے تھے جن کا وہ ذکر کر رہی ہیں بحرحال اس پر مریم نواز نے بھی ٹویٹ کیا وہ بھی آپ کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ مجھے آپ میں اور آپ کی پرائیویٹ زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے میرے پاس اور کام بھی کرنے کو ہیں اچھے لیکن کوئی دوسروں کے بچوں کو گھسیٹا جائے گا تو اس کا ردعمل آئے گا اور ذیادہ سخت ردعمل آ سکتا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ عمران خان کے دو بچوں کی بات نہیں کر رہی تھیں جو بین السطور حوالہ ہے وہ سمجھ جانا چاہیے۔ اس معاملے کو ہم فی الحال پرے رکھتے ہیں۔ اب یہ جنگ چھڑ گئی ہے اس کے بعد میڈیا کے اندر اوپینئن تین طرح سے ڈیوائڈ ہو گئے ہیں ایک ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے بالکل ٹھیک کہا ہے ان کو یہ کہنا چاہیے تھا۔ ان لوگوں کا علاج ہی یہی ہے۔ دوسرے لوگ کہ رہے ہیں کہ کیونکہ آپ نے کہا تھا تو پھر اس کا جواب بھی آنا تھا۔ جواب ابھی مریم نے تحمل سے دیا وہ بہت سی ایسی باتیں کر سکتی تھی جو انہوں نے نہیں کی۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جمائما گولڈ سمتھ نے خود سے اپنے تعصب کا اظہار کیا کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کو اس معاملے میں خود سے چھلانگ نہیں لگانی چاہیے تھی۔ اور معاملے کو طول نہیں دینا چاہئے تھا۔
اب بنیادی بات سوچنے کی یہ ہے ایس ٹی ایچ کے پلیٹ فارم سے کر رہا ہوں میں بات  کہ معاملات کیا یہاں تک جاتے کہ اگر وزیراعظم عمران خان دوسروں کے بچوں اور پوتوں پر حملے نہ کرتے ایس ٹی ایچ کے پلیٹ فارم اور اس سے پہلے بھی میں نے جتنی بھی صحافت کی ہے۔ اور جہاں بھی مجھے موقع ملتا ہے اپنی رائے کے اظہار کا میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جب تک آپ ذاتیات سے نہیں ہٹیں گے تو آپ کی ذات نہیں بچے گی۔اگر آپ دوسروں کی عزتیں اچھالیں گے تو آپ کی عزت بھی محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ جب آپ دوسروں کے بچوں پر حملہ کریں گے تو آپ کے بچوں پر بھی حملے ہوں گے۔اگر آپ طاقت میں رہتے ہوئے دوسروں کے خلاف عجیب و غریب پلانز بنائیں گے اگر طاقت میں رہتے ہوئے یہ کچھ ہو رہا ہے تو اندازہ کریں جب طاقت سے باہر نکلیں گے تو آپ کے ساتھ کیا ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندگان سے بھی میں یہی کچھ کہتا ہوں کہ آج کل جب حملے ہوتے ہیں ان لوگوں پر جو طاقت میں ہیں مگر اب ریٹائر ہو چکے ہیں اس بارے میں سوچنا چاہیے جب وہ لوگ طاقت میں تھے ان لوگوں نے ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا جو ان پر اب حملے کر رہے ہیں۔  آپ نے وشز سائیکل کا آغاز کر دیا ہے جس میں اب کوئی نہیں بچے گا ابھی آپ طاقت میں رہتے ہوئے اپنا دامن نہیں بچا سکتے تو اندازہ کریں کہ جب طاقت چلی جائے گی تو پھر کیا حالت ہو گی ۔
تحمل کا مظاہرہ تو آپ تب کرتے ہیں جب آپ نے تیر پہلے نہیں کھایا ہوتا۔ جب تیر لگ جاتا تب آپ ہاتھ ہولا نہیں رکھتے۔ یہاں تو گھروں تک پہنچ گئے دروازے توڑنے کی کوشش ہوتی دیواریں گرانے کی باتیں بھی کی گئیں مگر پھر کچھ مقتدر حلقوں نے بیچ میں آ کر دیواروں کو تحفظ فراہم کیا۔ جب آپ لوگوں کو گھروں سے نکالتے ہیں دیواریں گراتے ہیں ان کی چادریں کھینچتے ہیں تو پھر ایک آدھ واقعہ اس پر تحمل کرنا بنتا نہیں ہے یہ واقعات کا تسلسل ہے۔ ایک یہ کہ احتساب کے نام پر اتنی گری ہوئی انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کا آخری چیپٹر تحریر کرنے والے نہیں لکھیں گے۔ اس کا آخری چیپٹر وہی لکھیں گے جو وکٹم ہیں وکٹم جب طاقت میں آئیں گے تو اس سے بھی برا حال ہو گا۔تیسری جو بڑی بات ہے کہ جو ہم کر رہے ہیں اس کا ردعمل کتنا آئے گا۔ جس اشو کی بات کر رہے ہیں اس کے کرنے سے سودہ گھاٹے میں تو نہیں چلا جائے گا۔ اگر خان صاحب یہ بات نہ کرتے تو پہلے بھی  تقریریں ہوئیں لیکن اس طرح نہیں ہوا۔ اگر جہانگیر ترین کا بیٹا پی ایس ایل کی ٹیم خرید لے تو کوئی بات نہیں کرتا کہ آپ کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا اور آپ کے والد کیا کرتے تھے۔ پیسہ کس طرح سے بنایا گیا۔ دوسرے منسٹر ز کے بچے بھی اس سے کہیں زیادہ مہنگے شوق رکھتے ہیں کوئی جہاز اڑاتا پھر رہا ہے کوئی کشتی رانی کرتا ہے کوئی ایکسپنسو ہوٹلز میں جا کے چھ چھ ماہ جا کے رہتا ہے کہ جس کے کروائے سے ایک پوری یونین کونسل چلا سکتے ہیں پاکستان میں تین مہینے کیلئے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا جب آپ سلیکٹولی استعمال کرتے ہیں اپنے انتقام کو احتساب کے نام پر تو پھر اس کا جواب بھی آئے گا۔ ہمیں سیکھ لینا چاہیے کہ اگر ہم ذاتی حملوں سے باز نہیں آئے تو پھر کسی کا گھر نہیں بچے گا۔ بچے سب کے ہیں عمران خان کی اولاد ہے موجودہ جو بیگم ہیں ان کے بچے ہیں اور اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ تو ذاتیات پر جائیں گے اور اولادوں کو گھسیٹیں گے تو لوگوں کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہو گا اس تنازعہ میں ہمیں نہیں پڑنا چاہئے۔ تنقید کرتے ہوئے احتیاط کریں تو بات نہیں بڑھے۔ اگر یہ بات ہمیں سمجھ آ گئی تو ٹھیک ہے اگر ہمیں سمجھ نہ آئی تو پھر اینٹ کا جواب پتھر کی صورت میں آئے گا۔

 

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے