آج کا ایس ٹی ایچ

آج کا ایس ٹی ایچ


 

آج کا ایس ٹی ایچ 

20-07-2021

ایک اور گلوبل سکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے لیڈران صحافی، بزنس سے وابستہ لوگوں کے فون ہیک ہو گئے۔ اسرائیلی کمپنی اس میں انوالو ہے۔ جو ایک خاص قسم کا مالوئیر اسے کہتے ہیں یعنی ایک وائرس آپ کے فون میں گھسا دیتی ہے اور اس کے بعد آپ کا فون ہیک ہو جاتا ہے۔
فون ہیک ہونے سے مراد کیا ہے؟
فون ہیک ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ کے فون کے اندر جتنی بھی ایپس یا ڈیٹا ہے وہ تمام کا تمام فون ہیک کرنے والے کے کنٹرول میں چکا جاتا ہے خواہ اس نے وہ وائرس آپ کے فون میں کسی بھی طرح گھسایا ہے۔ اس طرح آپ کی ویڈیوز، فوٹوز، وٹس ایپ میسجز کال ہسٹری، لوکیشن ہسٹری حتیٰ کہ فون میں موجود سب کچھ وہ جان سکتا ہے اور اپنے پاس سٹور رکھ سکتا ہے۔ اس ڈیٹا کو دنیا کی بہت سی حکومتوں نے بھی استعمال کیا ہندوستان بھی اس کے اندر سر فہرست ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے پرانے فونز کو بھی ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ نہیں معلوم نہیں کہ ان فونز میں سے واقعتاً کیا نکالا۔ کیوں کہ بہت سے فونز ہیں جو اس لسٹ میں شامل ہیں جو سامنے آئی اس تحقیق کی بنیاد پر جو دنیا بھر کے اخبارات اور جرائد نے مل کر کی۔ اس پر ہم بعد میں آتے ہیں کیونکہ ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے جب ہم پاکستان میں انڈیپینڈنٹ میڈیا کی بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے تو ملک میں فساد پھیلا دیا ہے اور دنیا کے جو بڑے سکینڈل ہیں جنہیں ہم اپنی فارن پالیسی کیلئے کوٹ کرتے رہتے ہیں وہ انہی اخبارات کے ذریعے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ بحرحال یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے اس پر بعد میں آتا ہوں۔ ایک تو انہوں نے استعمال کیا ہندوستان نے اور اپنے سیاستدانوں اور پولیٹیکل اپوننٹ کے خلاف کہ یہ کیا کر رہے ہیں یہ کدھر جا رہے ہیں کس کے ساتھ ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔ صحافیوں پر استعمال کیا۔ دوسری حکومتوں نے صحافیوں کو ٹریک ڈاؤن کرنے کیلئے استعمال کیا جس کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ صحافیوں کو قتل تک کیا گیا۔ اپنے سیاسی اپوننٹ کو فزیکلی الیمینیٹ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ظاہر ہے آپ کہیں جا رہے ہیں اور آپ کا فون آپ کی لوکیشن دے رہا ہے اور قاتل رستے میں چھپائے گئے ہیں تو ان تک آپ کی معلومات پہنچ سکتی ہیں اور آپ اس طرح پکڑے جا سکتے ہیں۔ یوں باقاعدہ قتل کرنے کیلئے جاسوسی کرنے کیلئے پولیٹکل پلان جاننے کیلئے یہ تمام کام کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی طرف سے جو ہیکنگ ہے پاکستان کی لیڈرشپ اور صحافیوں کے فونز کی یہ بہت ہی سیریس معاملہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا فون چونکہ اس میں انوالو ہے تو فواد چوہدری جو انفارمیشن منسٹر ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس کو ہندوستان کے ساتھ بین الاقوامی لیول پر ٹیک اپ کریں گے اور ٹیک اپ کر کے ہم کیا کہیں گے ان شواہد کو ہم کس طرح کیس میں تبدیل کریں گے  یہ علیحدہ بات ہے مگر یہ خبر بہت بڑی ہے۔ پتا اس سے آپ کو کیا چلتا ہے دنیا میں جو حکومتیں ہیں بالخصوص جو بہت ہی خوف میں مبتلا ہوتی ہیں ان کو بڑا شوق ہے صحافیوں کے بارے میں جاننے کا کہ وہ کس سے بات کر رہے ہیں ان کے فونز ٹیپ کئے جاتے ہیں ان کی کنورسیشن سننے کیلئے ہمیں اس میں حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ ہمارے جس طرح فون ٹیپ ہوتے ہیں ہمیں پتا ہے کہ جو ولنرایبل حکومت ہوتی ہے وہ کیا کرتی ہے باقاعدہ یونٹس پورے لگائے ہوتے ہیں اور اس کے ںشواہد بھی موجود ہیں کہ میسج جانے سے پہلے کہیں پڑھ لیا جاتا ہے اور پھر میسج اس جگہ پہنچتا ہے۔ ہمیں علم نہیں ہے ہمارے یہاں جو فون ٹیپنگ ہوتی ہے اس میں وٹس ایپ شامل ہے یا نہیں ہے بتایا یہی جاتا ہے وٹس ایپ کی جانب سے کہ آپ کی کنورسیشن فلی سیکیورڈ ہے۔ مگر احتیاط کا یہ عالم ہے کہ ہم فوری طور پر اپنے میسجز ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ ہیکنگ ہے اس جو آپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز ٹریش بن میں پڑے ہوئے تو وہ بھی ہیک کئے جا سکتے ہیں اس لئے اپنی ٹریش بن کو بھی فوری طور پر خالی کر دیا کریں۔ بہت ایڈوانس قسم کے ہیکرز ہیں جو جو میسجز ڈیلیٹ کر چکے ہیں اور ٹریش بن کو بھی خالی کر چکے پھر بھی وہ کچھ ٹائم لمٹ میں انہیں بھی ری ٹریو کر لیتے ہیں۔ جو ایک لمبا چوڑا کام ہے۔ یہ عمومی جاسوسی کا مالوئیر ہے جس کو استعمال کیا گیا ہے ریاستی لیول پر جب یہ ہیکنگ کی جاتی ہے تو مودی کی حکومت آگر یہ کام کرتی رہی ہے اور شواہد ہیں کہ کرتی رہی ہے تو واقعتاً ایک بہت بڑا کیس ڈیویلپ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بین الاقوامی طور پر یہ ایک بدترین سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر حکومتیں گر سکتی ہیں اور بین الاقوامی مقدمات بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ بہت اچھا ہو گا کہ اگر پاکستان اس کو پرسو کرے۔ دوسری بات اگر آپ پولیٹیکل اپووننٹس کے اوپر اور جرنلسٹس کے اوپر یہ کام کر رہے ہیں تو ریاستی سائبر دہشتگردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ تو دھیان رکھنا چاہیے کہ جو سائبر لاز ہیں وہ صرف لوگوں پر لاگو نہیں ہوتے صرف بلیک میلرز پر اپلائی نہیں ہوتے یہ قوانین حکومتوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اب یہ شواہد آ گئے ہیں کہ ہندوستان اور دیگر ممالک ان کاموں میں ملوث ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کے پولیٹیکل اپووننٹس اسے کس طرح ٹیک اپ کرتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ دنیا میں جہاں بھی جائیں آزاد صحافت آپ کو زد پر نظر آتی ہے۔ کوئی تاریخ کو ڈاکومنٹ 
نہیں کروانا چاہتا لہذا لوگوں کو رستے سے ہٹانا، ان کے بارے میں جاننا ان کے بارے میں افواہیں پھیلانا ان کا اہم مشغلہ ہوتا ہے۔

آخری میں یہ کہ ستم ظریفی آپ دیکھئے کہ آزاد صحافت کے خلاف جو حکومتیں کام کرتی ہیں وہ آزاد صحافت کے کام کو ہی کوٹ کر کے یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ کرنی زیادتی ہو رہی ہے۔ یہ جو رپورٹس سامنے آئی ہیں ان کی اسیسمنٹ آزاد میڈیا نے کی ہے۔ ان میں متعدد اخبارات شامل ہیں۔ ان اخبارات میں شائع ہونے والی دیگر خبریں یا آرٹیکل جو ہمیں پسند نہیں ہوتے پھر ہم یہ کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ دیکھو جی یہ دو نمبر اخبارات ہیں۔ یہ تو ویسٹرن میڈیا ہے جی اس میں بڑا تعصب ہے وکی لیکس میں جو ہمیں پسند ہے وہ ہم استعمال کرتے ہیں پاناما لیکس جو ہمیں پسند ہے اسے ہم استعمال کرتے ہیں ڈان لیکس جو ہمیں پسند نہیں ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ جو ہمارے مفاد میں ہے اسے ہم سامنے لے آتے ہیں وہ بہترین صحافت بھی ہے اور جو ہمارے کرتوتوں کو بے نقاب کرتے ہیں وہ اچھے نہیں ہے چھپانا چاہئے انہیں ظاہر کرنا ملک دشمنی ہے۔ بحرحال ہمیں خوشی ہے کہ آفیشل بہت متحرک ہوئے ہوئے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ جب ہندوستان دیگر ممالک میں اپنی ٹانگ اڑاتا ہے۔ ان کی جاسوسی کرتا ہے تو دنیا کو پتا چلنا چاہئے کہ ہندوستان کتنا گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔ مگر یہ اتنا سادہ معاملہ بھی نہیں ابھی تو اور لیکس بھی آئیں گی. اس میں ہمارا نام بھی آ سکتا ہے۔ کہیں یہ پھر تعصب والا کام نہ ہو جائے

 آخر میں یہ کہ جو آزاد میڈیا ہے وہی ہی آزاد معلومات آپ کو دے سکتا ہے گورنمنٹ کنٹرولڈ میڈیا آپ کو کبھی نہیں بتائے گا

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے