لاہور: تھانہ لوہاری گیٹ کی حدود انارکلی بازار میں بم دھماکا، 3 افراد جاں بحق،متعدد زخمی

 

لاہور: تھانہ لوہاری گیٹ کی حدود انارکلی بازار میں بم دھماکا، 3 افراد جاں بحق،متعدد زخمی

 

لاہور کے تھانہ لوہاری گیٹ کے علاقے نئے انارکلی بازار میں دکانوں کے قریب زور دار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

کمشنر لاہور ڈویژن  نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انارکلی بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

 

زوردار دھماکے کے نتیجے میں بازار میں کھڑی موٹرسائیکلوں کو آگ لگ گئی اور متعدد عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جبکہ قریب موجود نجی بینک کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے  ہی جائے دھماکا پر لاہورپولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کا عملہ فوری طور پر پہنچ گیا۔

 

ریسکیو اداروں اور فائر بریگیڈ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے آگ بجھائی اور جھلس جانے والے افراد کو قریبی  اسپتال منتقل کیا۔

 

اسپتال کے ذرائع  کے مطابق 25 زخمیوں کومیو اسپتال لایا گیا جن میں سے دو شدید زخمی دورانِ علاج دم توڑ گئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ 4 زخمیوں  کی حالت تشویش ناک ہے جن کا آپریشن تھیٹر میں آپریشن جاری ہے اور ان کی جان بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

دھماکے میں کراچی کا بچہ بھی جاں بحق

دھماکے میں جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت 9 سالہ ابصار کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق کراچی سے بتایا گیا ہے۔

 

دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بچے ابصار کے والدین بھی زخمی بتائے جا رہے ہیں۔

 

دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے ایک اور شخص کی شناخت 31 سالہ رمضان کے نام سے ہوئی ہے جو لاہور کا رہائشی ہے۔

 

انارکلی بازار میں ہونے والا یہ دن1 بج کر 45 منٹ 42 سیکنڈ پر ہوا، ھماکے مقام پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کے مطابق 1 بج کر 45 منٹ 42 سیکنڈ پر یہ دھمکا ہوا۔

 

پولیس کی جانب ٹائم ڈیوائس یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بم کے پھٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے حوالے سے ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

 

بم ڈسپوزل اسکواڈ، فرانزک ٹیمیں اور دیگر تفتیشی ماہرین دھماکے کے حوالے سے شواہد حاصل کرنے اور نمونے جمع کرنے کیلئے جائے دھماکہ پر مصروف تفتیش  ہیں۔

 

ریسکیو ذرائع نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ  دھماکے کی جگہ پر ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا بھی پڑ گیا ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے انارکلی بازار میں بم ڈسپوزل اسکواڈ تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق  یہ دھماکادن  1 بج کر 45 منٹ پر ہوا، جس کی نوعیت کا تعین بم ڈسپوزل سکواڈ، پولیس اور فرانزک ٹیمیں کر رہی ہیں۔

 

انہوں نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ تفتیش جاری ہے، دھماکے کی جگہ سیف سٹی سیکیورٹی سسٹم میں کور ہے، ٹیسٹنگ سے معلوم ہوگا کہ دھماکا سلنڈر کا تھا یا دھماکا خیز مواد سے ہوا۔

 

وزیرِ اعظم عمران خان نے لاہور دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ان کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی گئی ہے۔ عمران خان نے پنجاب حکومت سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔


 

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدراور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف  نے انارکلی بازار لوہاری گیٹ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

 

دونوں ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے علیحدہ علیحدہ جاری کیے گئے بیانات میں دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔

 


انہوں نے انار کلی دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر بے حد دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا بھی کی ہے۔


 

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی  انارکلی لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پولیس افسران کی شہادت کے بعد اب لاہور میں دھماکا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی ایک بار پھر قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے، وزیرِ اعظم عمران خان میں وہ اہلیت ہی نہیں کہ کسی بھی بحران کو حل کر سکیں۔

 

مسلم لیگ ق کے رہنما، چوہدری برادران کی جانب سے بھی لاہور کے انارکلی بازار میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔