اومیکرون بظاہرکورونا کی سب سے زیادہ متعدی قسم ہے، اب تک 38 ممالک میں
موجودگی کے شواہد ہیں۔ڈبلیو ایچ او
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی چیف سائنسدان رائٹرز نیکسٹ کانفرنس کے موقع پر
انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون ممکنہ طور پر دنیا بھر
میں ڈیلٹا کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ کیونکہ اومیکرون ڈیلٹا سے بھی زیادہ متعدی محسوس
ہوتی ہے۔ لیکن اس سے بچاؤ کیلئے شاید کسی مختلف ویکسین کی ضرورت نہ ہو۔
دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت تک 38 ممالک میں امیکرون کی تشخیص
ہوئی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت کی کورونا پر ٹیکنیکلی سربراہی کرنے والی ماریہ وان کیرکوف کا
کہنا تھا کہ دنیا کے 38 ممالک میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے کیسز رپورٹ ہوئے
ہیں۔ کورونا کی یہ قسم اب ڈبلیو ایچ او کے تمام خطوں میں پھیل رہا ہے۔
ماریہ وان کیرکوف نے کہا کہ اومیکرون کی متعدی شدت اور ویکسین کے تعین کیلئے
کچھ ہفتے درکار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی سائنسدانوں پر بھروسہ کرنا چاہیے اور خوفزدہ بالکل
نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے بتایا کہ اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے۔
لیکن اس کی واضح تصویر سامنے آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ طلباء کی جانب سے آنے والی رپورٹس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ
نوجوانوں میں اس ویریئنٹ کے پھیلنے کی شرح بہت کم ہے۔
ماریہ وان کے مطابق اومیکرون مسافروں میں زیادہ پایا جا رہا ہے۔ جن مسافروں
میں اس کی علامات پائی جائیں گی انہیں جہازوں میں سفر کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے
گی۔
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کو اومیکرون کے حوالے سے رپورٹ 24 نومبر کو جنوبی
افریقہ سے موصول ہوئی تھی۔جہاں سے ایک معروف لیبارٹری نے تصدیق کی تھی کہ یہ 9
نومبر کو لئے گئے نمونوں میں سے ملی ہے۔
ماریہ وان نے کہا کہ اس ویریئنٹ کی تصدیق نومبر کے نمونوں سے ہوئی ہے لیکن ہو
سکتا ہے کہ نومبر سے قبل بھی جنوبی افریقہ
سے باہر یہ موجود ہو ۔
گذشتہ 60 روز میں حاصل کئے گئے نمونوں
میں سے 99.8 فیصد میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔

0 تبصرے