ن لیگ کا بھگوڑا مشیر
خوراک غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے۔ پی پی پی ضلع استور کے صدر محمد
طارق
استور : پاکستان پیپلزپارٹی استور ضلع استور کے صدر محمد طارق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ن لیگ کا بھگوڑا مشیر خوراک غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے۔ جو مشیر خوراک اسمبلی کے فلور پر دعوے کرتا تھا کہ ان کے حکم کے بغیر محکمہ خوراک میں پتا نہیں ہلتا ہے ان کے محکمے میں نا صرف چوری پکڑی گئی ہے بلکہ ان کے حلقے اور ضلعے میں ہی چوری پکڑی گئی ہے لہذاٰ ایسے نااہل وزیر کو نا صرف وزرات سے بلکہ اپنے علاقے کے عوام کے مفاد کےلیے اسمبلی کی رکنیت سے ہی استعفیٰ دینا چاہیے ۔
ماضی کی باتیں کرنے والے مشیر خوراک اپنے ماضی کو نا بھولے۔ استور کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھتہ خوری اور5 فیصد کمیشن کےلیے ایجنٹ کا کردار کس کس نے ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا ہمارا آج بھی دعویٰ ہے کہ آٹا سمگلنگ میں مشیر خوراک محض 5 فیصد کمیشن کےلیے ایجنٹ کا کردار ادا کررہا ہے اصل سر غنہ اسلام آباد میں بیٹھا ہے جس نے مشیر خوراک کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دلوایا وہی اس گینگ کا سرغنہ اور آٹا سمگلنگ سمیت دیگر غیر قانونی کاموں میں اس گینگ کو تحفظ فراہم کرنے کا درپردہ محرک ہے۔
انہوں نے کہا مشیر خوراک کے غیر قانونی دھندوں سے خود استور کے پی ٹی آئی کے دیرینہ رہنماء اورکارکن بھی باخبر ہیں اس لیے کوئی پی ٹی آئی کا ذمہ دار مشیر خوراک کے حمایت کےلیے سامنے آنے کو تیار نہیں۔ اگر ایف آئی اے جانبداری کے ساتھ تحقیقات کرے تو اس گینگ کے تمام ایجنٹ اور اصل سرغنہ باہر آجائے گا۔ ضلعی صدر نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی استور کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا گریبان اس وقت تک نہیں چھوڑے گی جب تک اصل سر غنہ نا پکڑا جائے۔
دفتری کاروائی کے ذریعے چند ملازمین کو سزاء دے کر عرصہ دراز سے
جاری رہنے والے اس غیر قانونی دھندے کے اصل کرداروں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کامیاب
نہیں ہوگی۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس
حوالے سے اپنے اپنے علاقوں کے فلور ملز کا جائزہ لیں کیونکہ یہ محض ایک فلور مل یا
ایک علاقے کا مسئلہ اس لیے نہیں لگتا کیونکہ اس میں باقاعدہ ایک بہت بڑا اور بااثر
گینگ ملوث ہے اور گذشتہ ایک عرصے سے آٹے کے نام پر ضلع استور کو ہی نہیں بلکہ پورے
گللت بلتستان کو چوکر کھلایا جارہا تھا اور گلگت بلتستان کے عوام کےلیے آیا ہوا
سبسڈائز گندم سے فائن آٹا بناکر سمگلنگ کیا جارہا ہے تھا۔

0 تبصرے